قومی زبان

خدا کے واسطے اک بار تو چلے آؤ (ردیف .. ی)

خدا کے واسطے اک بار تو چلے آؤ تمہاری راہ میں آنکھیں بچھا رہا ہے کوئی میں جام کیسے اٹھاؤں بھلا اے بادہ کشو نگاہ ناز سے مجھ کو پلا رہا ہے کوئی گلوں پہ قطرۂ شبنم نہیں حقیقت میں کسی کی یاد میں آنسو بہا رہا ہے کوئی چلو وہیں پہ ابھی جا کے ہم بھی بس جائیں سنا ہے پیار کی دنیا بسا رہا ہے ...

مزید پڑھیے

بیتے دن جب بھی یاد آتے ہیں

بیتے دن جب بھی یاد آتے ہیں اشک پلکوں پہ جھلملاتے ہیں تیری یادوں کے چاند تاروں سے شب فرقت کو ہم سجاتے ہیں حال فصل بہار مت پوچھو پھول کانٹوں میں منہ چھپاتے ہیں تم جو کہتے ہو صرف کہتے ہو ہم جو کہتے ہیں کر دکھاتے ہیں ہم کہ فتنہ فساد کی باتیں جہاں سنتے ہیں بھول جاتے ہیں وہی تقسیم ...

مزید پڑھیے

اشک پینا پڑا غم چھپانا پڑا

اشک پینا پڑا غم چھپانا پڑا تم سے مل کر ہمیں مسکرانا پڑا ہو کے نادم وہ ملنے کو جب آ گئے سارا شکوہ گلہ بھول جانا پڑا آ کے دہلیز پر مجھ سے خوددار کی مال و زر کو ترے سر جھکانا پڑا جھک گئے سر سبھی کے تو آخر مجھے پیش تیغ ستم سر اٹھانا پڑا کھیل دل کا بھی زخمیؔ عجب کھیل ہے جیت کر بھی ...

مزید پڑھیے

یارب یہ کیسا آج کا انسان ہو گیا

یارب یہ کیسا آج کا انسان ہو گیا تخلیق کر کے تو بھی پشیمان ہو گیا موسم بہار کا تھا خزاں جلد آ گئی ہنستا ہوا چمن مرا ویران ہو گیا لوٹا ہے جس نے شہر کے صبر و قرار کو وہ شخص میرے شہر کا پردھان ہو گیا ایسے نئے چلن کی چلیں آندھیاں یہاں انسان اپنی ذات میں حیوان ہو گیا چاہا تھا میں نے ...

مزید پڑھیے

ہرے شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دو

ہرے شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دو زمیں کے جسم پہ کوئی لباس رہنے دو میں زندگی کی کڑی دھوپ میں اکیلا ہوں فریب ابر مرے آس پاس رہنے دو اذیتیں ہی محبت کی روح ہوتی ہیں مرے وجود میں اتنی سی آس رہنے دو کوئی کرن مری امید کی نہیں باقی مرے خیالوں میں تصویر یاس رہنے دو ہماری پیاس کبھی تو ...

مزید پڑھیے

پرندے ہم کو پیڑوں پر دکھائی کیوں نہیں دیتے

پرندے ہم کو پیڑوں پر دکھائی کیوں نہیں دیتے کسی بھی شاخ پر اب گھر دکھائی کیوں نہیں دیتے نہ تتلی ہے نہ شبنم ہے نہ کلیاں ہیں نہ غنچے ہیں بہاروں کے بھلا منظر دکھائی کیوں نہیں دیتے ستارے سو رہے ہیں آسماں کو گود میں تھک کر مجھے اب چاند کے منظر دکھائی کیوں نہیں دیتے جہاں امن و اماں کی ...

مزید پڑھیے

وہ دوشیزہ مہک جب سے اڑی ہے

وہ دوشیزہ مہک جب سے اڑی ہے فضاؤں میں محبت گھل گئی ہے اثر اس کی کسی جنبش کا ہے یہ جو ہر ذرے میں پھیلی روشنی ہے نہیں ہے جس جگہ تہذیب کا رنگ وہاں بس تیرگی ہی تیرگی ہے کہ ہم جھوٹے کو سچا مان بیٹھے یہ لفاظی کی ہی جادوگری ہے کہاں ہوتا کبھی کوئی مکمل سبھی میں کچھ نہ کچھ یارو کمی ...

مزید پڑھیے

خواب کہاں سے ٹوٹا ہے تعبیر سے پوچھتے ہیں

خواب کہاں سے ٹوٹا ہے تعبیر سے پوچھتے ہیں قیدی سب کچھ بھول گیا زنجیر سے پوچھتے ہیں جام جم لایا ہے گھر گھر دنیا کے حالات دل کی باتیں ہم تیری تصویر سے پوچھتے ہیں دنیا کب کروٹ بدلے گی کب جاگیں گے شہر کیسی باتیں سوئے ہوئے ضمیر سے پوچھتے ہیں ہم سے نہ پوچھو کس جذبے نے تمہیں کیا ...

مزید پڑھیے

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے خار چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گیلے تھے شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پیلے تھے سرد ہواؤں سے تو تھے ساحل کے ریت کے یارانے لو کے تھپیڑے سہنے والے صحراؤں کے ٹیلے تھے تابندہ تاروں کا ...

مزید پڑھیے

کچھ بے ترتیب ستاروں کو پلکوں نے کیا تسخیر تو کیا

کچھ بے ترتیب ستاروں کو پلکوں نے کیا تسخیر تو کیا وہ شخص نظر بھر رک نہ سکا احساس تھا دامن گیر تو کیا کچھ بنتے مٹتے دائرے سے اک شکل ہزاروں تصویریں سب نقش و نگار عروج پہ تھے آنکھیں تھیں زوال پذیر تو کیا خوش ہوں کہ کسی کی محفل میں ارزاں تھی متاع بیداری اب آنکھیں ہیں بے خواب تو کیا اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4084 سے 6203