قومی زبان

اٹھ کے در سے تمہارے اگر جائیں گے

اٹھ کے در سے تمہارے اگر جائیں گے تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے جاں دے دیں گے ہم پہ مر جائیں گے جاں نثاروں میں نام اپنا کر جائیں گے تیرے عاصی بھی ہیں تجھ سے الفت بھی ہے قہر بھی تیرا تیری رحمت بھی ہے تیرا دوزخ بھی ہے تیری جنت بھی ہے تو جدھر بھیج دے گا ادھر جائیں گے

مزید پڑھیے

ایک جھونکا یاد کا مجھ کو اڑا کر لے گیا

ایک جھونکا یاد کا مجھ کو اڑا کر لے گیا رنگ چہرے کے سبھی جیسے چرا کر لے گیا یہ تصور ہے ترا جیسے کوئی مانجھی صنم ہاتھ تھاما شہر تیرے یہ بٹھا کر لے گیا میں کسی ٹوٹے ہوئے سے پھول کی خوشبو جسے کوئی عاشق اس کی کاپی میں چھپا کر لے گیا فخر کے آنسو تھے اس دن ماں کی آنکھوں میں مری جب میں اس ...

مزید پڑھیے

آج موسم بڑا سہانا ہے

آج موسم بڑا سہانا ہے یاد آیا کوئی فسانہ ہے اشک ماضی شراب اور غزلیں ربط ان سے مرا پرانا ہے غربتوں کے یہ دور ہیں اچھے چاند تاروں پہ شامیانہ ہے یہ تری یاد ہے ترے جیسی کام ان کا مجھے ستانا ہے کھول دل کی گرہ ذرا تو بھی یہ تغافل تو بس بہانہ ہے دشت کو دشت رہنے دے انساں بے زباں کا یہ ...

مزید پڑھیے

یہ زمیں ہی مری چٹائی ہے

یہ زمیں ہی مری چٹائی ہے اور یہ آسماں رضائی ہے زندگی مت قریب کر اس کے موڑ پر ہی کھڑی جدائی ہے تم بدلتے بجا مگر کیسے دسترس ہی مری برائی ہے سانس بازاری ہوتی ہے پھر بھی کتنی لمبی دکاں جمائی ہے ظلم پر کیا زبان کھو لیں گے شہر یہ آج بے نوائی ہے مذہبوں کا نقاب اوڑھے پھر آگ تو نے کہاں ...

مزید پڑھیے

آسماں پر بٹھا دیا مجھ کو

آسماں پر بٹھا دیا مجھ کو اس سخن نے جھکا دیا مجھ کو داستاں زندگی کی اتنی ہے زندگی نے کھپا دیا مجھ کو چھاؤں میں جب گیا میں سستانے خواہشوں نے اٹھا دیا مجھ کو صبر کی چھت بچاتے ہیں کیسے آندھیوں نے سکھا دیا مجھ کو میں تھا بے فکر بیٹھ کشتی میں کشتی نے ہی ڈبو دیا مجھ کو فون پر تیری اس ...

مزید پڑھیے

جورو کا غلام

ہماری تھی جو پیاری سی مسہری وہ اب ساسو کی چاہت ہو گئی ہے جلے ہیں اس قدر اس بات سے ہم ہماری کالی رنگت ہو گئی ہے دہل جاتے ہیں بیوی کی گرج سے بس اب کچھ ایسی حالت ہو گئی ہے یوں چلاتی ہے بیوی روز ہم پہ کہ جیسے اس کی عادت ہو گئی ہے بنا لیتے ہیں ہم مسکین صورت ہمیں بھی اب مہارت مہارت ہو ...

مزید پڑھیے

شوہر نامہ

شوہر جی اٹھو گھر سے نکلو شادی کا سوگ منانا کیا جو ہونا تھا وہ ہو کے رہا اب دل کو اور جلانا کیا بیوی کی زبان درازی سے جھنجھلاتے ہو گھبراتے ہو جب شادی کر ہی بیٹھے ہو تو پھر اب شور مچانا کیا سب دوستوں کے اکسانے پر اٹھو تو سہی نکلو تو سہی جب اردو فلم ہی دیکھنی ہے تو شبنم کیا اور شبانہ ...

مزید پڑھیے

ہم کو تری طرف سے اشارہ نہیں ملا

ہم کو تری طرف سے اشارہ نہیں ملا آنکھیں ملیں مگر وہ نظارہ نہیں ملا ملنے کی آرزو تو رہی عمر بھر مجھے لیکن مجھے وہ شخص دوبارہ نہیں ملا ہم نے سفر تمام سمندر میں طے کیا افسوس ہے یہی کہ کنارہ نہیں ملا سودے جہاں ہوئے یہ اصول و ضمیر کے ہرگز وہاں نشان ہمارا نہیں ملا غم کی تجارتوں میں ...

مزید پڑھیے

ہر اک تکلیف سمجھی ہے تمہاری

ہر اک تکلیف سمجھی ہے تمہاری پھر اس کے بعد مرضی ہے تمہاری نہیں ثابت ہوئے کافر کبھی ہم پرستش اس طرح کی ہے تمہاری ہمارے بعد جاناں سچ بتاؤ کسی نے کیا خبر لی ہے تمہاری خزانہ عمر بھر خالی نہ ہوگا ابھی اک یاد بیچی ہے تمہاری مری آنکھیں نہ پڑھ پائے کبھی تم اماں ڈگری ہی فرضی ہے تمہاری

مزید پڑھیے

یہ سمجھایا ہے اس دل نے خدا ہی پر یقیں رکھو

یہ سمجھایا ہے اس دل نے خدا ہی پر یقیں رکھو تمہارا جو بھی سرمایہ ہو صاحب وہ تمہیں رکھو ہماری بادشاہی کے سنے ہوں گے کئی قصے کہ ہم ہر چیز دے دیں گے مگر کاسہ وہیں رکھو لبوں کو کر دیا ہے نام اس نے ان رقیبوں کے ہمیں یہ کہہ دیا آپ لو میری جبیں رکھو خدا جانے بہانہ تھا دلاسہ تھا کہ وعدہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3947 سے 6203