قومی زبان

مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھا

مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھا چین جبیں بن ایک گل اب کی ہنسا نہ تھا جب لگ میں صبح حسن بتوں سے ملا نہ تھا دل ہوئے گل سا ہات سے میرے گیا نہ تھا کیا کی وفا کہ موج گہر سا ہے سر سے بند خنجر جز ایک دم کا مرا آشنا نہ تھا جا کر فنا کے اس طرف آسودہ میں ہوا میں عالم عدم میں بھی دیکھا مزا نہ ...

مزید پڑھیے

جب سے دلبر نے آنکھ پھیرا ہے

جب سے دلبر نے آنکھ پھیرا ہے مجھ کو دوران سر نے گھیرا ہے کوچۂ زلف نت اندھیرا ہے وہاں سیہ بخت دل کا ڈیرا ہے وجد میں ہیں دوانے ابر کو دیکھ لیلیٰٔ فصل گل کا ڈیرا ہے یکہ آزاد ہے دو عالم سے جو کہ بے دام تیرا چیرا ہے گال پر ہے کسی کے کاٹ کا نقش منہ پہ زلفیں تبھی بکھیرا ہے نت بکے ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کفر مومن ہے نہ کرنا دلبراں سے اختلاط

کفر مومن ہے نہ کرنا دلبراں سے اختلاط کر لیا کعبے نے بھی کے دن بتاں سے اختلاط بندہ اس بلبل کا ہوں جو بوئے گل کے واسطے گرم رکھے ہائے ہر خار خزاں سے اختلاط خاکساروں کی ہے الفت رہروان عشق سے جیسے گرد راہ کا ہے کارواں سے اختلاط کیوں نہ ہووے پختہ و بر جستہ روشن دل کا شعر دود و شعلے سا ...

مزید پڑھیے

یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے

یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہے گل سیر چمن کر گئے اب خار کی باری ہے زاہد نے عبادت چھوڑ اس زلف سے الجھا ہے تسبیح کی شیخی گئی زنار کی باری ہے اس کاکل مشکیں کی بو ہوئی ہے پریشاں آ سب شہر ختن لٹ گئے تاتار کی باری ہے گلشن میں خراماں ہو اب برقعہ اٹھایا ہے سب گر گیا سروستاں گل زار ...

مزید پڑھیے

خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کے

خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کے ہمارے دل کباب اور تو پئے پیالے رقیبوں کے خزاں میں برگ گل اور خار و خس نہیں صحن گلشن میں پڑے ہیں لخت دل اور ٹوٹے نالے عندلیبوں کے بہار آئی دوانو سنتے ہو بلبل کی فریادیں یہ آوازے ہیں فوج موسم گل کے نقیبوں کے الٰہی دے نگاہ لطف خوش چشموں ...

مزید پڑھیے

پھونک دے ہے منہ ترا ہر صاف دل کے تن میں آگ

پھونک دے ہے منہ ترا ہر صاف دل کے تن میں آگ سامنے خورشید کے لگتی ہے جو درپن میں آگ تجھ سے اے بلبل زیادہ گل میں ہے تاثیر عشق دل میں خوں لب پر ہنسی ہے اس کے پیراہن میں آگ اہل زر ساز رعونت سے ہوویں گے دوزخی ڈالتے ہیں شمع کی اول رگ گردن میں آگ کوہ کن لالہ سے خوں تیرا ہے جوشاں بعد سال بے ...

مزید پڑھیے

ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کا

ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کا ڈر ہے اس خنجر مژگاں کے پھسل جانے کا نبض زنجیر کے ہلنے سے چھٹے ہے عاشق بو الہوس کہوے ہوا شوق نکل جانے کا گرچہ وہ رشک چمن مجھ سے ہے باغی لیکن آتش گل سے ہے خوف اس کے کمہل جانے کا تلخ لگتا ہے اسے شہر کی بستی کا سواد ذوق ہے جس کو بیاباں کے نکل ...

مزید پڑھیے

مجھ قبر سے یار کیونکے جاوے

مجھ قبر سے یار کیونکے جاوے ہے شمع مزار کیونکے جاوے رہتا ہے رقیب نت تیرے سنگ چھاتی کا پہاڑ کیونکے جاوے حیراں ہوئے بسکہ منہ تیرا دیکھ گلشن سے بہار کیونکے جاوے ہے ہجر کی رات سنسناتی ناگن سے پھنکار کیونکے جاوے نت ہے مرا کینہ اس کے دل میں پتھر سے شرار کیونکے جاوے کس وجہ اٹھے وہ ...

مزید پڑھیے

ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیں

ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیں تو گالی دے دعاؤں میں محبت اس کو کہتے ہیں نہیں غم حشر کا ہر چند آفت اس کو کہتے ہیں پھروں یاروں کا منہ دیکھوں قیامت اس کو کہتے ہیں مرے سیلاب اشکوں میں بہے دنیا، پہ جوں سایا نہ سرکا میں جگہ سے استقامت اس کو کہتے ہیں عطا کر سیم شبنم جوں ...

مزید پڑھیے

نین میں خوں بھر آیا دل میں خار غم چھپا شاید

نین میں خوں بھر آیا دل میں خار غم چھپا شاید ہوا اس دم وہ تیغ ابرو کسی سے آشنا شاید گلے لگتا تھا ہر گرد ہوا اورد سے مجنوں کہ خاک کوچۂ لیلیٰ لے آئی ہو صبا شاید قیامت پا نمک ہے غل دوانوں کا گلستاں میں انہوں کے زخم دل پر شور بلبل جا گرا شاید ہمارے ہاتھ اک مو گئی نئیں اور پیچ کھاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 389 سے 6203