قومی زبان

نہ وہ زمین میں تھا اور نہ آسمان میں تھا

نہ وہ زمین میں تھا اور نہ آسمان میں تھا کبھی یقیں میں مرے تھا کبھی گمان میں تھا میں ایک جال لئے عمر بھر بھٹکتا رہا پرندہ دور بہت دور آسمان میں تھا میں روز گھر سے نکلتا تھا ڈھونڈنے کے لئے مکین بن کے وہ خود میرے ہی مکان میں تھا میں کاش بند دریچے سے جھانک ہی لیتا وہ میرے کمرے کے ...

مزید پڑھیے

انا کی آگ میں ہر لمحہ جل رہا ہوں میں

انا کی آگ میں ہر لمحہ جل رہا ہوں میں غذا مری ہے یہی اس میں پل رہا ہوں میں کبھی اس آگ کے سانچے میں ڈھل رہا ہوں میں کبھی یہ برف کہ جس میں پگھل رہا ہوں میں ہر ایک صبح افق سے نکل رہا ہوں میں شفق میں اپنی ہر اک شام ڈھل رہا ہوں میں ہر ایک موڑ پہ رستہ کچل رہا ہوں میں کہ اپنے قدموں سے خود ...

مزید پڑھیے

ایک منظر

سیرالیون کے سمگلرز ہیروں کی سمگلنگ پر باتیں کر رہے ہیں شمالی بلغاریہ کے علاقوں سے عمدہ قسم کا تمباکو آنے والا ہے لائٹ ٹاور کی سیڑھیوں کے نیچے جینز کی نیکر میں کوکین کی تھیلیاں چھپا کر میڈونا واپس جا چکی ہے بوڑھا لینوس بیٹھا ہے فوگ لائٹ کی پیلی روشنی میں لمحہ داڑھی کھجا رہا ...

مزید پڑھیے

دسمبر کی رات

آہنی درختوں سے سر پٹکتی ہوئی وہ ایک رات سیہ شبدوں سے ٹپکتی ہوئی دوشیزگی کے احساس سے بے نیاز کالے خون میں نہائی کنواری بیوہ کی مانند پیک دان کے جھاگ میں لت پت پڑی رہی جس کے نحیف گھٹنوں سے چپکے شکستہ سانسوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے تلخ اداسیوں کے میل کی دراڑوں پر کندہ سفر کی الجھنوں کے ...

مزید پڑھیے

ناامیدی نے یوں ستایا تھا

ناامیدی نے یوں ستایا تھا میں نے خود ہی دیا بجھایا تھا ایک بستی ہوئی وہیں آباد تم نے خیمہ جہاں لگایا تھا کچھ ہنر کی کمی تھی قاتل میں کچھ بزرگوں کا مجھ پہ سایا تھا مجھ کو داد وفا ملی اس سے جس نے اپنا بھی گھر لٹایا تھا اب ہوں قیدی اسی پری کا نعیمؔ جس نے ہر قید سے چھڑایا تھا

مزید پڑھیے

عشق کے باب میں کردار ہوں دیوانے کا

عشق کے باب میں کردار ہوں دیوانے کا میں نہ آغاز نہ انجام ہوں افسانے کا کچھ نہیں نقد جنوں اپنا بجز داغ الم یوں تو ہر ذرہ گہر تاب تھا ویرانے کا حسن بھی کہتے ہیں تنویر نظر کو کچھ لوگ شمع بھی نام ہے اس بزم میں پروانے کا شکر ہے تیری طلب جزو الم ہے ورنہ مجھ میں تھا حوصلہ جینے کا نہ مر ...

مزید پڑھیے

بچھڑیں تو شہر بھر میں کسی کو پتہ نہ ہو

بچھڑیں تو شہر بھر میں کسی کو پتہ نہ ہو تم کو بھی کچھ ملال ہمیں بھی گلا نہ ہو مجلس کہ خواب گاہ جہاں بھی نظر ملی ان کو یہی تھا خوف کوئی دیکھتا نہ ہو جن حادثوں کی آگ سے دامان دل جلا ممکن نہیں چراغ سخن بھی جلا نہ ہو میری غزل میں جیسا ترنم ہے سوز ہے اکثر ہوا گماں کہ اسی کی صدا نہ ہو ان ...

مزید پڑھیے

کسے بتاؤں کہ وحشت کا فائدہ کیا ہے

کسے بتاؤں کہ وحشت کا فائدہ کیا ہے ہوا میں پھول کھلانے کا قاعدہ کیا ہے پیمبروں نے کہا تھا کہ جھوٹ ہارے گا مگر یہ دیکھیے اپنا مشاہدہ کیا ہے تمام عمر کی زحمت کا اجر یہ دنیا یہ کس سے پوچھئے آخر معاہدہ کیا ہے سبھی خموش ہیں افسردگی کا دفتر ہیں کھلے تو کیسے کہ وہ حکم عائدہ کیا ہے اسی ...

مزید پڑھیے

رشک اپنوں کو یہی ہے ہم نے جو چاہا ملا

رشک اپنوں کو یہی ہے ہم نے جو چاہا ملا بس ہمیں واقف ہیں کیا مانگا خدا سے کیا ملا جس زمیں پہ میرا گھر تھا کیا محل اٹھا وہاں میں جو لوٹا ہوں تو خاک در نہ ہم سایہ ملا دیکھیے کب تک ملے انسان کو راہ نجات لاکھ برسوں میں تو ویراں چاند کا رستہ ملا ہر سفر اک آرزو ہے ورنہ سیر دشت میں کس کو ...

مزید پڑھیے

وہ جو درد تھا ترے عشق کا وہی حرف حرف سخن میں ہے

وہ جو درد تھا ترے عشق کا وہی حرف حرف سخن میں ہے وہی قطرہ قطرہ لہو بنا وہی ریزہ ریزہ بدن میں ہے وہ نسیم جانے کہاں گئی وہ گلاب جانے کدھر کھلے کوئی آگ پچھلی بہار کی مرے قلب میں نہ چمن میں ہے یہی وقت سیل رواں لیے مری کشتیوں کو ڈبو گیا کوئی لہر آب حیات کی ابھی گنگ میں نہ جمن میں ہے دم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3923 سے 6203