قومی زبان

رہ عرفاں میں اپنے ہوش کو مائل سمجھتے ہیں

رہ عرفاں میں اپنے ہوش کو مائل سمجھتے ہیں ہوئی جب بے خودی طاری اسے منزل سمجھتے ہیں وفوق شوق کو ہے تنگ اقصائے دو عالم بھی فضائے لا مکاں پرواز کے قابل سمجھتے ہیں بقا ظاہر میں ذرات عدم کا اک ہیولیٰ ہے حقیقت میں فنا کو زیست کا حاصل سمجھتے زمانہ کا اثر ہوتا نہیں ہے حال پر اپنے کہ ...

مزید پڑھیے

خواب سے نکلی ہوئی نظم

اپنی جوانی میں بکھری ہوئی قوس قزح غرور میں پھولے ہوئے پھول اہرام مصر یا ایک خوب صورت محبوبہ کے اندر ایک حاکم پنپتا ہے ہر دور میں ایک چالاک شخص ضرور ہونا چاہئے جو لوگوں کو بد صورتی سے ڈرا کر محظوظ ہوتا رہے اب میں خوبصورتی کے لیے کیا لکھوں یہی کہ تخلیقی میلان سے ذرا پہلے اور بہت ...

مزید پڑھیے

دل درد آشنا کا مدعا کیا

دل درد آشنا کا مدعا کیا کسی بیداد کی کیجے دوا کیا ہوا انساں ہی جب انساں کا دشمن شکایت پھر کسی کی کیا گلہ کیا بہار تازہ آئی گلستاں میں کھلائے جانے گل باد صبا کیا وہ کہتے ہیں نشیمن ترک کیجے چلی گلشن میں یہ تازہ ہوا کیا اٹھی انسانیت یکسر یہاں سے یکایک خوئے انساں کو ہوا کیا نہیں ...

مزید پڑھیے

ایک کافر ادا نے لوٹ لیا

ایک کافر ادا نے لوٹ لیا ان کی شرم و حیا نے لوٹ لیا اک بت بے وفا نے لوٹ لیا مجھ کو تیرے خدا نے لوٹ لیا آشنائی بتوں سے کر بیٹھے آشنائے‌‌ جفا نے لوٹ لیا ہم یہ سمجھے کہ مرہم غم ہے درد بن کر دوا نے لوٹ لیا ان کے مست خرام نے مارا ان کی طرز ادا نے لوٹ لیا حسن یکتا کی رہزنی توبہ اک فریب ...

مزید پڑھیے

بٹھا کے دل میں گرایا گیا نظر سے مجھے

بٹھا کے دل میں گرایا گیا نظر سے مجھے دکھایا طرفہ تماشہ بلا کے گھر سے مجھے نظر جھکا کے اٹھائی تھی جیسے پہلی بار پھر ایک بار تو دیکھو اسی نظر سے مجھے ہمیشہ بچ کے چلا ہوں میں عام راہوں سے ہٹا سکا نہ کوئی میری رہ گزر سے مجھے حیات جس کی امانت ہے سونپ دوں اس کو اتارنا ہے یہ قرضہ بھی ...

مزید پڑھیے

یا ملا قوم کو خود اپنا نگہباں ہو کر

یا ملا قوم کو خود اپنا نگہباں ہو کر سو طرح دیکھ لیا ہم نے پریشاں ہو کر کافر عشق ہی اچھے تھے صنم خانوں میں شان ایماں نہ ملی صاحب ایماں ہو کر نقص‌ تنظیم سے ہو ترک چمن کیا معنی ہم کو رہنا ہے یہیں تار رگ جاں ہو کر کیا ہوا گر کوئی ہندو کہ مسلماں ٹھہرا آدمیت کا نہیں پاس جو انساں ہو ...

مزید پڑھیے

اب تو صحرا میں رہیں گے چل کے دیوانوں کے ساتھ

اب تو صحرا میں رہیں گے چل کے دیوانوں کے ساتھ دہر میں مشکل ہوا جینا جو فرزانوں کے ساتھ ختم ہو جائیں گے قصے کل یہ دیوانوں کے ساتھ پھر انہیں دہراؤ گے تم کتنے عنوانوں کے ساتھ بزم میں ہم کو بلا کر آپ اٹھ کر چل دئے کیا سلوک ناروا جائز ہے مہمانوں کے ساتھ نفرتیں پھیلا رہے ہیں کیسی شیخ و ...

مزید پڑھیے

پہلے تو دام زلف میں الجھا لیا مجھے

پہلے تو دام زلف میں الجھا لیا مجھے بھولے سے پھر کبھی نہ دلاسا دیا مجھے کیا دردناک منظر کشتی تھا رود میں میں نا خدا کو دیکھ رہا تھا خدا مجھے بیٹھا ہوا ہے رشک مسیحا مرے قریب کس بے بسی سے دیکھ رہی ہے قضا مجھے ان کا بیان میری زباں پر جو آ گیا لہجے نے ان کے کر دیا کیا خوش نوا مجھے جن ...

مزید پڑھیے

مقصد حسن ہے کیا چشم بصیرت کے سوا

مقصد حسن ہے کیا چشم بصیرت کے سوا وجہ تخلیق بشر کیا ہے محبت کے سوا خون دل تھوکتے پھرتے ہیں جہاں میں شاعر کیا ملا شہر سخن میں انہیں شہرت کے سوا آج بھی علم و فن و شعر و ادب ہیں پامال با کمالوں کو ملا کچھ نہ اہانت کے سوا ہاتھ میں جن کے خوشامد کا ہے گدلا کشکول ان کو اعزاز بھی مل جائیں ...

مزید پڑھیے

دل ہی دل میں درد کے ایسے اشارے ہو گئے

دل ہی دل میں درد کے ایسے اشارے ہو گئے غم زمانے کے شریک غم ہمارے ہو گئے جو ابھی محفوظ ہیں تنقید ہے ان کا شعار حال ان کا پوچھئے جو بے سہارے ہو گئے بن کھلے مرجھا گئیں کلیاں چمن میں کس قدر زرد رو کس درجہ ہائے ماہ پارے ہو گئے امن کی طاقت کو کچلا سچ کو رسوا کر دیا دشمنوں کے چار دن میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4063 سے 6203