قومی زبان

اس کے زخموں کا یوں صلہ دینا

اس کے زخموں کا یوں صلہ دینا گلے لگنا اسے دعا دینا رکنے والوں سے التجا کیسی جانے والوں کو کیا صدا دینا ایک مدت کے بعد ہم پہ کھلا کتنا آسان تھا بھلا دینا اپنے آغوش میں اسے پا کر اک ہنر ہے اسے گنوا دینا پوچھے جو کوئی زندگی کیا ہے مشت بھر خاک تم اڑا دینا

مزید پڑھیے

ہر نفس وجہ خوشی ہے آج کل

ہر نفس وجہ خوشی ہے آج کل کیا سہانی زندگی ہے آج کل لمحہ لمحہ کیف میں ڈوبا ہوا میں ہوں میری مے کشی ہے آج کل بجھ گئے کب سے امیدوں کے چراغ داغ دل کی روشنی ہے آج کل جس جگہ رہتی تھی بوئے گل وہیں خاک سی کچھ اڑ رہی ہے آج کل کم نہیں غم سے ترے دنیا کا غم اک مصیبت جیتے جی ہے آج کل لوٹ لو مل کر ...

مزید پڑھیے

جفائیں ہیں ان کی مرا ضبط غم ہے

جفائیں ہیں ان کی مرا ضبط غم ہے محبت کا ان کی بھی کیسا کرم ہے سر بزم ان کی ہیں آنکھوں میں آنسو لبوں پر مرے میری روداد غم ہے انہیں حسن کا اپنے احساس ہے جو مری ہی نگاہوں کا سمجھو کرم ہے تری بے رخی بھی ہے گویا قیامت ترا روٹھ جانا بھی گویا ستم ہے نگاہیں ملا کر عطا مجھ کو کرنا ترا جام ...

مزید پڑھیے

جب منڈیروں پہ پرندوں کی کمک جاری تھی

جب منڈیروں پہ پرندوں کی کمک جاری تھی لفظ تھے لفظوں میں احساس کی سرداری تھی اب جو لوٹا ہوں تو پہچان نہیں ہوتی ہے کہاں دیوار تھی دیوار میں الماری تھی وہ حویلی بھی سہیلی تھی پہیلی جیسی جس کی اینٹوں میں مرے خواب تھے خودداری تھی آخری بار میں کب اس سے ملا یاد نہیں بس یہی یاد ہے اک ...

مزید پڑھیے

وہ نگہ جب مجھے پکارتی تھی

وہ نگہ جب مجھے پکارتی تھی دل کی حیرانیاں ابھارتی تھی اپنی نادیدہ انگلیوں کے ساتھ میرے بالوں کو وہ سنوارتی تھی روز میں اس کو جیت جاتا تھا اور وہ روز خود کو ہارتی تھی پتیاں مسکرانے لگتی تھیں شاخ سے پھول جب اتارتی تھی جن دنوں میں اسے پکارتا تھا ایک دنیا مجھے پکارتی تھی صحن میں ...

مزید پڑھیے

حجرہ خواب سے باہر نکلا

حجرہ خواب سے باہر نکلا کون یہ میرے برابر نکلا پھڑپھڑایا مرے باہر کوئی اور پرندہ مرے اندر نکلا آنکھ سے اشک نکل آئے ہیں ریت سے جیسے سمندر نکلا ہجر کو خواب میں دیکھا اک دن اور پھر خواب مقدر نکلا میرے پیچھے مری وحشت بھاگی میں جو دیوار گرا کر نکلا آنکھ بینائی گنوا بیٹھی تو تیری ...

مزید پڑھیے

گلی کا منظر بدل رہا تھا

گلی کا منظر بدل رہا تھا قدیم سورج نکل رہا تھا ستارے حیران ہو رہے تھے چراغ مٹی میں جل رہا تھا دکھائی دینے لگی تھی خوشبو میں پھول آنکھوں پہ مل رہا تھا گھڑے میں تسبیح کرتا پانی وضو کی خاطر اچھل رہا تھا شفیق پوروں کا لمس پا کر بدن صحیفے میں ڈھل رہا تھا دعائیں کھڑکی سے جھانکتی ...

مزید پڑھیے

ہمارے بس میں کیا ہے اور ہمارے بس میں کیا نہیں

ہمارے بس میں کیا ہے اور ہمارے بس میں کیا نہیں جہان ہست و بود میں کسی پہ کچھ کھلا نہیں حضور خواب دیر تک کھڑا رہا سویر تک نشیب قلب و چشم سے گزر ترا ہوا نہیں نظر میں اک چراغ تھا بدن میں ایک باغ تھا چراغ و باغ ہو چکے کوئی رہا رہا نہیں اجڑ گئیں حویلیاں چلی گئیں سہیلیاں دلا تری قبیل سے ...

مزید پڑھیے

صحن آئندہ کو امکان سے دھوئے جائیں

صحن آئندہ کو امکان سے دھوئے جائیں بانجھ ہے قریۂ جاں آئیے روئے جائیں اس سحر زادی کی پیشانی کو چومیں جھومیں خود میں خورشید بنیں شب میں پروئے جائیں گھڑیاں کاندھوں پہ رکھے یہ مرے پیڑ سے لوگ صبح سے شام تلک دھوپ کو ڈھوئے جائیں خواب دیرینہ کا منظر بھی عجب منظر ہے ہم تری گود میں ...

مزید پڑھیے

دل کی یاد دہانی سے

دل کی یاد دہانی سے آنکھ کھلی حیرانی سے رنگ ہیں سارے مٹی کے بے رنگے اس پانی سے حرف نگاری سیکھی ہے کمرے کی ویرانی سے پیڑ اجڑتے جاتے ہیں شاخوں کی نادانی سے داغ گریہ آنکھوں کا کب دھلتا ہے پانی سے ہار دیا ہے عجلت میں خود کو کس آسانی سے خوف آتا ہے آنکھوں کو بھید بھری عریانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3958 سے 6203