قومی زبان

آپ کی نظروں میں شاید اس لیے اچھا ہوں میں

آپ کی نظروں میں شاید اس لیے اچھا ہوں میں دیکھتا سنتا ہوں سب کچھ پھر بھی چپ رہتا ہوں میں اس لیے مجھ سے خفا رہتی ہے اکثر یہ زمیں آسماں کو سر پہ لے کر گھومتا پھرتا ہوں میں خاک میں ملنا ہی اشکوں کا مقدر ہے مگر کیا یہ کم ہے اس کی پلکوں پر ابھی ٹھہرا ہوں میں خار ہی کو ہو مبارک خار کی ...

مزید پڑھیے

کبھی جب داستان گردش ایام لکھتا ہوں

کبھی جب داستان گردش ایام لکھتا ہوں تو پھر عنوان کی صورت میں اپنا نام لکھتا ہوں کبھی آغاز لکھتا ہوں کبھی انجام لکھتا ہوں اسیران محبت کی جو صبح و شام لکھتا ہوں جلانے لگتی ہے جب شدت تشنہ لبی مجھ کو تری آنکھوں کو مے خانہ نظر کو جام لکھتا ہوں کسی پر کس لیے تہمت رکھوں خانہ خرابی ...

مزید پڑھیے

کل تلک جو تھا تصور انجمن آرائیوں کا

کل تلک جو تھا تصور انجمن آرائیوں کا وہ مقدر بن گیا ہے اب مری تنہائیوں کا زندگانی پھر بکھرنے ٹوٹنے والی ہے شاید اے زمیں پھر آ گیا موسم تری انگڑائیوں کا اس جہاں میں آج جس کے سر پہ تاج خسروی ہے سارا قصہ بس اسی کے نام ہے دانائیوں کا آدمی مجھ کو بنایا ہے انہی رسوائیوں نے ہے ازل سے ...

مزید پڑھیے

نہ دیکھیں کمتری اب کم‌ تروں کی

نہ دیکھیں کمتری اب کم‌ تروں کی اسی میں بہتری ہے بہتروں کی کرو تم لاکھ آرائش گھروں کی ضرورت کم نہ ہوگی مقبروں کی یہاں تھک جائے نہ نیزہ تمہارا مری بستی ہے بستی خود سروں کی سیاست نے پڑھا رہزن کا کلمہ بڑی ذلت ہوئی ہے رہبروں کی چمن کو یہ نیا موسم مبارک اڑے گی فاختہ اب بے پروں ...

مزید پڑھیے

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ اور انا کاہے کو رکھ چھوڑی ہے بیوپار کے بیچ اس گھڑی عدل کی زنجیر کہاں ہوتی ہے جب کنیزوں کو چنا جاتا ہے دیوار کے بیچ شہر ہوتا ہے ستاروں کے لہو سے روشن طشت میں سر بھی پڑے ہوتے ہیں دربار کے بیچ کبھی اس راہ میں پھل پھول لگا کرتے تھے اب لہو کاٹتے ...

مزید پڑھیے

مت سمجھنا کہ صرف تو ہے یہاں

مت سمجھنا کہ صرف تو ہے یہاں ایک سے ایک خوب رو ہے یہاں پر ہے بازار حسن چہروں سے جانے کس کس کی آبرو ہے یہاں کیسے آباد ہو یہ ویرانہ وحشت کذب چار سو ہے یہاں آنکھ کی پتلیوں کو غور سے دیکھ تیری تصویر ہو بہو ہے یہاں کیسے تاریخ لکھی جائے گی صرف تلوار اور گلو ہے یہاں تو کہاں ہے خبر نہیں ...

مزید پڑھیے

امارت ہو کہ غربت بولتی ہے

امارت ہو کہ غربت بولتی ہے بہ ہر صورت شرافت بولتی ہے وہاں بازار کا ہوتا ہے منظر جہاں گھر کی ضرورت بولتی ہے زباں خاموش ہی رہتی ہے لیکن مرے چہرے کی رنگت بولتی ہے بظاہر گفتگو ہے مخلصانہ مگر دل میں کدورت بولتی ہے وہ پتھر موم بن جائے نہ کیسے کہ سر چڑھ کے محبت بولتی ہے زبان علم پر ...

مزید پڑھیے

پیار کا یوں دستور نبھانا پڑتا ہے

پیار کا یوں دستور نبھانا پڑتا ہے قاتل کو سینے سے لگانا پڑتا ہے دنیا کو پر نور بنانے کی خاطر اپنے گھر کو آگ لگانا پڑتا ہے بت خانے یوں ہی تعمیر نہیں ہوتے پتھر کو بھگوان بنانا پڑتا ہے دنیا داری کی خاطر اس دنیا کا جانے کیا کیا ناز اٹھانا پڑتا ہے اپنے قاتل کی معصوم نگاہوں سے دل کا ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں کہ کیا ہوں میں

کیا کہوں کہ کیا ہوں میں سنگ بے صدا ہوں میں درد لا دوا ہوں میں آہ نارسا ہوں میں درد کی دوا ہوں میں پیار کی صدا ہوں میں جس کی ابتدا ہو تم اس کی انتہا ہوں میں خود ہی راہ رو بھی ہوں خود ہی رہنما ہوں میں سوچنا فضول ہے پھر بھی سوچتا ہوں میں ان پہ ہے نظر میری خود کو دیکھتا ہوں ...

مزید پڑھیے

وقت بھی تیور بدلتا جائے گا

وقت بھی تیور بدلتا جائے گا دل بھی اپنی چال چلتا جائے گا رفتہ رفتہ عمر ڈھلتی جائے گی آئنے کا رخ بدلتا جائے گا جذبۂ ایثار دل میں ہو اگر مسئلوں کا حل نکلتا جائے گا دوریاں بھی قرب بنتی جائیں گی چاند میرے ساتھ چلتا جائے گا آپ کو ملتی رہے گی روشنی دل ہمارا یوں ہی جلتا جائے گا خون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 388 سے 6203