قومی زبان

برق کا ٹھیک اگر نشانہ ہو

برق کا ٹھیک اگر نشانہ ہو بند کاہے کو کارخانہ ہو دیکھنے سننے کا مزہ جب ہے کچھ حقیقت ہو کچھ فسانہ ہو موت ہر وقت آنا چاہتی ہے کوئی حیلہ کوئی بہانہ ہو راہ سے سنگ و خشت ہٹ جائیں نیکیوں کا اگر زمانہ ہو مجھ کو خواب و خیال ہے منزل قافلہ شوق سے روانہ ہو کیا تعجب کہ پیچھے پیچھے مرے آنے ...

مزید پڑھیے

تعبیروں سے بند قبائے خواب کھلے

تعبیروں سے بند قبائے خواب کھلے مجھ پر میرے مستقبل کے باب کھلے جس کے ہاتھوں بادبان کا زور بندھا اسی ہوا کے ناخن سے گرداب کھلے اس نے جب دروازہ مجھ پر بند کیا مجھ پر اس کی محفل کے آداب کھلے رہی ہمیشہ گہرائی پر مری نظر بھید سمندر کے سب زیر آب کھلے دل کے سوا وہ اور کہیں رہتا ہے ...

مزید پڑھیے

تارے ہماری خاک میں بکھرے پڑے رہے

تارے ہماری خاک میں بکھرے پڑے رہے یہ کیا کہ تیرے نین فلک سے لڑے رہے ہم تھے سفر نصیب سو منزل سے جا ملے جو سنگ میل تھے وہ زمیں میں گڑے رہے لوگوں نے اینٹ اینٹ پر قبضہ جما لیا ہم دم بخود مکان سے باہر کھڑے رہے ہم کو تو جھولنا ہی تھا انصاف کے لئے یہ کیل کیوں صلیب میں ناحق جڑے ...

مزید پڑھیے

اڑنا تو بہت اڑنا افلاک پہ جا رہنا

اڑنا تو بہت اڑنا افلاک پہ جا رہنا ہم نے کہاں سیکھا ہے زیر کف پا رہنا آنکھوں کو کھلا رکھنا کس کے لئے آساں ہے یاں کس کو گوارا ہے آنکھوں کا کھلا رہنا جو موجۂ باد آیا زردی کا پیمبر تھا اعجاز سے کیا کم ہے پیڑوں کا ہرا رہنا باغوں میں خراماں تھی شہروں میں پریشاں ہے خوشبو کو نہ راس آیا ...

مزید پڑھیے

تیز ہواؤ اب ڈرنا گھبرانا کیسا

تیز ہواؤ اب ڈرنا گھبرانا کیسا چلنا ہی ٹھہرا تو شور مچانا کیسا آنگن آنگن میں ویرانی ناچ رہی ہے ساز اٹھانا کیسا نغمہ گانا کیسا شام ڈھلے سے آسیبوں کا ڈنکا باجے پورن ماشی میں بھی باہر آنا کیسا اے سیاحو یہ تو دلدل کی وادی ہے اس میں اترے ہو تو جان بچانا کیسا سارے موسم ایک تسلسل میں ...

مزید پڑھیے

بوسیدہ عمارات کو مسمار کیا ہے

بوسیدہ عمارات کو مسمار کیا ہے ہم لوگوں نے ہر راہ کو ہموار کیا ہے یوں مرکزی کردار میں ہم ڈوبے ہیں جیسے خود ہم نے ڈرامے کا یہ کردار کیا ہے دیوار کی ہر خشت پہ لکھے ہیں مطالب یوں شہر کو آئینۂ اظہار کیا ہے بینائی مرے شہر میں اک جرم ہے لیکن ہر آنکھ کو رنگوں نے گرفتار کیا ہے درپیش ابد ...

مزید پڑھیے

منتشر ہو کر رہے یہ ایسا شیرازہ نہ تھا

منتشر ہو کر رہے یہ ایسا شیرازہ نہ تھا خاک ہو جانا مرے ہونے کا خمیازہ نہ تھا میں بطون ذات میں اور تو خلا میں گم رہا خاک کے جوہر کا ہم دونوں کو اندازہ نہ تھا آب پاشی سے رہے غافل شجرکاری کے بعد اب جو دیکھا ایک پودا بھی تر و تازہ نہ تھا ہم میں جو آزاد تھا آزاد تر ہو کر رہا اب وہی بے ...

مزید پڑھیے

کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں

کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں ایک سورج ڈھونڈھتا ہوں جو کہ سپنوں میں نہیں دیکھتا رہتا ہوں مٹتے شہر کے نقش و نگار آنکھ میں وہ صورتیں بھی ہیں کہ گلیوں میں نہیں موسموں کا رخ ادھر کو ہے ہواؤں کا ادھر جنگلوں میں بات کوئی ہے کہ شہروں میں نہیں پیلی پیلی تتلیاں ہیں اور ...

مزید پڑھیے

ایک میں ہوں اور لاکھ مسائل خدا گواہ

ایک میں ہوں اور لاکھ مسائل خدا گواہ دست طلب ہے کاسۂ سائل خدا گواہ آنکھیں کھلیں تو اور ہی منظر تھا روبرو خود میں تھا اپنی راہ میں حائل خدا گواہ یہ کائنات رقص میں ہے اک مرے لئے پہنے ہوئے نجوم کی پائل خدا گواہ دل میں محبتیں ہیں تو آنکھوں میں حیرتیں میرے فقط یہی ہیں وسائل خدا ...

مزید پڑھیے

رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے

رکھتا نہیں ہے دشت سروکار آب سے بہلائے جاتے ہیں یہاں پیاسے سراب سے دن میں بھی گھر اجالے سے محروم ہے تو ہے کرنوں کا کیا سوال کروں آفتاب سے بالکل درست ہوتے ہوئے فیل ہو گیا میں نے جواب نقل کیا تھا کتاب سے وہ سال ہو کہ ماہ ہو دن ہو کہ ہو گھڑی باقی نہیں بچوں گا کسی کے حساب سے ہر شے پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4070 سے 6203