قومی زبان

یہ شہر رفیقاں ہے دل زار سنبھل کے

یہ شہر رفیقاں ہے دل زار سنبھل کے ملتے ہیں یہاں لوگ بہت روپ بدل کے عارض ہیں کہ مرجھائے ہوئے پھول کنول کے آنکھیں ہیں کہ جھلسے ہوئے خوابوں کے محل کے چہرہ ہے کہ ہے آئینۂ گردش دوراں شہکار ہیں کیا کیا مرے نقاش ازل کے فرہاد سر دار ہے شیریں سر بازار بدلے نہیں اب تک مگر انداز غزل ...

مزید پڑھیے

رات سنسان دشت و در خاموش

رات سنسان دشت و در خاموش چاند تارے شجر حجر خاموش کوئی آواز پا نہ بانگ جرس کارواں اور اس قدر خاموش ہر طرف اک مہیب سناٹا دل دھڑکتا تو ہے مگر خاموش ہوئے جاتے ہیں کس لیے آخر ہم سفر بات بات پر خاموش ہیں یہ آداب رہ گزر کہ خوف راہرو چپ ہیں راہبر خاموش مختصر ہو نہ ہو شب تاریک ہم کو ...

مزید پڑھیے

اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا

اس کے غم کو غم ہستی تو مرے دل نہ بنا زیست مشکل ہے اسے اور بھی مشکل نہ بنا تو بھی محدود نہ ہو مجھ کو بھی محدود نہ کر اپنے نقش کف پا کو مری منزل نہ بنا اور بڑھ جائے گی ویرانئ دل جان جہاں میری خلوت گہ خاموش کو محفل نہ بنا دل کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جاں کا زیاں عشق کو عشق سمجھ ...

مزید پڑھیے

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے اک دن نکل نہ جاؤں ذرا اپنے آپ سے جس کی مجھے تلاش تھی وہ تو مجھی میں تھا کیوں آج تک میں دور رہا اپنے آپ سے دنیا نے تجھ کو میرا مخاطب سمجھ لیا محو سخن تھا میں تو سدا اپنے آپ سے تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے لوٹ آ ...

مزید پڑھیے

چاند نے آج جب اک نام لیا آخر شب

چاند نے آج جب اک نام لیا آخر شب دل نے خوابوں سے بہت کام لیا آخر شب ہائے وہ خواب کہ تعبیر سے سرشار بھی تھا اس کی آنکھوں سے جو انعام لیا آخر شب ہائے کیا پیاس تھی جب اس کے لبوں سے میں نے مسکراتا ہوا اک جام لیا آخر شب میں جو گرتا بھی تو قدموں میں اسی کے گرتا اس نے خود بڑھ کے مجھے تھام ...

مزید پڑھیے

یم بہ یم پھیلا ہوا ہے پیاس کا صحرا یہاں

یم بہ یم پھیلا ہوا ہے پیاس کا صحرا یہاں اک سراب تشنگی ہے موجۂ صہبا یہاں روشنی کے زاویوں پر منحصر ہے زندگی آپ کے بس میں نہیں ہے آپ کا سایہ یہاں آتے آتے آنکھ تک دل کا لہو پانی ہوا کس قدر ارزاں ہے اپنے خون کا سودا یہاں تیرے میرے درمیاں حائل رہی دیوار حرف رکھ لیا اک بات نے ہر بات کا ...

مزید پڑھیے

آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم

آئے تھے تیرے شہر میں کتنی لگن سے ہم منسوب ہو سکے نہ تری انجمن سے ہم بیزار آ نہ جائیں غم جان و تن سے ہم اپنے وطن میں رہ کے بھی ہیں بے وطن سے ہم یوں بے رخی سے پیش نہ آ اہل دل کے ساتھ اٹھ کر چلے نہ جائیں تری انجمن سے ہم یہ سرکشی جنوں نہیں پندار عشق ہے گزرے ہیں دار سے بھی اسی بانکپن سے ...

مزید پڑھیے

تخاطب ہے تجھ سے خیال اور کا ہے

تخاطب ہے تجھ سے خیال اور کا ہے یہ نکتہ وفا میں بڑے غور کا ہے وہ خلوت میں کچھ اور جلوت میں کچھ ہے کرم اس کا مجھ پر عجب طور کا ہے مرا چہرہ بھی میرا چہرہ نہیں ہے یہ احسان مجھ پر مرے دور کا ہے یہ نفرت محبت کا رد عمل ہے کہ مجھ سے تقاضا ترے جور کا ہے نئے دور کی ابتدا کا ہے ضامن کہ دل ...

مزید پڑھیے

بھولنا جب بھی تجھ کو چاہا ہے

بھولنا جب بھی تجھ کو چاہا ہے تو مرے پاس لوٹ آیا ہے مجھ کو درکار اپنی تھی مدحت اس طلب میں ہی سب گنوایا ہے اس کو ڈھونڈا گلی گلی میں نے وہ جو دل میں مرے سمایا ہے تو بنے گا مرا ہی بالآخر دل کو اس بات پر منایا ہے ہے عجب راستہ محبت کا جس پہ نہ پیڑ ہے نہ سایہ ہے

مزید پڑھیے

سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے

سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے کسی بھی خواب کی تعبیر دیکھنے سے رہے ہٹا رہے ہیں سبھی راہ سے مری پتھر وہ میرے پاؤں کی زنجیر کاٹنے سے رہے ہو دو قدم کی ہی دوری پہ تم کھڑے لیکن قدم بڑھا کے مرا ہاتھ تھامنے سے رہے میں آئنہ ہوں تمہارا اسی سبب سے تم مرے وجود کی خوبی کو ڈھونڈنے سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3851 سے 6203