قومی زبان

ہو خدا کا کرم ارادوں پر

ہو خدا کا کرم ارادوں پر جی رہے ہیں کسی کے وعدوں پر زندگی کو بنا دیا ہے چمن پھول برسیں تمہاری یادوں پر اصلیت کیا ہے یہ خدا جانے زندہ اب تک ہیں اعتقادوں پر پاس آ کر گریز کرتے ہو ظلم ہے یہ مری مرادوں پر چھن گئے تخت بادشاہوں کے تنگ دنیا ہے شاہ زادوں پر مل کے سب امن و چین سے ...

مزید پڑھیے

اشک غم وہ ہے جو دنیا کو دکھا بھی نہ سکوں

اشک غم وہ ہے جو دنیا کو دکھا بھی نہ سکوں اور گر جائے زمیں پر تو اٹھا بھی نہ سکوں یہ مرے غم کا فسانہ ہے رہے گا لب پر تیری روداد نہیں ہے کہ سنا بھی نہ سکوں پرتو حسن ہوں اس واسطے محدود ہوں میں حسن ہو جاؤں تو دنیا میں سما بھی نہ سکوں تیز کچھ وقت کی رفتار نہیں ہے لیکن تم اگر ساتھ نہ دو ...

مزید پڑھیے

دل شادماں ہو خلد کی بھی آرزو نہ ہو

دل شادماں ہو خلد کی بھی آرزو نہ ہو گر تو ملے خدا کی مجھے جستجو نہ ہو آنکھیں تجھے نہ پائیں تو کچھ بھی نہ پا سکیں گر تو نہ ہو تو کچھ بھی مرے روبرو نہ ہو چبھتی ہوئی کہے ہے زباں سے ہر ایک بات تو خوب ہے جو تلخ تری گفتگو نہ ہو اٹھتی نہیں نگاہ بھی اے دل ترے سبب کس سے مجھے شکست ہو دشمن جو ...

مزید پڑھیے

ساقیا یہ جو تجھ کو گھیرے ہیں

ساقیا یہ جو تجھ کو گھیرے ہیں ان میں کچھ رند کچھ لٹیرے ہیں اپنی تہذیب کھا رہی ہے ہمیں سانپ کے منہ میں خود سپیرے ہیں جس نے بخشے ہیں پھول گلشن کو اس نے کچھ خار بھی بکھیرے ہیں کل جو طوفان تھا سمندر میں اس کے اب ساحلوں پہ ڈیرے ہیں تیرے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہم اگر ہیں تو صرف تیرے ...

مزید پڑھیے

کیا کہیں کیوں کر ہوا طوفان میں پیدا قفس

کیا کہیں کیوں کر ہوا طوفان میں پیدا قفس موج جب بل کھا کے اٹھی بن گیا دریا قفس زندگی غم کا بدل ہے آرزوئیں یاس کا آسماں صیاد ہم قیدی ہیں اور دنیا قفس دل کے حق میں سینہ زنداں آرزو کے حق میں دل سیکڑوں دیکھے ہیں لیکن یہ نیا دیکھا قفس دن اسیری کے بہ ہر صورت گزارے جائیں گے ایک قیدی کے ...

مزید پڑھیے

کوئے جاناں میں نہیں کوئی گزر کی صورت

کوئے جاناں میں نہیں کوئی گزر کی صورت دل اڑا پھرتا ہے ٹوٹے ہوئے پر کی صورت ہم تو منزل کے طلب گار تھے لیکن منزل آگے بڑھتی ہی گئی راہ گزر کی صورت وہ رہیں سامنے میرے تو تسلی ورنہ دل بھی کمبخت بھٹکتا ہے نظر کی صورت روح افسردہ پریشان خیالات میں گم ایسی پہلے کبھی دیکھی تھی بشر کی ...

مزید پڑھیے

یہ اور بات ہے ہر شخص کے گماں میں نہیں

یہ اور بات ہے ہر شخص کے گماں میں نہیں زمیں کہاں ہے جو آغوش آسماں میں نہیں ضیا فراز جہاں ہیں ہزار ماہ و نجوم چراغ کوئی مگر میرے آشیاں میں نہیں وفور عشق کی نیرنگیاں ارے توبہ جو دل میں درد ہے وہ دل کی داستاں میں نہیں تم اپنا تیر ادا میری روح میں ڈھونڈو ان ابروؤں کی لچکتی ہوئی کماں ...

مزید پڑھیے

سکون دل کے لئے اور قرار جاں کے لئے

سکون دل کے لئے اور قرار جاں کے لئے تمہارا نام ہے کافی مری زباں کے لئے جو پر ہے جام تو کچھ خوف حادثات نہیں ہمارے پاس بھی بجلی ہے آسماں کے لئے خموشئ رہ منزل سے یہ ہوا ثابت کہ منزلیں بھی ترستی ہیں کارواں کے لئے مثال شمس و قمر گردشوں میں رہتے ہیں خدا نے جن کو بنایا ہے آسماں کے ...

مزید پڑھیے

آہ زنداں میں جو کی چرخ پہ آواز گئی

آہ زنداں میں جو کی چرخ پہ آواز گئی پر گئے پر نہ مری خواہش پرواز گئی یاد اتنا ہے مرے لب پہ فغاں آئی تھی پھر خدا جانے کہاں دل کی یہ آواز گئی میں نے انجام سے پہلے نہ پلٹ کر دیکھا دور تک ساتھ مرے منزل آغاز گئی موت جس راہ میں گھبرا کے قدم رکھتی تھی زندگی اپنی وہاں بھی بصد انداز ...

مزید پڑھیے

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی گڑھ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی کیوں دل کی آگ لے نہ خبر دور دور کی کوندی ہے ہر دماغ میں بجلی فتور کی ہر ظلم پر کیا ہے زمانے سے احتجاج کچھ بھی نہ بن پڑا تو مذمت ضرور کی تعمیر کا تو وقت ہے تخریب کا جنوں اب بھی ہے آدمی کو ضرورت شعور کی اے شام غم کی گہری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3878 سے 6203