قومی زبان

آج کی رات

چاندنی رات ہے جوانی پر دست گردوں میں ساغر مہتاب نور بن بن کے چھن رہی ہے شراب ساقیٔ آسماں پیالہ بدست میں شراب سرور سے سرمست فکر دوزخ نہ ذکر جنت ہے میں ہوں اور تیری پیاری صورت ہے رس بھرے ہونٹ مدبھری آنکھیں! کون فردا پہ اعتبار کرے کون جنت کا انتظار کرے جانے کب موت کا پیام آئے یہ ...

مزید پڑھیے

بے نمود درد کی نمائش کیوں

بے نمود درد کی نمائش کیوں دل سے کرتی ہے آنکھ سازش کیوں غم جو لکھا ہوا ہے چہرے پہ کوئی پڑھ لے تو اس سے رنجش کیوں وہ جو ہر زاویے سے دل میں ہے اس کو پھر دیکھنے کی خواہش کیوں خواب تازہ جگائے آنکھوں میں ہم پہ موسم کی یہ نوازش کیوں سب کو اپنے ہی کام تھے اس سے کوئی کرتا مری سفارش کیوں

مزید پڑھیے

کیا بتائیں کیا کمایا عشق میں (ردیف .. ی)

کیا بتائیں کیا کمایا عشق میں درد ہے دل میں نہ آنکھوں میں نمی قرب میں جس کے گزارے روز و شب اجنبی ہے اتنے برسوں بعد بھی تھا مرے دل میں کبھی اس کا مکاں میں نے جس کو دور سے آواز دی اب تو وہ موسم پرانے ہو گئے اب تو وہ باتیں ہیں ساری خواب کی ربط جوہرؔ ان سے اتنا رہ گیا فون کی گھنٹی بجی ...

مزید پڑھیے

خواہش سے جب رنگ اترنے لگتے ہیں

خواہش سے جب رنگ اترنے لگتے ہیں موسم اپنے اندر مرنے لگتے ہیں اک بادل کو دیکھ کے دشت کی آنکھوں میں سیرابی کے خواب سنورنے لگتے ہیں جب دریا کی چال سمجھ میں آتی ہے لوگ کناروں پر بھی ڈرنے لگتے ہیں دن کٹتا ہے سورج کی ہم راہی میں شب کو دل کے داغ بھی جلنے لگتے ہیں اس کا فون نہیں ملتا تو ...

مزید پڑھیے

کبھی جب مل کے رہتے تھے وہ صحبت یاد آتی ہے

کبھی جب مل کے رہتے تھے وہ صحبت یاد آتی ہے ہمیں اپنے بزرگوں کی شرافت یاد آتی ہے کسی بھی معصیت سے میں ہمیشہ دور رہتا ہوں کہ ہر لمحہ مجھے ماں کی نصیحت یاد آتی ہے ہر اک در بند کرتا ہوں کہ شب تو چین سے گزرے تو جب پہلو میں ہوتا تھا وہ ساعت یاد آتی ہے کبھی اوراق ماضی کے پلٹ لیتا ہوں فرصت ...

مزید پڑھیے

پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گے

پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گے تیرے جلووں ہی سے آباد شبستاں ہوں گے عشق کی منزل اول پہ ٹھہرنے والو اس سے آگے بھی کئی دشت و بیاباں ہوں گے تو جہاں جائے گی غارت گر ہستی بن کر ہم بھی اب ساتھ ترے گردش دوراں ہوں گے کس قدر سخت ہے یہ ترک و طلب کی منزل اب کبھی ان سے ملے بھی تو پشیماں ...

مزید پڑھیے

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا تلاش دوست کو اک عمر چاہئے اے دوست کہ ایک عمر ترا انتظار ہم نے کیا تیرے خیال میں دل شادماں رہا برسوں ترے حضور اسے سوگوار ہم نے کیا یہ تشنگی ہے کے ان سے قریب رہ کر بھی حفیظؔ یاد انہیں بار بار ہم نے کیا

مزید پڑھیے

لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیے

لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیے شرح راحت کے لیے غم کی صراحت کے لیے اب مرا چپ چاپ رہنا امر مجبوری سہی میں نے کھولی ہی زباں کب تھی شکایت کے لیے میرے چشم و گوش و لب سے پوچھ لو سب کچھ یہیں مجھ کو میرے سامنے لاؤ شہادت کے لیے سخت کوشی سخت جانی کی طرف لائی مجھے مجھ کو یہ فرصت غنیمت ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسو (ردیف .. ے)

نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسو جو تیرے دل میں ہے اس بات پر نہیں آئے وفائے عہد ہے یہ پا شکستگی تو نہیں ٹھہر گیا کہ مرے ہم سفر نہیں آئے نہ چھیڑ ان کو خدا کے لئے کہ اہل وفا بھٹک گئے ہیں تو پھر راہ پر نہیں آئے ابھی ابھی وہ گئے ہیں مگر یہ عالم ہے بہت دنوں سے وہ جیسے نظر نہیں ...

مزید پڑھیے

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے ذرا دیر آشنا چشم کرم ہے ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4054 سے 6203