تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے
تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہے دنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہے ہاں جانتے ہیں جان کا خواہاں تمہیں کو ہم معلوم ہے کہ تیغ تمہاری کمر میں ہے کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے گو غیر کی بغل میں سہی وہ پری جمال میں تو یہی کہوں گا کہ میری نظر میں ...