قومی زبان

حیران سارا شہر تھا جس کی اڑان پر

حیران سارا شہر تھا جس کی اڑان پر پنچھی وہ پھڑ پھڑا کے گرا سائبان پر شاید اسی سے ذہن کا جنگل مہک اٹھے لفظوں کے گل کھلائیے شاخ زبان پر کس دل کی راکھ جزو‌ رگ سنگ ہو گئی سورج مکھی کا پھول کھلا ہے چٹان پر اک دن اسے زمیں کی کشش کھینچ لائے گی کب تک رہے گا تیرا خیال آسمان پر آواز کی مہک ...

مزید پڑھیے

اترنے والی دکھوں کی برات سے پہلے

اترنے والی دکھوں کی برات سے پہلے چراغ بانٹ دو بستی میں رات سے پہلے یوں ہی ملے گا نہ آب حیات کا چشمہ گزرنا ہوگا لہو کی فرات سے پہلے بشر جو آج ہے تہذیب و ارتقا کا امیں فقط درندہ تھا عرفان ذات سے پہلے ہمی نے موت کی تردید میں زباں کھولی ہمیں نے پیار کیا ہے حیات سے پہلے وہاں تو بات ...

مزید پڑھیے

پھر فضا دھندلا گئی آثار ہیں طوفان کے

پھر فضا دھندلا گئی آثار ہیں طوفان کے کانپتے ہیں پھول کمرے میں مرے گلدان کے چل رہے ہیں دل میں نخلستان کا ارماں لیے ہم مسافر زندگی کے تپتے ریگستان کے سیل غم رکھتا ہے یوں میرے ارادوں کو جواں جس طرح سیلاب میں پھلتے ہیں پودے دھان کے توڑ دے گا اک نہ اک دن یہ طلسم اوہام کا صاف دیتے ...

مزید پڑھیے

سر تا بہ قدم خون کا جب غازہ لگا ہے

سر تا بہ قدم خون کا جب غازہ لگا ہے تب زخم کی گہرائی کا اندازہ لگا ہے یہ رات کا جنگل یہ خموشی یہ اندھیرا پتہ بھی جو کھڑکا ہے تو آوازہ لگا ہے معلوم نہیں میرا کھلا دشت کہاں ہے صحرا کا خلا بھی مجھے دروازہ لگا ہے احسان یہ کچھ کم تو نہیں گل بدنوں کا جو زخم ہے سینے پہ گل تازہ لگا ...

مزید پڑھیے

کیا گل کھلائے دیکھیے تپتی ہوئی ہوا

کیا گل کھلائے دیکھیے تپتی ہوئی ہوا مسموم ہو گئی ہے مہکتی ہوئی ہوا یہ چیتھڑوں میں پھول یہ سرگرم کار لوگ یہ دوپہر کی دھوپ یہ جلتی ہوئی ہوا زندہ وہی رہے گا جسے ہو شعور زیست کہتی ہے روز رنگ بدلتی ہوئی ہوا بادل گھرے تو اور بھی شعلہ فشاں ہوئی پھولوں کی پتیوں کو جھلستی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اس کا نہیں ہے غم کوئی، جاں سے اگر گزر گئے

اس کا نہیں ہے غم کوئی، جاں سے اگر گزر گئے دکھ کی اندھیری رات میں ہم بھی چراغ دھر گئے شان و شکوہ کیا ہوئے، قیصر و جم کدھر گئے تخت الٹ الٹ گئے، تاج بکھر بکھر گئے فکر معاش نے سبھی جذبوں کو سرد کر دیا سڑکوں پہ دن گزر گیا ہو کے نڈھال گھر گئے لپٹے رہے تمام رات پھول کی پتیوں کے ...

مزید پڑھیے

پھر جدا ہونے کا منظر آ گیا ہے

پھر جدا ہونے کا منظر آ گیا ہے اور شب ہجراں مرا گھر آ گیا ہے شہر میں پھر برف باری ہو رہی ہے آ بھی جاؤ اب دسمبر آ گیا ہے سولیاں سنسان ہوتی جا رہی تھیں دار کی خاطر مرا سر آ گیا ہے کیا کہوں کیوں تیرے اندر آ گیا ہوں چار دیواری ترا در آ گیا ہے میری انگلی کو پکڑ کر میرا بچہ میرے قامت کے ...

مزید پڑھیے

کھو جاتے ہیں دریا مٹی پیاسی رہ جاتی ہے

کھو جاتے ہیں دریا مٹی پیاسی رہ جاتی ہے صدیوں رہنے والی زرد اداسی رہ جاتی ہے آنکھ کے پیچھے کیا ہوتا ہے علم نہیں ہو سکتا فنکاروں کی آخر روپ شناسی رہ جاتی ہے کھل کر اپنے عشق کا ہم نے تو اظہار کیا ہے گھٹ کر رہ جائے تو چاہت باسی رہ جاتی ہے دوپہروں کو جاگتی رہتی ہے سایوں کی صورت دن ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3857 سے 6203