قومی زبان

ابھی قائل ہوئے ہی تھے تمہاری رہنمائی کے

ابھی قائل ہوئے ہی تھے تمہاری رہنمائی کے تبھی انجام دیکھے کچھ خداؤں کی خدائی کے یوں مجھ سے دور جانے کا سفر یہ رائیگاں ہوگا کبھی وہ دن نہ بھولیں گے تیری مجھ سے رہائی کے دلوں سے جو نکلتی ہے مٹائے سے نہیں مٹتی نہیں جاتے کبھی یہ رنگ دل کی روشنائی کے دیے کے ایک اشارے پر لپک کر جان ...

مزید پڑھیے

بیڑیاں ڈال دے آزاد ہوئی جاتی ہے

بیڑیاں ڈال دے آزاد ہوئی جاتی ہے زندگی عشق میں برباد ہوئی جاتی ہے دل کی بستی میں کوئی اور نہ آیا مالک تیری دنیا ہے جو آباد ہوئی جاتی ہے عشق کے کھیل میں فرہاد ہوا ہے شیریں کوئی شیریں ہے جو فرہاد ہوئی جاتی ہے کھو چکا ہوں تجھے پر آج بھی تیری خاطر ہاتھ اٹھ جاتے ہیں فریاد ہوئی جاتی ...

مزید پڑھیے

سچ مچ اپنے رانجھے کو ہی گھائل کر کے چھوڑ دیا

سچ مچ اپنے رانجھے کو ہی گھائل کر کے چھوڑ دیا اچھا خاصا لڑکا تو نے پاگل کر کے چھوڑ دیا رت آئے رت جائے بیرن ہر موسم میں برسی ہیں تیرے غم نے ان آنکھوں کو بادل کر کے چھوڑ دیا کوئی ٹک کر کب رہتا ہے دنیا آتی جاتی ہے تیرے جانے نے تو مجھ کو قائل کر کے چھوڑ دیا اتنا خالی ہو بیٹھا ہوں سب کی ...

مزید پڑھیے

فلک نے چاند نے تاروں نے خودکشی کر لی

فلک نے چاند نے تاروں نے خودکشی کر لی تمہارے ہجر کے ماروں نے خودکشی کر لی میں اپنے خواب سجا کر جہاں جہاں پہنچا وہاں وہاں کے نظاروں نے خودکشی کر لی خزاں کا رنگ چڑھا جب میری جوانی پر میرے چمن کی بہاروں نے خودکشی کر لی کیا تھا ضبط مگر توڑ کر بہا دریا تھکے تھکے سے کناروں نے خودکشی ...

مزید پڑھیے

پہلے جھوٹا سچا وعدہ کر لے گی

پہلے جھوٹا سچا وعدہ کر لے گی پھر دنیا چاہت کا سودا کر لے گی اس کے بچھوئے پیروں میں جب پہنوں گی میری پائل تم سے جھگڑا کر لے گی ذکر ہمارا محفل میں کرکے دیکھو وہ محفل سے خود کو تنہا کر لے گی جنت کا پٹ دھیرے دھیرے کھلتا ہے پہلے تو شرما کر پردا کر لے گی

مزید پڑھیے

نہ یہ زمین ہے اپنی نہ آسماں اپنا

نہ یہ زمین ہے اپنی نہ آسماں اپنا الگ بنائیں ہم اپنے لئے جہاں اپنا خیال شکوۂ زنداں کسے اے باد چمن نہیں بہار سے کم موسم خزاں اپنا چمن کا لطف ہی کیا جب کہ بال و پر نہ رہے بنا لیا ہے قفس ہی کو آشیاں اپنا ہیں سخت جان ہم ان کی کلائیاں نازک یہ امتحان ہے ان کا کہ امتحان اپنا ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

خوش نظر ہے نہ خوش خیال ہے یہ

خوش نظر ہے نہ خوش خیال ہے یہ آج کے دیدہ ور کا حال ہے یہ تم مرے دل میں کیوں نہیں آتے شہر رعنائی جمال ہے یہ میرے چہرے پہ کچھ نہیں تحریر صرف عنوان عرض حال ہے یہ وجہ ناکامئ وفا کیا ہے آپ سے آخری سوال ہے یہ چاہتے بھی ہیں چاہتے بھی نہیں دوستی کی نئی مثال ہے یہ کیسے سلجھیں گے کاکل ...

مزید پڑھیے

آج انہیں دیکھ لیا بزم میں فرزانوں کی

آج انہیں دیکھ لیا بزم میں فرزانوں کی ہم نے تعریف سنی تھی ترے دیوانوں کی دیدہ ور سلسلۂ اشک سمجھتے ہیں جسے کہکشاں ہے مرے محبوب کے احسانوں کی تم کو آنا ہے تو آ جاؤ اجالا ہے ابھی شمعیں روشن ہیں مرے غم کے شبستانوں کی معترض ہیں مری دیوانہ وشی پر وہ لوگ جن کو دامن کی خبر ہے نہ ...

مزید پڑھیے

تمام رات بجھیں گے نہ میرے گھر کے چراغ

تمام رات بجھیں گے نہ میرے گھر کے چراغ کہ یہ چراغ ہیں خون دل و جگر کے چراغ ان آنسوؤں کو ستارے سلام کرتے ہیں بجھا سکو تو بجھا دو یہ چشم تر کے چراغ ہوا نہ ایسا چراغاں کبھی سر مقتل ہتھیلیوں پہ ہیں روشن بریدہ سر کے چراغ انہیں پہ چلنے سے منزل ملے گی ہم سفرو یہ نقش پا ہیں کسی کے کہ رہ ...

مزید پڑھیے

دشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈ

دشت غم میں سایۂ گیسو نہ ڈھونڈ پتھروں میں درد کی خوشبو نہ ڈھونڈ زندگی میں اب وہ رنگ و بو نہ ڈھونڈ گل ادا گل پیرہن گل رو نہ ڈھونڈ اپنے ہونٹوں پر تبسم کر تلاش وقت کے رخسار پر آنسو نہ ڈھونڈ مستیوں میں رقص طاؤس اب کہاں شوخیوں میں وہ رم آہو نہ ڈھونڈ موجزن ہے دل میں جو طوفاں وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4062 سے 6203