قومی زبان

دلی

دلی کہ اس جہاں میں عظیم و قدیم ہے علم و فن و ہنر کی سدا سے نعیم ہے اللہ اس کی عظمت دیں کا علیم ہے تفسیر دل حدیث خودی کا فہیم ہے گیتا پران کے بھی فسانے میں ذکر ہے تاریخ سے بھی قبل زمانے میں ذکر ہے دلی کا پانڈوؤں کے ترانے میں ذکر ہے اندر پرستھ تک کے سجانے میں ذکر ہے دلی سدا سے مرکز ...

مزید پڑھیے

ارے خدا کے بندے خود کو رب کی سمت موڑ تو

ارے خدا کے بندے خود کو رب کی سمت موڑ تو وجود بخشا جس نے تجھ کو رشتہ اس سے جوڑ تو بڑی ہی سہل و آساں زندگی ہو جائے گی تری تو اتباع خواہشات زندگی کو چھوڑ تو جو لمبے لمبے خواب دیکھ رکھے ہیں بھرم ہے محض ہے عقل مند تو اگر تو اس بھرم کو توڑ تو ہے مدتوں سے تیرے انتظار میں بھی اک ...

مزید پڑھیے

ہے ناراض وہ تو ملاقات تو کر

ہے ناراض وہ تو ملاقات تو کر جوابات دے کچھ سوالات تو کر خطا‌ وار ہیں ہم سزاوار بھی ہیں تو بس در گزر کر مسافات تو کر ہے پر لغزشوں سے کہانی ہماری تو ستار ہے کچھ کرامات تو کر یوں تو زندگی گزری گمراہی میں پر گماں نیک رکھ تو شروعات تو کر ہے امید پر دنیا قائم اے گلزارؔ منا لے اسے تو ...

مزید پڑھیے

مال و دولت پر اے انساں اتنا کیوں اتراتا ہے

مال و دولت پر اے انساں اتنا کیوں اتراتا ہے بھول کر مسکینوں کو مغرور کیوں بن جاتا ہے حال دل اپنا سنائیں تو سنائیں کیسے ہم روبرو ہو کر بھی وہ ہم سے بڑا شرماتا ہے رہتے ہیں مایوس جو معلوم کر لیں وہ ذرا کہتے ہیں مایوس رہنا کفر تک لے جاتا ہے لوہا تپ کر آگ میں جب سرخ سا ہو جاتا ہے بن کے ...

مزید پڑھیے

عمر جو بے خودی میں گزری ہے

عمر جو بے خودی میں گزری ہے بس وہی آگہی میں گزری ہے کوئی موج نسیم سے پوچھے کیسی آوارگی میں گزری ہے ان کی بھی رہ سکی نہ دارآئی جن کی اسکندری میں گزری ہے آسرا ان کی رہبری ٹھہری جن کی خود رہزنی میں گزری ہے آس کے جگنوؤ سدا کس کی زندگی روشنی میں گزری ہے ہم نشینی پہ فخر کر ناداں صحبت ...

مزید پڑھیے

ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے

ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار اس سے ہے ہر سر یہی سمجھتا ہے دستار اس سے ہے ہے آگ پیٹ کی تبھی چھم چھم ہے رقص میں پائل سمجھتی ہے کہ یہ جھنکار اس سے ہے امید ان سے کوئی لگانا ہی ہے فضول ہر منتری کی سوچ ہے سرکار اس سے ہے گھر کو بنائیں گھر صدا گھر کے ہی لوگ سب اور آدمی سمجھتا ہے پریوار اس سے ...

مزید پڑھیے

اسی نے پیار بخشا اور اسی نے بندگی بخشی

اسی نے پیار بخشا اور اسی نے بندگی بخشی مرے مالک نے مجھ کو اس جہاں کی ہر خوشی بخشی ادیبوں سے بھری محفل میں آنا تھا کہاں ممکن اسی نے شعر لکھوائے اسی نے شاعری بخشی میں ساگر تھا مجھے خارا نہیں رہنے دیا اس نے کہ لہراتی سی بل کھاتی محبت کی ندی بخشی اندھیروں کے گھنے سایوں کا قبضہ تھا ...

مزید پڑھیے

حصے میں آئے میرے صدا ٹکڑے کانچ کے

حصے میں آئے میرے صدا ٹکڑے کانچ کے قسمت نے ہی کیے ہیں عطا ٹکڑے کانچ کے اک وقت تھا دیتے تھے سزا ٹکڑے کانچ کے دینے لگے ہیں اب تو مزا ٹکڑے کانچ کے فطرت میں ان کی دینا چبھن لکھ دیا گیا مجبور ہیں کریں بھی تو کیا ٹکڑے کانچ کے آئینہ دیکھنے کی بھی حسرت نہیں رہی بتلاتے ہیں مری ہی خطا ٹکڑے ...

مزید پڑھیے

رکھ دیا ہے آدمی نے آئنے پر آئنہ

رکھ دیا ہے آدمی نے آئنے پر آئنہ دیکھ کر انسان کو ہے آج ششدر آئنہ پیاس آنسو درد و غم ہیں سب مرے بھیتر چھپے ہنس دیا ہے اصلیت مجھ کو دکھا کر آئنہ دیکھنا جو چاہتا میں دیکھتا مجھ کو وہی سچ نہیں یہ ہے دکھاتا سچ مجھے ہر آئنہ لاکھ میں دنیا کو دھوکا دوں لگاتا ہے مگر اصل چہرہ سامنے لانے ...

مزید پڑھیے

نہ ثانی جب مذاق حسن کو اپنا نظر آیا

نہ ثانی جب مذاق حسن کو اپنا نظر آیا نگاہ شوق تک لے کر پیام فتنہ‌ گر آیا کہا لا ریب بڑھ کر علم و دانش نے عقیدت سے جو بزم اہل فن میں آج مجھ سا بے ہنر آیا سر محفل چرانا مجھ سے دامن اس کا ضامن ہے نہیں آیا اگر مجھ تک بہ انداز دگر آیا بہت اے دل تری روداد غم نے طول کھینچا ہے کبھی وہ بت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4064 سے 6203