قومی زبان

تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے

تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے دنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہے ہاں جانتے ہیں جان کا خواہاں تمہیں کو ہم معلوم ہے کہ تیغ تمہاری کمر میں ہے کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے گو غیر کی بغل میں سہی وہ پری جمال میں تو یہی کہوں گا کہ میری نظر میں ...

مزید پڑھیے

ستم تیر نگاہ دل ربا تھا

ستم تیر نگاہ دل ربا تھا ہمارے حق میں پیغام قضا تھا ہوا اچھا کہ وہ گھر سے نہ نکلے کسے معلوم کس کے دل میں کیا تھا مجھے وہ یاد کرتے ہیں یہ کہہ کر خدا بخشے نہایت باوفا تھا امید وصل کی حالت نہ پوچھو فقط اک آسرا ہی آسرا تھا بہت اچھا ہوا وہ لے گئے دل بڑا ضدی نہایت بے وفا تھا نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوں

وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوں کیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوں اپنے بیمار محبت کا مداوا نہ ہوا اور پھر اس پہ یہ دعویٰ کہ مسیحا میں ہوں عکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں آپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں کہتے ہیں وصل میں سینے سے لپٹ کر میرے سچ کہو دل تمہیں ...

مزید پڑھیے

وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا

وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گا تو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گا خبر نہ تھی کہ مٹیں گے جوان ہوتے ہی اجل کا بھیس بدل کر شباب آئے گا پڑے گا عکس جو ساقی کی چشم میگوں کا نظر شراب میں جام شراب آئے گا ہزار حیف کہ سر نامہ بر کا آیا ہے سمجھ رہے تھے کہ خط کا جواب آئے گا کلیم ہاں دل بیتاب کو ...

مزید پڑھیے

شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا

شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا کہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہا کہے گی حشر کے دن اس کی رحمت بے حد کہ بے گناہ سے اچھا گناہگار رہا ترا خیال بھی کس درجہ شوخ ہے اے شوخ کہ جتنی دیر رہا دل میں بے قرار رہا شراب عشق فقط اک ذرا سی چکھی تھی بڑا سرور گھٹا مدتوں خمار رہا انہیں غرض انہیں مطلب ...

مزید پڑھیے

بہت کٹھن ہے ڈگر تھوڑی دور ساتھ چلو

بہت کٹھن ہے ڈگر تھوڑی دور ساتھ چلو نئی ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلو حیات بکھری ہوئی ہے سمیٹ لینے دو میں سی لوں چاک جگر تھوڑی دور ساتھ چلو ابھی تو دور ہے منزل اداس رستے ہیں ابھی نہ پھیرو نظر تھوڑی دور ساتھ چلو خمار عشق ہے باقی رگ شکستہ میں نشہ یہ جائے اتر تھوڑی دور ساتھ چلو نہ ...

مزید پڑھیے

دوستوں سے تو کنارا بھی نہیں کر سکتا

دوستوں سے تو کنارا بھی نہیں کر سکتا ان کا ہر ظلم گوارا بھی نہیں کر سکتا میرا دشمن مرے اپنوں میں چھپا بیٹھا ہے اس کی جانب میں اشارا بھی نہیں کر سکتا شب میں نکلے گا نہیں اس پہ مسلط ہے نظام دن میں سورج کا نظارا بھی نہیں کر سکتا عیش و عشرت کا طلب گار نہیں ہوں پھر بھی تنگ دستی میں ...

مزید پڑھیے

اپنے کہتے ہیں کوئی بات تو دکھ ہوتا ہے

اپنے کہتے ہیں کوئی بات تو دکھ ہوتا ہے ہنس کے کرتے ہیں اشارات تو دکھ ہوتا ہے جن سے منسوب مرے دل کی ہر اک دھڑکن ہو وہ نہ سمجھیں مرے جذبات تو دکھ ہوتا ہے مجھ کو محروم کیا تم نے گلا کوئی نہیں ہوں جو غیروں پہ عنایات تو دکھ ہوتا ہے جسم و جاں جن کے لیے ہم نے لٹا ڈالے ہوں چھوڑ جائیں جو ...

مزید پڑھیے

پھر اندھیری راہ میں کوئی دیا مل جائے گا

پھر اندھیری راہ میں کوئی دیا مل جائے گا تم اکیلے گھر سے نکلو قافلہ مل جائے گا تنگ ظرفی خشک کر ڈالے گی دریا دیکھ لے ہم کو کیا کوئی سمندر دوسرا مل جائے گا کر رہا ہوں میں تعاقب گردش ایام کا اک نہ اک دن زندگی تیرا پتا مل جائے گا آندھیو آ جاؤ کھل کر میں چراغ طور ہوں مجھ سے ٹکرانے کا ...

مزید پڑھیے

راس آئی نہ مجھے انجمن آرائی بھی

راس آئی نہ مجھے انجمن آرائی بھی آفت جان بنی ہائے شناسائی بھی دشمنوں کی مرے اوقات کہاں تھی اتنی سازش قتل میں شامل تھا مرا بھائی بھی آنکھ اندھی تھی زمانے سے یہاں لوگوں کی مر گئی زیر دہن قوت گویائی بھی تجھ سے نسبت ہو کوئی سنگ ملامت کی اگر مجھ کو پیاری ہے ترے شہر میں رسوائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3877 سے 6203