قومی زبان

تم وفا کا عوض جفا سمجھے

تم وفا کا عوض جفا سمجھے اے بتو تم سے بس خدا سمجھے پان کھا کر جو آئے مقتل میں کیا شہیدوں کا خون بہا سمجھے سر قلم کرنے کا تھا خط میں جو حال اس کا مضمون ہم جدا سمجھے کب وہ تلووں سے آنکھیں ملنے دے جو کہ مژگاں کو خار پا سمجھے ہو گیا جب قلم ہمارا سر اپنی قسمت کا تب لکھا سمجھے دوڑے کیا ...

مزید پڑھیے

کیوں کر نہ خوش ہو سر مرا لٹکا کے دار میں

کیوں کر نہ خوش ہو سر مرا لٹکا کے دار میں کیا پھل لگا ہے نخل تمنائے یار میں چاہا بہت ولی نہ موا ہجر یار میں محبوب کیا اجل بھی نہیں اختیار میں موباف سرخ کیوں نہ ہو گیسوئے یار میں شبخون یعنی لاتے ہیں شبہائے تار میں موباف ہے کنارے کا زلف نگار میں یا برف کوندتی ہے یہ ابر بہار ...

مزید پڑھیے

کس قدر مجھ کو ناتوانی ہے

کس قدر مجھ کو ناتوانی ہے بار سر سے بھی سرگرانی ہے چشم تر سے جو خوں فشانی ہے ناوک عشق کی نشانی ہے سارے قرآن سے اس پری رو کو یاد اک لفظ لن ترانی ہے جب ہوا رتبۂ فنا فی اللہ غم نہیں گر جہان فانی ہے ہے ہر اک شعر یار کی تصویر فکر اپنی خیال مانی ہے کیوں نہ ہوں عاشق لب جاناں چشمۂ آب ...

مزید پڑھیے

جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہے

جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہے یہ کہیے لن ترانی اب کہاں ہے جو پہنچے ہاتھ زنجیروں کو توڑیں گرچہ پاؤں اپنا درمیاں ہے چمک لعل بدخشاں کی مٹا دے ترے ہونٹوں پہ ایسا رنگ پاں ہے تجھے کہتا ہوں سن او وحشت دل وہاں لے چل جہاں وہ دل ستاں ہے وہ ہوں نازک مزاج اے ہم صفیرو رگ گل مجھ کو خار آشیاں ...

مزید پڑھیے

لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے

لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے آج عیسیٰ سے یہ بیمار جدا ہوتا ہے زلف کو دست حنائی سے جو چھوتا ہے وہ شوخ تو گرفتار وہیں درد حنا ہوتا ہے تھا گرفتار شب و روز نگہبانی میں ہم جو اب چھوٹیں ہیں صیاد رہا ہوتا ہے پھر بہار آتی ہے اے خار بیاباں خوش ہو آج کل پھر گزر آبلہ پا ہوتا ہے مر گئے ...

مزید پڑھیے

منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوں

منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوں اک پردہ نشیں کا مبتلا ہوں کیا ہجر میں ناتواں ہوا ہوں تنکا نہ اٹھے وہ کہربا ہوں تیری سی نہ بو کسی میں پائی سارے پھولوں کو سونگھتا ہوں بلبل ہے چمن میں ایک ہم درد میں بھی کسی گل کا مبتلا ہوں آئینہ ہے جسم صاف اس کا کیونکر نہ کہے میں خود نما ہوں کہتا ...

مزید پڑھیے

نیم بسمل کی کیا ادا ہے یہ

نیم بسمل کی کیا ادا ہے یہ عاشقو لوٹنے کی جا ہے یہ شب وصل صنم ولا ہے یہ بوسے ہونٹوں کی لے مزا ہے یہ دل کو کیوں پائمال کرتے ہو نہ تو سبزہ ہی نہ حنا ہے یہ کاٹ کر سر لگائیے ٹھوکر قتل عاشق کا خوں بہا ہے یہ دود دل کیوں نہ رشک سنبل ہو آتش حسن سے جلا ہے یہ زلف میں کیوں نہ دل رہے ...

مزید پڑھیے

کیا ہیں شیدائے قد یار درخت

کیا ہیں شیدائے قد یار درخت ہیں جو شبنم سے اشک بار درخت دیکھیں گر سرو قد یار درخت خاک پر لوٹیں سایہ دار درخت اشک بار ان پہ ہیں جو مرغ چمن پہنے ہیں موتیوں کا ہار درخت سرکشی کی ہے کیا ترے قد سے کاٹے جاتے ہیں بے شمار درخت کیا ترے قد سے دوں مثال اسے کہ ہے انگشت زینہار درخت ترے جلوے ...

مزید پڑھیے

کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پر

کھول دی ہے زلف کس نے پھول سے رخسار پر چھا گئی کالی گھٹا سی آن کر گلزار پر کیا ہی افشاں ہے جبین و ابروئے خم دار پر ہے چراغاں آج کعبے کے در و دیوار پر نقش پا پنج شاخہ قبر پر روشن کرو مر گیا ہوں میں تمہاری گرمیٔ رفتار پر چشم بد دور آج ہے یہ کون گل رو جھانکتا چشم نرگس کا ہے عالم روزن ...

مزید پڑھیے

الفت یہ چھپائیں ہم کسی کی

الفت یہ چھپائیں ہم کسی کی دل سے بھی کہیں نہ اپنی جی کی جانے وہ کیا کسی کی جی کی جس کو الفت نہ ہو کسی کی خواہش نہ بر آئی اپنی جی کی ہم نے کس کس کی دوستی کی اچھی نہیں شرح عاشقی کی پوچھو نہ اجی کسی کی جی کی یہ روئے کہ نامہ بہہ کے پہنچا اشکوں نے ہمارے قاصدی کی سرخی مگر اس کے لب کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4090 سے 6203