قومی زبان

دیے سے یوں دیا جلتا رہے گا

دیے سے یوں دیا جلتا رہے گا اجالا پھولتا پھلتا رہے گا نہیں ہے بانجھ آوازوں کی دھرتی صداؤں کا نسب چلتا رہے گا سکوں ہو بحر میں یا ہو تلاطم گہر تو سیپ میں پلتا رہے گا زمیں پر بارشیں ہوتی رہیں گی سمندر ابر میں ڈھلتا رہے گا نہ باز آئے گا غفلت سے بھی انساں کف افسوس بھی ملتا رہے ...

مزید پڑھیے

اس کا چہرہ بھی چمک میں نہ مثالی نکلا

اس کا چہرہ بھی چمک میں نہ مثالی نکلا چاند سورج کے اجالوں کا سوالی نکلا لوگ سمجھا کیے موسم ہی نہیں اڑنے کا اس کی عزلت کا سبب بے پر و بالی نکلا پھول تو مل گیا خوشبو نہ مگر ہاتھ لگی اس کو پانے کا جنوں خام خیالی نکلا بارش سنگ میں بھی آئی دعا ہونٹوں پر سب نے کم تر جسے جانا تھا وہ عالی ...

مزید پڑھیے

آندھی میں بساط الٹ گئی ہے

آندھی میں بساط الٹ گئی ہے گھنگھور گھٹا بھی چھٹ گئی ہے وہ گرد اڑائی ہے دکھوں نے دیوار حیات اٹ گئی ہے خنجر کی طرح تھی ریگ صحرا خیمے کی طناب کٹ گئی ہے میراث گلاب تھی جو خوشبو جھونکوں میں ہوا کے بٹ گئی ہے پیاسوں کا ہجوم رہ گیا ہے اک تیر سے مشک پھٹ گئی ہے اک اور بھی دن گزر گیا ...

مزید پڑھیے

پرانے پیڑ کو موسم نئی قبائیں دے

پرانے پیڑ کو موسم نئی قبائیں دے گلوں میں دفن کرے ریشمی ردائیں دے شب وصال بھی منزل ہے میرے ذوق سفر مجھے وصال سے آگے کی انتہائی دے میں ایک دانۂ پامال تھا مگر اے خاک اب اگ رہا ہوں مرے تن کو بھی قبائیں دے فصیل شہر ستم سرخ ہوتی جاتی ہے امیر شہر ہمیں شوق سے سزائیں دے کریں مشاہدہ ...

مزید پڑھیے

دھول نہ بننا آئینوں پر بار نہ ہونا

دھول نہ بننا آئینوں پر بار نہ ہونا بینائی کے رستے کی دیوار نہ ہونا شہروں کا ورثہ ہیں جلتے بجھتے منظر رہنا لیکن ہم رنگ بازار نہ ہونا زہر ہوائیں پروا رنگوں میں چلتی ہیں سادہ کلیو ان کے لئے گلنار نہ ہونا ملنے کا کھلنے کا موسم دور نہیں ہے نخل ماتم اے میرے اشجار نہ ہونا میں نے چمن ...

مزید پڑھیے

تشنۂ تکمیل ہے وحشت کا افسانہ ابھی

تشنۂ تکمیل ہے وحشت کا افسانہ ابھی واقف سود و زیاں ہے تیرا دیوانہ ابھی کیوں نہ ہو قربان شمع حسن کے جلووں پہ دل اپنے جلووں سے ہے ناواقف یہ پروانہ ابھی گل چراغ دیر ہے خاموش ہے شمع حرم ساقیا روشن ہے تیرے دم سے مے خانہ ابھی یا تجلی طور کی ہے خود حجاب اندر حجاب یا نہیں ذوق نظر اپنا ...

مزید پڑھیے

اے غم ہجر رات کتنی ہے

اے غم ہجر رات کتنی ہے اور تیری حیات کتنی ہے سانس پر ہے مدار ہستی کا کائنات حیات کتنی ہے اوس کے موتیوں سے یہ پوچھو آبروئے‌ حیات کتنی ہے پوچھتا ہوں کسی سے اپنا پتا بے خبر میری ذات کتنی ہے کیوں حرم ہی کے ہو رہے واعظ وسعت کائنات کتنی ہے دیدۂ‌ برہمن سے دیکھ اے شیخ عظمت‌ سومنات ...

مزید پڑھیے

ملک کی مٹی کبھی دل سے جدا ہوتی نہیں

ملک کی مٹی کبھی دل سے جدا ہوتی نہیں کتنا بھی میں تنگ کر لوں ماں خفا ہوتی نہیں ڈائری میں جو بزرگوں نے لکھیں تھی عبارتیں اب عمل کے واسطے ان پر رضا ہوتی نہیں وہ ملا ہے جب سے مجھ کو موت سے لگتا ہے ڈر اس کی شرکت کے بنا کوئی دعا ہوتی نہیں ہے غم فرقت یہاں تو کچھ غم ہستی بھی ہے درد بڑھ ...

مزید پڑھیے

چاند تارے پھول خوشبو سب ہٹا دو

چاند تارے پھول خوشبو سب ہٹا دو اس کے جیسا دوسرا ہے تو بتا دو اس کی اک تصویر ہے میں نے بنائی میرا یہ دل کھول کے اس کو دکھا دو دور سے مت دیکھنا تم یہ تماشہ آگ جو دیکھو کہیں بھی تو بجھا دو میں کروں گا ہر دعا اس کے لیے ہی تم مجھے زہراب یہ چاہے پلا دو میں نے اس کو جو لکھے تھے بارہا ...

مزید پڑھیے

وہ جس کا نام اس دل پر لکھایا ہے

وہ جس کا نام اس دل پر لکھایا ہے اسی سے راز میں نے یہ چھپایا ہے بہت مغرور ہے وہ مانا یہ لیکن خدا اس کو ہی میں نے بھی بنایا ہے یقیں ہے خط آ جائے گا کبھی اس کا یوں اپنا حوصلہ میں نے بڑھایا ہے سمجھتا ہے محبت کو جو بے معانی اسی کا خواب اس دل میں سجایا ہے وفا اقرار الفت دوستی سچ ہیں نگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4068 سے 6203