قومی زبان

اس دشت سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے

اس دشت سخن میں کوئی کیا پھول کھلائے چمکی جو ذرا دھوپ تو جلنے لگے سائے سورج کے اجالے میں چراغاں نہیں ممکن سورج کو بجھا دو کہ زمیں جشن منائے مہتاب کا پرتو بھی ستاروں پہ گراں ہے بیٹھے ہیں شب تار سے امید لگائے ہر موج ہوا شمع کے در پے ہے ازل سے دل سے کہو لو اپنی ذرا اور بڑھائے کس ...

مزید پڑھیے

پندار زہد ہو کہ غرور برہمنی

پندار زہد ہو کہ غرور برہمنی اس دور بت شکن میں ہے ہر بت شکستنی صرصر چلے کہ تند بگولوں کا رقص ہو موج نمو رواں ہے تو ہر گل شگفتنی گل‌‌ چین و گل فروش کی خاطر ہے فصل گل اور قسمت جنوں ہے فقط چاک دامنی دیوار ابر کھینچیے کرنوں کی راہ میں ذروں میں قید کیجیئے سورج کی روشنی موج نفس سے ...

مزید پڑھیے

جب تک زمیں پہ رینگتے سائے رہیں گے ہم

جب تک زمیں پہ رینگتے سائے رہیں گے ہم سورج کا بوجھ سر پہ اٹھائے رہیں گے ہم کھل کر برس ہی جائیں کہ ٹھنڈی ہو دل کی آگ کب تک خلا میں پاؤں جمائے رہیں گے ہم جھانکے گا آئینوں سے کوئی اور جب تلک ہاتھوں میں سنگ و خشت اٹھائے رہیں گے ہم اک نقش پا کی طرح سہی اس زمین پر اپنی بھی ایک راہ بنائے ...

مزید پڑھیے

منزل کے خواب دیکھتے ہیں پاؤں کاٹ کے

منزل کے خواب دیکھتے ہیں پاؤں کاٹ کے کیا سادہ دل یہ لوگ ہیں گھر کے نہ گھاٹ کے اب اپنے آنسوؤں میں ہیں ڈوبے ہوئے تمام آئے تھے اپنے خون کا دریا جو پاٹ کے شہر وفا میں حق نمک یوں ادا ہوا محفل میں ہیں لگے ہوئے پیوند ٹاٹ کے کھنچتی تھی جن کے خوف سے سد سکندری سوئے نہیں ہیں آج وہ دیوار چاٹ ...

مزید پڑھیے

ہو چکی اب شاعری لفظوں کا دفتر باندھ لو

ہو چکی اب شاعری لفظوں کا دفتر باندھ لو تنگ ہو جائے زمیں تو اپنا بستر باندھ لو دوش پر ایمان کی گٹھری ہو سر ہو یا نہ ہو پیٹ خالی ہیں تو کیا پیٹوں پہ پتھر باندھ لو عافیت چاہو تو جھک جاؤ سر پا پوش وقت پھر یہ دستار فضیلت اپنے سر پر باندھ لو قاضی الحاجات سے اک عہد باندھا تھا تو کیا اب ...

مزید پڑھیے

کیا کیا نہ زندگی کے فسانے رقم ہوئے

کیا کیا نہ زندگی کے فسانے رقم ہوئے لیکن جو حاصل غم دل تھے وہ کم ہوئے اے تشنگیٔ درد کوئی غم کوئی کرم مدت گزر گئی ہے ان آنکھوں کو نم ہوئے ملنے کو ایک اذن تبسم تو مل گیا کچھ دل ہی جانتا ہے جو دل پر ستم ہوئے دامن کا چاک چاک جگر سے نہ مل سکا کتنی ہی بار دست و گریباں بہم ہوئے کس کو ہے ...

مزید پڑھیے

دستک ہوا نے دی ہے ذرا غور سے سنو

دستک ہوا نے دی ہے ذرا غور سے سنو طوفاں کی آ رہی ہے صدا غور سے سنو شاخیں اٹھا کے ہاتھ دعا مانگنے لگیں سرگوشیاں چمن میں ہیں کیا غور سے سنو محسوس کر رہا ہوں میں کرب شکستگی تم بھی شگفت گل کی صدا غور سے سنو گل چیں کو دیکھ لیتی ہے جب کوئی شاخ گل دیتی ہے بد دعا کہ دعا غور سے سنو یہ اور ...

مزید پڑھیے

نالۂ غم شعلہ اثر چاہئے

نالۂ غم شعلہ اثر چاہئے چاک دل اب تا بہ جگر چاہئے کتنے مہ‌ و نجم ہوئے نذر شب اے غم دل اب تو سحر چاہئے منزلیں ہیں زیر کف پا مگر اک ذرا عزم سفر چاہئے آئنہ خانے میں ہے درکار کیا چاہئے اک سنگ اگر چاہئے دور ہے دل منزل غم سے ہنوز اک غلط انداز نظر چاہئے تشنگئ لب کا تقاضا ہے اب بادہ ہو ...

مزید پڑھیے

میرا شعور مجھ کو یہ آزار دے گیا

میرا شعور مجھ کو یہ آزار دے گیا سورج کی طرح دیدۂ بے دار دے گیا ہر پھول اک شرر ہے تو ہر شاخ ایک برق جنت کا خواب دوزخ گلزار دے گیا لب‌ بستگی میں حسرت گفتار جاگ اٹھی خوف سکوت جرأت اظہار دے گیا جلتا ہوں اپنی آگ میں خورشید کی طرح کیسی سزا یہ شعلۂ‌ پندار دے گیا محو سخن تھا میں کہ مرا ...

مزید پڑھیے

اپنا انداز جنوں سب سے جدا رکھتا ہوں میں

اپنا انداز جنوں سب سے جدا رکھتا ہوں میں چاک دل چاک گریباں سے سوا رکھتا ہوں میں غزنوی ہوں اور گرفتار‌‌ خم زلف ایاز بت شکن ہوں اور دل میں بت کدہ رکھتا ہوں میں ہے خود اپنی آگ سے ہر پیکر گل تابناک لے ہوا کی زد پہ مٹی کا دیا رکھتا ہوں میں میں کہ اپنی قبر میں بھی زندہ ہوں گھر کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3850 سے 6203