قومی زبان

فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا

فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا یہی ہے کام کر جانا یہی ہے نام کر جانا جہاں انسانیت وحشت کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہو جہاں تذلیل ہے جینا وہاں بہتر ہے مر جانا یوں ہی دیر و حرم کی ٹھوکریں کھاتے پھرے برسوں تری ٹھوکر سے لکھا تھا مقدر کا سنور جانا سکون روح ملتا ہے زمانہ کو ترے در ...

مزید پڑھیے

زندگی راہ وفا میں جو مٹا دیتے ہیں

زندگی راہ وفا میں جو مٹا دیتے ہیں نقش الفت کا وہ دنیا میں جما دیتے ہیں اس طرح جرم محبت کی سزا دیتے ہیں وہ جسے اپنا سمجھتے ہیں مٹا دیتے ہیں ایک جل روز ہمیں آپ نیا دیتے ہیں وعدۂ وصل کو باتوں میں اڑا دیتے ہیں خم و مینا و سبو بزم میں آتے آتے اپنی آنکھوں سے کئی جام پلا دیتے ہیں حسن ...

مزید پڑھیے

ان کی نظر کا لطف نمایاں نہیں رہا

ان کی نظر کا لطف نمایاں نہیں رہا ہم پر وہ التفات نگاراں نہیں رہا دل بستگی و عیش کا ساماں نہیں رہا خوش باشیٔ حیات کا ساماں نہیں رہا یہ بھی نہیں کہ گل میں لطافت نہیں رہی پر جنت نگاہ گلستاں نہیں رہا ہر بے ہنر سے گرم ہے بازار سفلگی اہل ہنر کے واسطے میداں نہیں رہا اپنی زبان اپنا ...

مزید پڑھیے

اس ستم گر کی مہربانی سے

اس ستم گر کی مہربانی سے دل الجھتا ہے زندگانی سے خاک سے کتنی صورتیں ابھریں دھل گئے نقش کتنے پانی سے ہم سے پوچھو تو ظلم بہتر ہے ان حسینوں کی مہربانی سے اور بھی کیا قیامت آئے گی پوچھنا ہے تری جوانی سے دل سلگتا ہے اشک بہتے ہیں آگ بجھتی نہیں ہے پانی سے حسرت عمر جاوداں لے کر جا رہے ...

مزید پڑھیے

ہم جو گزرے ان کی محفل کے قریب

ہم جو گزرے ان کی محفل کے قریب اک کسک سی رہ گئی دل کے قریب سب کے سب بیٹھے تھے قاتل کے قریب بے کسی تھی صرف بسمل کے قریب زندگی کیا تھی عجب طوفان تھی اب کہیں پہنچے ہیں منزل کے قریب اس قدر خود رفتۂ صحرا ہوئے بھول کر دیکھا نہ محمل کے قریب ہائے اس مختار کی مجبوریاں جس نے دم توڑا ہو ...

مزید پڑھیے

نہ سہی ہم پہ عنایت نہیں پیمانوں کی

نہ سہی ہم پہ عنایت نہیں پیمانوں کی کھڑکیاں کھل گئیں آنکھوں سے تو مے خانوں کی آ نہیں سکتا سمجھ میں کبھی فرزانوں کی سرخ رو کیسے جبینیں ہوئیں دیوانوں کی زلف بکھرائے سر شام پریشان ہیں وہ قسمتیں اوج پہ ہیں چاک گریبانوں کی داستاں کوہ کن و قیس کی فرسودہ ہوئی سرخیاں ہم نے بدل ڈالی ...

مزید پڑھیے

اے مسیحا دم ترے ہوتے ہوئے کیا ہو گیا

اے مسیحا دم ترے ہوتے ہوئے کیا ہو گیا بیٹھے بٹھلائے مریض عشق ٹھنڈا ہو گیا یوں مرا سوز جگر دنیا میں رسوا ہو گیا شعر و نغمہ رنگ و نکہت جام و صہبا ہو گیا چارہ گر کس کام کی بخیہ گری تیری کہ اب اور بھی چاک جگر میرا ہویدا ہو گیا ہے تری زلف پریشاں یا مری دیوانگی جو تماشہ کرنے آیا خود ...

مزید پڑھیے

کون دیکھے گا زمانے انقلاب ناز کے

کون دیکھے گا زمانے انقلاب ناز کے بھول بیٹھے ہیں وہ وعدے عشق کے آغاز کے ہوتے ہیں تیر ستم سر چاہنے والوں پہ اب یہ نئے انداز دیکھے غمزہ و غماز کے میرے آہ و نالے کو ظالم سمجھ ناداں نہ بن ساز کے نغمے نہیں یہ ہیں شکست ساز کے بال و پر اب تک بندھے ہیں ہوں مقید تا ہنوز حکم صادر ہو چکے ہیں ...

مزید پڑھیے

تری طلب نے فلک پہ سب کے سفر کا انجام لکھ دیا ہے

تری طلب نے فلک پہ سب کے سفر کا انجام لکھ دیا ہے کسی کو نجم سحر کسی کو ستارۂ شام لکھ دیا ہے زباں پہ حرف ملال کیوں ہو کہ ہم ہیں راضی تری رضا پر ترا کرم تو نے آب و دانہ اگر تہ دام لکھ دیا ہے بچا کے اپنے لیے نہ رکھا کوئی گریباں کا تار ہم نے جنوں سے جو کچھ بھی ہم نے پایا وہ سب ترے نام لکھ ...

مزید پڑھیے

زندگی داؤ پہ ہر آن لگی رہتی ہے

زندگی داؤ پہ ہر آن لگی رہتی ہے دل کی بازی میں سدا جان لگی رہتی ہے ہیں ترے معرکہ آرا کہ تماشائی ہیں بھیڑ کیسی سر میدان لگی رہتی ہے کوئی بلقیس نظر آئے نہ آئے پھر بھی کھوج میں روح سلیمان لگی رہتی ہے خلق عمال سے نالاں ہے مگر یاروں کو فکر خوش نودیٔ سلطان لگی رہتی ہے بخت سازان رعایا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4065 سے 6203