قومی زبان

یہاں ماحول کچھ ایسا ہوا ہے

یہاں ماحول کچھ ایسا ہوا ہے محبت لفظ تک رسوا ہوا ہے حکومت روشنی نے چھوڑ دی اب تبھی ظلمت ترا قبضہ ہوا ہے ہماری جیت پکی ہو گئی تھی ہمیں شک ہے کہیں دھوکہ ہوا ہے بڑھی ہے یوں تو مہنگائی وطن میں لہو اپنا مگر سستا ہوا ہے ترا مرہم تجھے ہی ہو مبارک کہ اس سے زخم اور گہرا ہوا ہے تمہیں ...

مزید پڑھیے

آؤ جینے کی باتیں کریں

آسماں کی طرح نارسائی کی چادر ہمارے سروں پر تنی ہے (جس میں دکھ کے ستارے ٹکے ہیں) اس کی جانب سے نظریں چرائیں آج کی رات سب بھول جائیں آؤ جینے کی باتیں کریں کون جانے کہ کیا ہے وفا کس نے ڈھونڈے سے پایا خدا ان جھمیلوں میں پڑنے سے کیا آؤ جینے کی باتیں کریں

مزید پڑھیے

خواب

سب ہی تعبیر کے تمنائی مجھ کو بس خواب دیکھنے کی ہوس خواب بھی جو ذرا اچھوتے ہوں اور کسی نے کبھی نہ دیکھے ہوں

مزید پڑھیے

قصہ خوانی بازار کی ایک شام

تساہل کی چادر لپیٹے ہوئے قصہ خوانی اک شام تھی ہم وہاں اپنی دن بھر کی اس جان لیوا تھکن سے نبرد آزما خوب قہووں پہ قہوے کے پیالے لنڈھاتے رہے اور اپنے بلند بانگ دعووں سے اور قہقہوں سے کہیں گھونسلوں میں چھپے تھک کے سوئے ہوئے نیم جاں طائروں کو جگاتے رہے اور گزرے زمانے کے پیروں فقیروں ...

مزید پڑھیے

کیا کہیے

چائے کی میز سے لگ کر میں کھڑا تھا خاموش وہ سموسوں سے بھری پلیٹ لیے پاس آئی اور پوچھا بہت آہستہ سے ''ناک کی کیل کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں'' عمر ہوگی کوئی چوبیس برس ڈیڑھ دو سال کا بیٹا تھا بہت پیارا سا جو کبھی گود میں ہوتا تو کبھی بھاگ کے آنگن میں چلا جاتا تھا ناک میں بائیں طرف کیل ...

مزید پڑھیے

استعارہ

استعارہ اداس راتوں کی تیرگی میں اگر کوئی نغمہ ریز طائر خود اپنی مرضی سے راہ بھولا ہوا پرندہ کہ جس کا ننھا سا دل محبت کے سارے جذبوں سے آشنا ہو کہ جس کے پر دکھ چکے ہوں لیکن وہ اڑ رہا ہو نئی فضاؤں کو ڈھونڈھتا ہو میں اس کو آواز دے رہا ہوں وہی تو ہے میرا استعارہ میں چاہتا ہوں کہ ساتھ ...

مزید پڑھیے

سوال

یہ ساری دنیا سوالیہ ہے ہر ایک چہرہ سوال اندر سوال ہے اور ہر ایک منظر سوال بن کر جواب کا منتظر کھڑا ہے اگر کوئی سامنے بھی آئے اور آ کے اک بات کا بھی ہم کو جواب دے دے تو در حقیقت جواب میں بھی نہ جانے کتنے سوال ہوں گے ہزار ہا نت نئے مسائل ہمیں ملیں گے کہ آج تک تو یہی ہوا ہے جواب ہی سے ...

مزید پڑھیے

اس دن

بسیں چلتی رہیں گی اپنے روٹوں پر ٹریلر یوں ہی بندر گاہ سے سامان لائیں گے جہازوں اور ٹرینوں کے شیڈیول اور ٹائم ٹیبل میں نہ کوئی فرق آئے گا نہ کوئی مسئلہ ہوگا دکانوں کارخانوں دفتروں میں حاضری معمول کی ہوگی ڈبل روٹی بنے گی اور تنوروں میں خمیری روغنی سادی سبھی اقسام کی روٹی لگے ...

مزید پڑھیے

خواہش

مجھے وہ خوف تھا کہ جس سے کوئی بھی بچا نہیں وہی تو اک سوال تھا کہ جس سوال کا جواب آج تک کسی کو بھی ملا نہیں بس اس کے جسم و جاں کے بے کنار پانیوں میں پیر نے کا بھوت سر پہ یوں سوار تھا اور ایسا انتظار تھا کہ ایک ایک پل جو کٹ رہا تھا بار تھا یہ سب جہان تھا فضول گرد تھا غبار تھا

مزید پڑھیے

ہوا سیراب کرتی ہے

زمینیں چاہئیں لمبا تعلق کاشت کرنے کو کہیں رہنے کو بسنے کو مگر میں تو تمہاری زندگی کے گرم موسم میں ہوا کا ایک جھونکا تھا ہوا بہتی ہوئی آتی ہے اپنے پانیوں میں جسم و جاں کے حبس کو غرقاب کرتی ہے ہوا پر گھر نہیں بنتے ہوا سے سانس آتی ہے ہوا سیراب کرتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 3950 سے 6203