قومی زبان

نہ پھیر یوں نگاہ تو کرم ذرا سا رہنے دے

نہ پھیر یوں نگاہ تو کرم ذرا سا رہنے دے ہمارا رشتہ ہے ابھی بھرم ذرا سا رہنے دے بچھڑنے کی وجہ تھی کیا یہ بھول جاتے ہیں مگر جو اس کے ساتھ ہے جڑا وہ غم ذرا سا رہنے دے تیری خوشی کے واسطے میں سو سو بار مر مٹوں تو اس جنون عشق کو صنم ذرا سا رہنے دے تو جا رہا ہے چھوڑ کے تو جا یہ ہے خوشی ...

مزید پڑھیے

یوں ترقی کا ہمیں سپنا دکھایا جا رہا ہے

یوں ترقی کا ہمیں سپنا دکھایا جا رہا ہے گاؤں چپکے سے امیروں کو لٹایا جا رہا ہے آج ہر آواز کو ایسے دبایا جا رہا ہے کہہ کے دہشت گرد ہیں خطرہ بتایا جا رہا ہے ہم بہت خوش ہیں ہمارے گاؤں تم رہنے دو ایسے شہر ان کو کیوں زبردستی بنایا جا رہا ہے ہندو مسلم سکھ عیسائی برسوں سے ہیں ساتھ ...

مزید پڑھیے

کسی پتھر کو چاہا ہے یہ دل کیسا دوانا ہے

کسی پتھر کو چاہا ہے یہ دل کیسا دوانا ہے محبت ہے اسے اس سے جسے چاہے زمانہ ہے کروں آنکھیں جو اپنی بند دکھ چہرہ وہ جاتا ہے نہ چھوٹے گا کبھی مر کے بھی یہ رشتہ پرانا ہے میرے مرنے کے ہیں جھگڑے تو مجھ کو مر ہی جانے دو میری ہی غلطی ہے ساری یہی اس کا بہانہ ہے دو موتی دیکھے ہیں میں نے ...

مزید پڑھیے

دل سے دل کا راستہ بھی آزمانا چاہیے

دل سے دل کا راستہ بھی آزمانا چاہیے روٹھ جائے کوئی تو اس کو منانا چاہیے بعد مدت کے وہ مل جائے کسی محفل میں تو حال اپنا بھی اسے پھر کچھ سنانا چاہیے زندگی جب چھیڑ دیتی ہے غلط دھن کوئی بھی بحر یا پھر قافیہ اس میں لگانا چاہیے یوں تو آندھی میں دیا روشن رہے ممکن نہیں کچھ محبت کے ...

مزید پڑھیے

جو کبھی اپنے تھے وہ ہوئے دور ہیں

جو کبھی اپنے تھے وہ ہوئے دور ہیں ہم بھی تھک ہار کے ہو گئے چور ہیں خوب چرچے ہیں اب اپنے بھی غیروں میں کل جو بدنام تھے آج مشہور ہیں اوروں سے کرتے ہیں ہنس کے وہ بات یوں کس کی آنکھوں کے وہ بن گئے نور ہیں زندہ دل بن گزاری ہے یہ زندگی جو ہوا پیار تو کیسے مجبور ہیں کس کے وعدے پہ ہم نے ...

مزید پڑھیے

کسی پتھر کو چاہا ہے یہ دل کیسا دوانہ ہے

کسی پتھر کو چاہا ہے یہ دل کیسا دوانہ ہے محبت ہے اسے اس سے جسے چاہے زمانا ہے کروں آنکھیں جو اپنی بند دکھ چہرہ وہ جاتا ہے کبھی چھوٹے گا نہ مر کے بھی یہ رشتہ پرانا ہے مرے مرنے کے ہیں جھگڑے تو مجھ کو مر ہی جانے دو مری ہی غلطی ہے ساری تمہارا یہ بہانا ہے دو موتی دیکھے ہیں میں نے بچھڑتے ...

مزید پڑھیے

کہنے سننے کا عجب دونوں طرف جوش رہا

کہنے سننے کا عجب دونوں طرف جوش رہا شہر کی باتوں پہ صحرا ہمہ تن گوش رہا آنکھوں آنکھوں میں وضاحت سے ہوا کیں باتیں چپ نہ محفل میں وہ بیٹھا نہ میں خاموش رہا رکھ دیا وقت نے آئینہ بنا کر مجھ کو رو بہ رو ہوتے ہوئے بھی میں فراموش رہا مدتوں بعد نقاب اس نے اٹھائی رخ سے سر بسر شعلہ وہ نکلا ...

مزید پڑھیے

ابل پڑا یک بیک سمندر تو میں نے دیکھا

ابل پڑا یک بیک سمندر تو میں نے دیکھا کھلا جو راز سکوت لب پر تو میں نے دیکھا اتر گیا رنگ روئے منظر تو میں نے دیکھا ہٹی نگاہ بہار یکسر تو میں نے دیکھا نہ جانے کب سے وہ اندر اندر سلگ رہا تھا ملا جو دیوار میں مجھے در تو میں نے دیکھا تمام گرد و غبار دل سے نکل چکا تھا برس چکا ابر اشک ...

مزید پڑھیے

مری گرفت میں ہے طائر خیال مرا

مری گرفت میں ہے طائر خیال مرا مگر اڑائے لیے جا رہا ہے جال مرا یقین اتنا نہیں میرا جتنا نبض کا ہے مری زبان سے سنتا نہیں وہ حال مرا کمال کی وہ عمارت مری ہوئی مسمار کھنڈر کی شکل میں باقی رہا زوال مرا فضا میں جھونک دے آندھی کے بعد پانی بھی اڑائی خاک تو اب خون بھی اچھال مرا زبان ...

مزید پڑھیے

پست و بلند میں جو تجھے رشتہ چاہئے

پست و بلند میں جو تجھے رشتہ چاہئے ملنے کو تجھ سے چھت پہ مجھے زینہ چاہئے یہ کون آ گیا ہے مرے اس کے درمیاں دیوار ہے تو اس میں مجھے رخنہ چاہئے تعمیر کے لیے مجھے درکار ایک عمر تخریب کے لیے مجھے اک لمحہ چاہئے یاروں نے میری راہ میں دیوار کھینچ کر مشہور کر دیا کہ مجھے سایہ چاہئے ملنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4069 سے 6203