تم وفا کا عوض جفا سمجھے
تم وفا کا عوض جفا سمجھے اے بتو تم سے بس خدا سمجھے پان کھا کر جو آئے مقتل میں کیا شہیدوں کا خون بہا سمجھے سر قلم کرنے کا تھا خط میں جو حال اس کا مضمون ہم جدا سمجھے کب وہ تلووں سے آنکھیں ملنے دے جو کہ مژگاں کو خار پا سمجھے ہو گیا جب قلم ہمارا سر اپنی قسمت کا تب لکھا سمجھے دوڑے کیا ...