قومی زبان

وقت سے ہم گلہ نہیں کرتے

وقت سے ہم گلہ نہیں کرتے کام کوئی برا نہیں کرتے اشک بھی ہوں رخ تبسم پر زندگی یوں جیا نہیں کرتے حسن والو ذرا بتاؤ نا کیوں کسی سے وفا نہیں کرتے کچھ تو پاتے ہی ہوں گے پروانے بے وجہ ہی جلا نہیں کرتے دل ہے یارا کوئی مکان نہیں ہر کسی کو دیا نہیں کرتے عشق کی ابتدا ہے تم سے اگر مجھ پہ ...

مزید پڑھیے

محبت کا جسے سودا ہوا ہے

محبت کا جسے سودا ہوا ہے نہ جانے کیا سے کیا وہ ہو گیا ہے ترا دیوانہ منزل پا گیا ہے جنون عاشقی کام آ گیا ہے کہیں بھی دل نہیں لگتا ہمارا نہ جانے ہم کو یہ کیا ہو گیا ہے زمانے بھر کی خوشیوں کا ہے حامل وہ غم جو تیری الفت نے دیا ہے مٹا کر اپنی خوشیوں کی بہاریں ترے دامن کو خوشیوں سے بھرا ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی بیمار ہو کر رہ گئی

ہر گھڑی بیمار ہو کر رہ گئی زندگی بے کار ہو کر رہ گئی وہ محبت جو خوشی کی روح تھی چشمہ‌ٔ آزار ہو کر رہ گئی زندگی کے اس سفر میں ہر روش اک رہ‌ دشوار ہو کر رہ گئی شمع بن کر جل گئی میری حیات شعلۂ گلنار ہو کر رہ گئی لکھ رہے یہ عشق کی ہم داستاں درد کا شہکار ہو کر رہ گئی کر سکوں پرواز ...

مزید پڑھیے

یاس کی بدلی یوں دل پر چھا گئی

یاس کی بدلی یوں دل پر چھا گئی زندگی سے زندگی اکتا گئی رنج و غم تو پہلے ہی کچھ کم نہ تھے یاد تیری کیوں ہمیں تڑپا گئی آپ نے تو جھوٹا وعدہ کر دیا جان مٹھی میں ہماری آ گئی زندگی یہ دیکھ کر اس کے ستم موت بھی انسان سے گھبرا گئی دیکھ کر اس دور کی عیاریاں کانپ اٹھا دل نظر تھرا گئی سر ...

مزید پڑھیے

آتے ہی جوانی کے لی حسن نے انگڑائی

آتے ہی جوانی کے لی حسن نے انگڑائی اس سمت گری بجلی اس سمت قضا آئی جس سمت سے گزرا ہوں آواز یہی آئی دیوانہ ہے دیوانہ سودائی ہے سودائی بھولے ہی سے آ جاؤ مہکی ہوئی راتیں ہیں برسات کا موسم ہے ڈستی ہوئی تنہائی سچائی کے دیوانے چڑھتے ہیں صلیبوں پر صدیوں سے زمانے میں یہ رسم چلی ...

مزید پڑھیے

ایک ذاتی نظم

میں اکثر دیکھنے جاتا تھا اس کو جس کی ماں مرتی اور اپنے دل میں کہتا تھا یہ کیسا شخص؟ ہے اب بھی جیے جاتا ہے آخر کون اس کے گھر میں ہے جس کے لیے یہ سختیاں سہتا ہے تکلیفیں اٹھاتا ہے تھکن دن کی سمیٹے شب کو گھر جانے پہ کون اس کے لیے دہلیز پر بیٹھا۔۔۔ دعا کی مشعلیں دل میں جلائے۔۔۔ دیدۂ بے ...

مزید پڑھیے

کہف القحط

پیربخش بلڈنگ سے پیربخش کے مرقد تک اپنی ہی بخشش کی دعاؤں کے کرب زار سے گزر کر آنے والی سر پر گزشتہ ماہ و سال کے کتنے ہی تھال اٹھائے آج بھی ایک قبر گم گشتہ کا نشاں اور اپنے معدوم کل کے لیے خطۂ اماں ایک ساتھ ڈھونڈ رہی ہے اس کے ننگے تلووں سے چھونے والی تپش کی لہر لہر اسے اپنے کھلونوں سے ...

مزید پڑھیے

اونچے درجے کا سیلاب

زمیں کا حسن سبزہ ہے مگر اب سبز پتے زرد ہو کر جھڑتے جاتے ہیں بہاریں دیر سے آتی ہیں جگنو ہے نہ تتلی ۔۔۔خوشبوؤں سے رنگ روٹھے ہیں جہاں جنگل ہوا کرتے تھے اور بارش دھنک لے کر اترتی تھی جہاں برسات میں کوئل، پپیہے چہچہاتے تھے وہاں اب خاک اڑتی ہے درختوں کی کمی سے آ گئی ہے دھوپ میں شدت فضا ...

مزید پڑھیے

تضاد

یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہے حسین اس میں خط کربلا بناتا ہے یزید موسم عصیاں کا لا علاج مرض حسین خاک سے خاک شفا بناتا ہے یزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیاد حسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہے یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گم حسین سر پہ پہن کے ردا بناتا ہے یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن ...

مزید پڑھیے

نادان کچھ نہیں ہے ترے اختیار میں

نادان کچھ نہیں ہے ترے اختیار میں ہر چیز تو ہے قبضۂ پروردگار میں اس دور میں وفا کی حقیقت میں کیا کہوں جیسے سراب آئے نظر ریگزار میں ہے وقت کا تقاضا رہیں اتفاق سے افسوس مبتلا ہوئے ہم انتشار میں دشمن پہ وقت آئے تو میں انتقام لوں شامل نہیں ہے دوستو میرے شعار میں اہل چمن تو شاد ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4083 سے 6203