نہ وہ زمین میں تھا اور نہ آسمان میں تھا
نہ وہ زمین میں تھا اور نہ آسمان میں تھا کبھی یقیں میں مرے تھا کبھی گمان میں تھا میں ایک جال لئے عمر بھر بھٹکتا رہا پرندہ دور بہت دور آسمان میں تھا میں روز گھر سے نکلتا تھا ڈھونڈنے کے لئے مکین بن کے وہ خود میرے ہی مکان میں تھا میں کاش بند دریچے سے جھانک ہی لیتا وہ میرے کمرے کے ...