قومی زبان

بنا کے توڑتی ہے دائرے چراغ کی لو

بنا کے توڑتی ہے دائرے چراغ کی لو بہا کے لے گئی مجھ کو کہاں شعور کی رو بنا چکا ہوں ادھورے مجسمے کتنے کہاں وہ نقش جو تکمیل فن کا ہو پرتو وہ موڑ میرے سفر کا ہے نقطۂ آغاز فریب خوردۂ منزل ہوئے جہاں رہرو لرزتے ہیں مری محروم خواب آنکھوں میں بکھر چکے ہیں جو خواب ان کے منتشر پرتو بھٹک ...

مزید پڑھیے

ہر اک کمال کو دیکھا جو ہم نے رو بہ زوال

ہر اک کمال کو دیکھا جو ہم نے رو بہ زوال سسک کے رہ گئی سینے میں آرزوئے کمال ہم اپنی ڈوبتی قدروں کے ساتھ ڈوب گئے ملے گی اب تو کتابوں میں بس ہماری مثال ہوئے انا کے دکھاوے سے لوگ سر افراز انا نے سر کو اٹھا کر کیا ہمیں پامال ذرا سی عمر میں کس کس کا حل تلاش کریں کھڑے ہیں راستہ روکے ...

مزید پڑھیے

ہے راہ رو کے ہوئے حادثات کی دیوار

ہے راہ رو کے ہوئے حادثات کی دیوار گرائے کون یہ گرد حیات کی دیوار سحر ہمارے مقدر سے دور ہوتی گئی بلند ہوتی گئی روز رات کی دیوار مٹے جو یہ حد فاصل تو آپ تک پہنچیں ہمارے بیچ میں حائل ہے ذات کی دیوار انا انا کے مقابل ہے راہ کیسے کھلے تعلقات میں حائل ہے بات کی دیوار نہ جانے کون سے ...

مزید پڑھیے

آرزوئیں کمال آمادہ

آرزوئیں کمال آمادہ زندگانی زوال آمادہ زندگی تشنۂ مجال جواب لمحہ لمحہ سوال آمادہ زخم کھا کر بپھر رہی ہے انا عاجزی ہے جلال آمادہ کیسے ہموار ہو نباہ کی راہ دل مخالف خیال آمادہ پھر کوئی نشتر آزما ہو جائے زخم ہیں اندمال آمادہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھیے رہ گزر ہے جدال آمادہ ہر ...

مزید پڑھیے

تھے مرے زخموں کے آئینے تمام

تھے مرے زخموں کے آئینے تمام داغ داغ آئے نظر سینے تمام سب نظر آتے ہیں چہرے گرد گرد کیا ہوئے بے آب آئینے تمام ایک منزل اور ہے اک جست اور آدمی طے کر چکا زینے تمام موت لے کر ایک آندھی آئی تھی کھو دیے انسان بستی نے تمام تازگی چہرے پہ اب تو لائیے پی لیا ہے زہر کیفیؔ نے تمام

مزید پڑھیے

تمام عالم سے موڑ کر منہ میں اپنے اندر سما گیا ہوں

تمام عالم سے موڑ کر منہ میں اپنے اندر سما گیا ہوں مجھے نہ آواز دے زمانہ میں اپنی آواز سن رہا ہوں تضاد ہستی کا فلسفہ ہوں عروج و پستی کا آئنا ہوں اٹھا ہوا اک غرور سر ہوں مٹا ہوا ایک نقش پا ہوں ہو کیا تعین مری حدوں کا شمار کیا میری وسعتوں کا ہزاروں عالم بسے ہیں مجھ میں میں بے حد و ...

مزید پڑھیے

گدھوں کا چیلنج

جو رہبر اقوام سے موسوم گدھے ہیں کم بخت وہ پیدائشی مظلوم گدھے ہیں آسائش و آرام سے محروم گدھے ہیں پبلک کی طرح جتنے بھی معصوم گدھے ہیں عزت ہے گدھوں کی نہ ٹھکانہ ہے گدھوں کا لیڈر یہی کہتا ہے زمانہ ہے گدھوں کا فطرت سگ خوں خوار کی انسان میں آئی غیروں سے محبت ہے تو اپنوں سے لڑائی خوئے ...

مزید پڑھیے

ادھوری اک کہانی چل رہی ہے

ادھوری اک کہانی چل رہی ہے مسلسل زندگانی چل رہی ہے لٹا دی جان ہم نے دوستوں پر روایت خاندانی چل رہی ہے کریں گے یار توبہ بعد میں اب ابھی تو نوجوانی چل رہی ہے بھروسہ بھائیوں پر کر رہا ہوں وصیت تک زبانی چل رہی ہے نئے کردار اس میں آ گئے ہیں مگر پکچر پرانی چل رہی ہے ہمارے خون کی قیمت ...

مزید پڑھیے

وفاؤں کا جو دعویٰ ہو رہا ہے

وفاؤں کا جو دعویٰ ہو رہا ہے بتاؤ کیا تماشا ہو رہا ہے مجھے سچی محبت کا گماں تھا یہاں پر بس دکھاوا ہو رہا ہے ہمیں سکھلا رہے ہیں گر سبھی کو ہمیں سے پھر چھلاوا ہو رہا ہے رقیبوں پر عنایت کر رہے ہو مرے غم کا مداوا ہو رہا ہے وہ سنتا ہی نہیں ہے شعر میرے ہنر اپنا یہ ضائع ہو رہا ہے بہت ...

مزید پڑھیے

عجب میں ہوں عجب ہی دل ہے جاناں

عجب میں ہوں عجب ہی دل ہے جاناں یہ پاگل تجھ پہ ہی مائل ہے جاناں جسے سب کہہ رہے ہیں اپنا رہبر وہی ہے ہاں وہی قاتل ہے جاناں یہاں حامی نہیں کوئی ہمارا یہ پورا شہر ہی بزدل ہے جاناں زمانے کے ستم ہیں بے تحاشا ترا غم ساتھ میں شامل ہے جاناں ہماری موت کا باعث بنے گا لبوں کے پاس جو اک تل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3949 سے 6203