قومی زبان

سوئے ہوئے جذبوں کو جگانا ہی نہیں تھا

سوئے ہوئے جذبوں کو جگانا ہی نہیں تھا اے دل وہ محبت کا زمانہ ہی نہیں تھا مہکے تھے چراغ اور دہک اٹھی تھیں کلیاں گو سب کو خبر تھی اسے آنا ہی نہیں تھا دیوار پہ وعدوں کی امر بیل چڑھا دی رخصت کے لیے اور بہانہ ہی نہیں تھا اڑتی ہوئی چنگاریاں سونے نہیں دیتیں روٹھے ہوئے اس خط کو جلانا ہی ...

مزید پڑھیے

سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا

سینہ مدفن بن جاتا ہے جیتے جاگتے رازوں کا جانچنا زخموں کی گہرائی کام نہیں اندازوں کا ساری چابیاں میرے حوالے کیں اور اس نے اتنا کہا آٹھوں پہر حفاظت کرنا شہر ہے نو دروازوں کا سامنے کی آواز سے میرے ہر اک رابطے میں حائل دائیں بائیں پھیلا لشکر انجانی آوازوں کا آنکھیں آگے بڑھنا ...

مزید پڑھیے

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے اک خواب نما بیداری میں جاتے ہوئے اس کو دیکھا تھا احساس کی لہروں میں اب تک حیرت کا سفینہ بہتا ہے پھر جسم کے منظر نامے میں سوئے ہوئے رنگ نہ جاگ اٹھیں اس خوف سے وہ پوشاک نہیں بس خواب ...

مزید پڑھیے

لب پہ سرخی کی جگہ جو مسکراہٹ مل رہے ہیں

لب پہ سرخی کی جگہ جو مسکراہٹ مل رہے ہیں حسرتوں کا بوجھ شانوں پر اٹھا کر چل رہے ہیں زندگی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں کسی سے خوف و خواہش کے یہ پیکر نیند میں بھی چل رہے ہیں دل میں خیمہ زن اندھیرو کتنی جلدی میں ہے سورج جسم تک جاگے نہیں ہیں اور سائے ڈھل رہے ہیں میرے قصے میں اچانک ...

مزید پڑھیے

پھر تو اس بے نام سفر میں کچھ بھی نہ اپنے پاس رہا

پھر تو اس بے نام سفر میں کچھ بھی نہ اپنے پاس رہا تیری سمت چلا ہوں جب تک سمتوں کا احساس رہا تیری گلی میں ٹوٹ گئے سب جرم و سزا کے پیمانے ایک تبسم دیکھنے والا ساری عمر اداس رہا گلچیں کے چہرے کی رنگت روز بدلتی رہتی تھی رنج و خوشی کے ہر موسم میں پھول کا ایک لباس رہا جن کی درد بھری ...

مزید پڑھیے

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا

محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا جدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل! ادھر لے جا سجی ہے بزم شبنم تو تبسم کام آئے گا تعارف پھول کا درپیش ہے تو چشم تر لے جا اندھیرے میں گیا وہ روشنی میں لوٹ آئے گا دیا جو دل میں جلتا ہے اسی کو بام پر لے جا اڑانوں آسمانوں آشیانوں کے لیے طائر! یہ پر ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

دعا اور بد دعا کے درمیاں

دعا اور بد دعا کے درمیاں جب رابطے کا پل نہیں ٹوٹا تو میں کس طرح پہنچا بددعائیں دینے والوں میں میں ان کی ہمنوائی پر ہوا مامور ہم آواز ہوں ان کا کہ جن کے نامۂ اعمال میں ان بد دعاؤں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کے کہے پر آج تک بادل نہیں برسے کبھی موسم نہیں بدلے کوئی طوفاں، کوئی سیلاب ان کی ...

مزید پڑھیے

’’اٹلانٹک سٹی‘‘

زمین نور و نغمہ پر خدائے رنگ کے بکھرے ہوئے جلووں کو پہچانیں اسے سمجھیں۔ اسے جانیں یقیں آ جائے تو مانیں یہاں تو کہکشاں مٹھی میں ہے لعل و جواہر پیرہن پر ہیں شعاعوں کے کئی دھبے ہر اک اجلے بدن پر ہیں یہاں رنگیں مشینیں دائروں میں جھک کے ملتی ہیں کسی سے روٹھ جاتے ہیں کسی کے ساتھ چلتے ...

مزید پڑھیے

زندگی

زندگی اتنی سادہ بھی نہیں کہ ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سیٹ اس کے رنگوں کا احاطہ کر سکے مگر رنگین سیٹ بھی تو شاعرانہ مبالغے سے کام لیتے ہیں ہو سکتا ہے پیکٹ بھر حیات میں سات پیکٹ رنگ انڈیلنے والوں کی حقیقی زندگی یہی ہو روح اور ضمیر کی عمر بھر کی کمائی سیاہ رنگ کی پڑیا ہے کسی فاحشہ کے ...

مزید پڑھیے

سمیتا پاٹل

دل کے مندر میں خوشبو ہے لوبان کی، گھنٹیاں بج اٹھیں، دیو داسی تھی وہ کتنے سرکش اندھیروں میں جلتی رہی دیکھنے میں تو مشعل ذرا سی تھی وہ نور و نغمہ کی رم جھم پھواروں تلے مسکراتی ہوئی اک اداسی تھی وہ پانیوں کی فراوانیوں میں رواں اس کی حیرانیاں کتنی پیاسی تھی وہ حسن انساں سے فطرت کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4085 سے 6203