فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا
فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا یہی ہے کام کر جانا یہی ہے نام کر جانا جہاں انسانیت وحشت کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہو جہاں تذلیل ہے جینا وہاں بہتر ہے مر جانا یوں ہی دیر و حرم کی ٹھوکریں کھاتے پھرے برسوں تری ٹھوکر سے لکھا تھا مقدر کا سنور جانا سکون روح ملتا ہے زمانہ کو ترے در ...