قومی زبان

مری آہ و فغاں کچھ بھی نہیں ہے

مری آہ و فغاں کچھ بھی نہیں ہے جلے دل کا دھواں کچھ بھی نہیں ہے نہ تڑپایا کسی ظالم کو اس نے مری طرز بیاں کچھ بھی نہیں ہے جہاں ہو بجلیوں کا خوف پیہم سکون آشیاں کچھ بھی نہیں ہے ہر اک شے بن گئی شیشہ کی مانند اب اپنے درمیاں کچھ بھی نہیں ہے خدا گو ذرہ ذرہ سے عیاں ہے مگر ذرہ یہاں کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

جب ملی ان سے نظر مٹنے کا ساماں ہو گیا

جب ملی ان سے نظر مٹنے کا ساماں ہو گیا اے قضا خوش ہو ترا اب کام آساں ہو گیا دل ربا معلوم ہوتی ہیں مجھے تنہائیاں نقش ہر شے کا مجھے تصویر جاناں ہو گیا میری خواہش تھی کہ لوٹوں لذت دنیا مگر وسعت حرص و ہوا سے تنگ داماں ہو گیا بڑھ رہی ہیں قیمتیں ہر چیز کی بازار میں ایک ایسا غم ہے جو اب ...

مزید پڑھیے

کاش مجھ سے بھی روشنی نکلے

کاش مجھ سے بھی روشنی نکلے میرے دامن سے کچھ کمی نکلے عاشقی ہو یا بندگی کے پل اپنے لہجے سے شاعری نکلے یوں بھی ہوتا ہے درد کی حد میں زرد آنکھوں سے کچھ نمی نکلے بات کچھ تلخ ہو یا میٹھی سی اس زباں سے سہی سہی نکلے سامنے آپ ہوں یہی خواہش جسم سے جان جب کبھی نکلے صرف مسکان دل تلک ...

مزید پڑھیے

جدھر دیکھتا ہوں نظارہ ترا ہے

جدھر دیکھتا ہوں نظارہ ترا ہے اثر بندگی کا ہے یا معجزہ ہے ورق زندگی کے پلٹتے ہیں جب جب میں حیرت سے دیکھوں کہ کیا کیا لکھا ہے یہ موجیں یہ ساحل یہ کشتی یہ دریا نہ جانے کہاں ناخدا لاپتہ ہے وہی موڑ ہیں اور وہی رہ گزر بھی غضب یہ ہے کہ ہر مسافر نیا ہے لگاتے رہو لاکھ چہرے پہ چہرے مگر ...

مزید پڑھیے

یہ محبت بھی اک سزا تو ہے

یہ محبت بھی اک سزا تو ہے دل معصوم کی خطا تو ہے شکر ہے گھر میں آئینہ تو ہے گفتگو کے لئے خلا تو ہے عشق کے آسماں پہ جا پہنچا لگ گئی ہے اسے ہوا تو ہے زخم مل بھی گئے تو کیا غم ہے تیرا ہونا بھی اک دوا تو ہے جب لبوں پر ہنسی نمایاں ہو سمجھو پیچھے کوئی دعا تو ہے فاصلے یوں نہیں ہوا ...

مزید پڑھیے

پی کر شراب بزم میں پھر آئیے ذرا

پی کر شراب بزم میں پھر آئیے ذرا ہے مے کشی میں ہوش بھی بتلائیے ذرا یوں پڑھ رکھے ہیں ہم نے تو کتنے ہی فیصلے دل کی عبارتوں کو بھی پڑھوائیے ذرا مجھ سا نہیں ملے گا تمہیں یار پھر کہیں چاہیں تو گھوم کر یہ جہاں آئیے ذرا اچھی نہیں ہے بے رخی مجھ سے یوں آپ کی آ کر قریب سے ہی گزر جائیے ...

مزید پڑھیے

یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں جہاں دیکھوں میں کیا دیکھوں

یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں جہاں دیکھوں میں کیا دیکھوں کبھی خود میں تجھے دیکھوں کبھی تجھ میں خدا دیکھوں غرض خود سے نہیں کوئی نہ چاہت ہے زمانے کی کہاں ہستی مری پھر جو تجھے خود سے جدا دیکھوں محبت کی نظر میں یار لکھی ہو محبت بس کبھی دیکھوں میں خود کو تو کبھی اس کی وفا دیکھوں نئی منزل ...

مزید پڑھیے

خواب ٹوٹا سحر کے ہوتے ہی

خواب ٹوٹا سحر کے ہوتے ہی رہ گئے ہم یوں ہاتھ ملتے ہی اب کے سیلاب بھی بہے شاید ابر برسیں گے یاد کرتے ہی بارہا دل کو صاف کر دیکھا پھر سے ابھرا ہے عکس دھلتے ہی بن گیا ہے چمن وہ صحرا اب اس کے بوسوں کے لمس ملتے ہی گیت اب حرف سب بنے موتی آنسوؤں کے غزل میں ڈھلتے ہی

مزید پڑھیے

مرے پر نہ باندھو

پروں کو مرے تم نہ ریشم کی ڈوری سے باندھو نہ کاٹو انہیں تم کہ مجھ کو بھی اڑنے دو اونچی اڑان میں تتلی ہوں ایسی کہ جس کے پروں سے چمکتی جھمکتی ہیں رنگوں کی موجیں یہ موجیں مری راہ کی مشعلیں بن گئی ہیں مٹائیں گی جو تیری میری تیرہ شبوں کی دھندلکے مٹائیں گی صبحوں کے میری پروں کو مرے تم نہ ...

مزید پڑھیے

کاوش بے سود

جب سارا منظر دیکھ چکے تو خوابوں میں کھو جانا کیا مرے من کا پنچھی پاگل ہے جو اب بھی رستہ دیکھتا ہے مرے دل کا بچہ ضدی بچہ آس لگائے جیتا ہے اس من کو میں سمجھاؤں کیا جو رستہ تیرا رستہ نہیں اب اس رستے پر جانا کیا جو منزل، منزل تیری نہیں اب اس کا کھوج لگانا کیا لیکن میرے دل کا بچہ ضدی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4082 سے 6203