کسی کی تمنا کئے جائیے
کسی کی تمنا کئے جائیے اسی آرزو میں جئے جائیے زمانے کے جتنے بھی آلام ہوں دل ناتواں پر لئے جائیے اگر ہے یہی شیوۂ دوستی دیے جائیے غم دیے جائیے
کسی کی تمنا کئے جائیے اسی آرزو میں جئے جائیے زمانے کے جتنے بھی آلام ہوں دل ناتواں پر لئے جائیے اگر ہے یہی شیوۂ دوستی دیے جائیے غم دیے جائیے
کرب وحشت الجھنیں اور اتنی تنہائی کہ بس جانے کیوں تقدیر نے لی ایسی انگڑائی کہ بس جب کبھی بھولے سے بھی آئینہ دیکھا تیرے بعد اپنی ہی صورت میں وہ صورت نظر آئی کہ بس توڑنے جب بھی چلا زندان آب و گل کو میں جانی پہچانی ہوئی آواز اک آئی کہ بس چلچلاتی دھوپ غم کی حادثوں کے سائباں سوچ کا ...
در در پھرے ہیں آپ لئے چشم تر جناب بتلائیے کسی پہ ہوا کچھ اثر جناب اب موندیئے بھی آنکھ کہ نظارہ کر چکے کب کامیاب زیست ہوئے دیدہ ور جناب اک سعیٔ رائیگاں ہے شعاعوں کو تھامنا تاریکیاں ہیں ان سے کجا معتبر جناب اٹھئے قمار خانہ ہوش و حواس سے کیا ہو رہے ہیں کیجئے خود پر نظر جناب چلئے ...
میں صحرا میں سمندر کیوں باہر جیسا اندر کیوں ایسے میں جب کوئی نہ تھا قتل ہوا ہوں اکثر کیوں مانا سورج ہے رزاق نسب بدن پر پھر سر کیوں حیف بدی کے ہنستے کھیت نیکی نیکی بنجر کیوں شغل مرا ہوا خود ایزائی پھر یہ برستے پتھر کیوں گھر گھر میرے چرچے ہیں گھوم رہا ہوں بے گھر کیوں باہر سے ...
اس دور میں جینے کا سبب کس سے کہیں کیا یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کب کس سے کہیں کیا ترغیب خود ایزائی تو ان ہونٹوں نے دی تھی کیوں پھونک دی دنیائے طرب کس سے کہیں کیا ہر کوئی تو اپنے کو یہاں بیچ رہا ہے پھیلائیں کہاں دست طلب کس سے کہیں کیا دن شکلوں کے سیلاب میں بہہ جاتا ہے لیکن میرے لئے کیا ...
میں ہوں اور مشغلہ جامہ دری ہے یاہو کیف در کیف عجب بے خبری ہے یاہو ہر طرف سحر نفی خوف ابد طاری ہے جان لیوا یہ بلیغ النظری ہے یاہو ہست در ہست حجابات کے صحرا ٹھہرے کیا یہ تشریح مقام بشری ہے یاہو پوری قوت سے نہ کیوں دوڑوں ابد کی جانب زیست اک عالم افراتفری ہے یاہو اک سنورتا ہوا ...
نوچتی ہیں مجھے کرب کی چیونٹیاں ساقیا ساقیا تلخیاں تلخیاں میں کہاں آ گیا ہر طرف ہے یہاں بد گماں ساعتوں کا بھیانک دھواں ہیں یہ انفاس یا ہے پپیہے کی رٹ پھینک آؤں سماعت کو جا کر کہاں ایک لمحہ ازل ایک لمحہ ابد صرف دو ساعتوں کی ہے یہ داستاں میں وہ ایذا کش فکر ہوں آج تک جو اڑاتا رہا ...
سورج سا بھی تارا ہو زمیں سی بھی زمیں ہو ممکن ہے فلک پر کوئی تم سا بھی حسیں ہو تردید جہالت کی سزا موت ہے چپ ہوں اب کون یہاں کھول کے لب منکر دیں ہو اس بات سے کافر کو بھی انکار نہیں ہے وہ شخص پیمبر ہے جو صادق ہو امیں ہو سنتا ہوں کئی دیر و کلیسا کے فسانے اے کاش کسی بات کا مجھ کو بھی ...
خاک پر پھینکا ہواؤں نے اٹھا لے مجھ کو پھول ہوں کوٹ کے کالر پہ سجا لے مجھ کو کب سے میں ریت کے مرقد میں پڑا ہوں زندہ سطح پر موج کسی دن تو اچھالے مجھ کو سرخیٔ خوں میں چمک ہے کہ مری آنکھوں میں روز وہ رنگ دکھاتا ہے نرالے مجھ کو ساتھ ہی مجھ کو گرا لے نہ لچکتا ہوا پیڑ اڑتا بادل نہ کہیں ...
جب طلسم اثر سے نکلا تھا زہر شیریں ثمر سے نکلا تھا اڑ گئے آندھیوں میں جب پتے خون کتنا شجر سے نکلا تھا مجھ سے پوچھا اسی نے میرا پتہ ڈھونڈنے جس کو گھر سے نکلا تھا دھوپ چمکی تو میہماں کی طرح سایہ دیوار و در سے نکلا تھا لوگ سوئے پڑے تھے اور خورشید حجلۂ ابر تر سے نکلا تھا