مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھا
مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھا چین جبیں بن ایک گل اب کی ہنسا نہ تھا جب لگ میں صبح حسن بتوں سے ملا نہ تھا دل ہوئے گل سا ہات سے میرے گیا نہ تھا کیا کی وفا کہ موج گہر سا ہے سر سے بند خنجر جز ایک دم کا مرا آشنا نہ تھا جا کر فنا کے اس طرف آسودہ میں ہوا میں عالم عدم میں بھی دیکھا مزا نہ ...