آپ کی نظروں میں شاید اس لیے اچھا ہوں میں
آپ کی نظروں میں شاید اس لیے اچھا ہوں میں دیکھتا سنتا ہوں سب کچھ پھر بھی چپ رہتا ہوں میں اس لیے مجھ سے خفا رہتی ہے اکثر یہ زمیں آسماں کو سر پہ لے کر گھومتا پھرتا ہوں میں خاک میں ملنا ہی اشکوں کا مقدر ہے مگر کیا یہ کم ہے اس کی پلکوں پر ابھی ٹھہرا ہوں میں خار ہی کو ہو مبارک خار کی ...