آرزو تھی کہ ترا دہر بھی شہرا ہووے
آرزو تھی کہ ترا دہر بھی شہرا ہووے تیری نسبت سے غزل ہم سر زہرا ہووے کون دیتا ہے مجھے خواب کی مشعل ہر آن آس بن کر نہ وہی قلب میں ٹھہرا ہووے یہ نہ مہمان سرا ہے نہ ہوس کا کوچہ دل میں وہ شخص بسے آ کے جو گہرا ہووے موجۂ وقت میں روپوش ہے وہ ماہ تمام چاندنی ہووے جہاں یاد کا بجرا ...