دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکے
دنیا کو روشناس حقیقت نہ کر سکے ہم جتنا چاہتے تھے محبت نہ کر سکے سامان گل فروشیٔ راحت نہ کر سکے راحت کو ہم شریک محبت نہ کر سکے یوں کثرت جمال نے لوٹی متاع دید تسکین تشنہ کامئ حیرت نہ کر سکے اب عشق خام کار ہی ارماں کو دے جواب ہم ان کو بیقرار محبت نہ کر سکے بے مہریوں سے کام رہا گو ...