قومی زبان

آرزو تھی کہ ترا دہر بھی شہرا ہووے

آرزو تھی کہ ترا دہر بھی شہرا ہووے تیری نسبت سے غزل ہم سر زہرا ہووے کون دیتا ہے مجھے خواب کی مشعل ہر آن آس بن کر نہ وہی قلب میں ٹھہرا ہووے یہ نہ مہمان سرا ہے نہ ہوس کا کوچہ دل میں وہ شخص بسے آ کے جو گہرا ہووے موجۂ وقت میں روپوش ہے وہ ماہ تمام چاندنی ہووے جہاں یاد کا بجرا ...

مزید پڑھیے

میں جنم جنم کا انیس ہوں کسی طور دل میں بسا مجھے

میں جنم جنم کا انیس ہوں کسی طور دل میں بسا مجھے کوئی رنج ہے تو گمیں نہ ہو کوئی داغ ہے تو دکھا مجھے یہ تمام سبزۂ آب جو یہ تمام خیمۂ رنگ و بو ترے جس خیال کا عکس ہیں وہ خیال کر دے عطا مجھے جنہیں حرف جاں کی خبر نہیں وہ پڑھانے آئے کتاب جاں جنہیں کوئی علم وفا نہ تھا وہ سکھانے آئے وفا ...

مزید پڑھیے

وحشت جاں کو پیام نگہ ناز تو دو

وحشت جاں کو پیام نگہ ناز تو دو اس فسانے کو ذرا گرمئ آغاز تو دو میرے قدموں کے نشاں راہ سے کچھ دور سہی تم سے میں دور نہیں ہوں مجھے آواز تو دو دل میں طوفان نہیں ہو تو کرے کیا نغمہ میں سناتا ہوں یہی راگ مجھے ساز تو دو کوئی بنیاد نہیں قید تعلق کی ابھی جذبۂ غم کو ذرا فکر کا انداز تو ...

مزید پڑھیے

جادوئے خواب میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے

جادوئے خواب میں کچھ ایسے گرفتار ہوئے بارش سنگ ہوئی بھی تو نہ بیدار ہوئے جب تھے خوش حال بھلے لگتے تھے رشتے غم کے اب وہی رشتے مری جان کا آزار ہوئے جب تلک پاؤں میں وحشت تھی جنوں میں طاقت نہ کسی سائے میں بیٹھے نہ کبھی خار ہوئے میں نے جب گلف میں کچھ دولت و عزت پائی عالم فن بھی مرے حق ...

مزید پڑھیے

دل میں اترو گے تو اک جوئے وفا پاؤ گے

دل میں اترو گے تو اک جوئے وفا پاؤ گے موج در موج سمندر کا پتا پاؤ گے میں تو کھو جاؤں گا تنہائی جنگل میں کہیں تم بھرے گھر میں کہاں مجھ کو بھلا پاؤ گے دل سے بے ساختہ امڈے ہیں بڑھاؤ کف دست آج آنسو کو بھی ہم رنگ حنا پاؤ گے آگ ہی آگ سہی خواب میں جل کر دیکھو اس جہنم میں بھی جنت کی ہوا پاؤ ...

مزید پڑھیے

لطف آغاز ملا لذت انجام کے بعد

لطف آغاز ملا لذت انجام کے بعد حوصلہ دل کا بڑھا کوشش ناکام کے بعد اب خدا جانے تجھے بھی ہے تعلق کہ نہیں لوگ لیتے ہیں مرا نام ترے نام کے بعد مے کدہ تھا تو وہیں روز چلا جاتا تھا اب کہاں کوئی ٹھکانا ہے مرا شام کے بعد کوئی آیا ہی نہیں کوئے وفا تک ورنہ کچھ بھی مشکل نہیں یہ راہ دو اک گام ...

مزید پڑھیے

پیکر ناز پہ جب موج حیا چلتی تھی

پیکر ناز پہ جب موج حیا چلتی تھی قریۂ جاں میں محبت کی ہوا چلتی تھی ان کے کوچے سے گزرتا تھا اٹھائے ہوئے سر جذبۂ عشق کے ہم راہ انا چلتی تھی اک زمانہ بھی چلا ساتھ تو آگے آگے گرد اڑاتی ہوئی اک موج بلا چلتی تھی پردۂ فکر پہ ہر آن چمکتے تھے نجوم فرش تا عرش کوئی ماہ لقا چلتی تھی میں ہی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں بس رہا ہے ادا کے بغیر بھی

آنکھوں میں بس رہا ہے ادا کے بغیر بھی دل اس کو سن رہا ہے صدا کے بغیر بھی کھلتے ہیں چند پھول بیاباں میں بے سبب گرتے ہیں کچھ درخت ہوا کے بغیر بھی میں ہوں وہ شاہ بخت کہ دربار حسن میں چلتا ہے اپنا کام وفا کے بغیر بھی منصف کو سب خبر ہے مگر بولتا نہیں مجھ پر ہوا جو ظلم سزا کے بغیر ...

مزید پڑھیے

قصیدہ تجھ سے غزل تجھ سے مرثیہ تجھ سے

قصیدہ تجھ سے غزل تجھ سے مرثیہ تجھ سے ہر ایک حرف ہوا صاحب نوا تجھ سے زباں کشائی غم سے کھلی کتاب خیال ورق ورق پہ کھلا حسن مدعا تجھ سے زمیں میں پھوٹ پڑا چشمۂ جنوں ساماں گلوں میں سرد پڑی آتش قبا تجھ سے کہاں سے زود فراموشیوں کی خو سیکھی جو دیکھیے تو نہ تھی برق آشنا تجھ سے پہنچ تو ...

مزید پڑھیے

کوہ کے سینے سے آب آتشیں لاتا کوئی

کوہ کے سینے سے آب آتشیں لاتا کوئی اس نوائے آگہی کو ڈوب کر گاتا کوئی دیکھتا مستی کا سنگم لب ہے یا گفتار ہے جام سے میرے جو اپنا جام ٹکراتا کوئی بادلوں کی طرح آیا برق آسا چل دیا چاند کی مانند شب بھر تو ٹھہر جاتا کوئی حسن کا دل سے تعلق دائمی ہے گرم ہے ورنہ کس کا کس سے ہے رشتہ کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3924 سے 6203