قومی زبان

دوسرا تجربہ

کل شب عجیب ادا سے تھا اک حسن مہرباں وہ شبنمی گلاب سی رنگت دھلی دھلی شانوں پہ بے قرار وہ زلفیں کھلی کھلی ہر خط جسم پیرہن چست سے عیاں ٹھہرے بھی گر نگاہ تو ٹھہرے کہاں کہاں ہر زاویے میں حسن کا اک تازہ بانکپن ہر دائرے میں کھلتے ہوئے پھول کی پھبن آنکھوں میں ڈولتے ہوئے نشے کی کیفیت روئے ...

مزید پڑھیے

سمندر اور انسان

قلزم بے کراں تیرا پھیلاؤ زندگی کے شعور کا آغاز تیری موجوں کا پر سکون بہاؤ زندگی کے سرور کا غماز تیرے طوفان کا اتار چڑھاؤ زندگی کے غرور کا غماز سوچتا ہوں کہ تیری فطرت سے میری فطرت ہے کتنی ہم آہنگ تیری دنیا ہے کیسی بے پایاں میری دنیا ہے کیسی رنگا رنگ تو ہے کتنا وسیع اور محدود میں ...

مزید پڑھیے

مدت کے بعد

مدت کے بعد تم سے ملا ہوں تو یہ کھلا یہ وقت اور فاصلہ دھوکہ نظر کا تھا چہرے پہ عمر بھر کی مسافت رقم سہی دل کے لیے تمام سفر لمحہ بھر کا تھا کیسی عجیب ساعت دیدار ہے کہ ہم پھر یوں ملے کہ جیسے کبھی دور ہی نہ تھے آنکھوں میں کم سنی کے وہ سب خواب جاگ اٹھے جن میں نگاہ و دل کبھی مجبور ہی نہ ...

مزید پڑھیے

یوسف ثانی

میں چاہ کنعاں میں زخم خوردہ پڑا ہوا ہوں زمیں میں زندہ گڑا ہوا ہوں کوئی مجھے اس برادرانہ فریب کی قبر سے نکالے مجھے خریدے کہ بیچ ڈالے کہ چشم یعقوب تو مرے غم میں کل بھی گریاں تھی آج بھی ہے

مزید پڑھیے

اب بتاؤ جائے گی زندگی کہاں یارو

اب بتاؤ جائے گی زندگی کہاں یارو پھر ہیں برق کی نظریں سوئے آشیاں یارو اب نہ کوئی منزل ہے اور نہ رہ گزر کوئی جانے قافلہ بھٹکے اب کہاں کہاں یارو پھول ہیں کہ لاشیں ہیں باغ ہے کہ مقتل ہے شاخ شاخ ہوتا ہے دار کا گماں یارو موت سے گزر کر یہ کیسی زندگی پائی فکر پا بہ جولاں ہے گنگ ہے زباں ...

مزید پڑھیے

سائے چمک رہے تھے سیاست کی بات تھی

سائے چمک رہے تھے سیاست کی بات تھی آنکھیں کھلیں تو صبح کے پردے میں رات تھی میں تو سمجھ رہا تھا کہ مجھ پر ہے مہرباں دیوار کی یہ چھاؤں تو سورج کے ساتھ تھی کس درجہ ہولناک ہے یارو شعور ذات کتنی حسین پہلے یہی کائنات تھی تیری جفا تو مورد الزام تھی نہ ہے میری وفا بھی کوشش‌ تکمیل ذات ...

مزید پڑھیے

اس دشت پہ احساں نہ کر اے ابر رواں اور

اس دشت پہ احساں نہ کر اے ابر رواں اور جب آگ ہو نم خوردہ تو اٹھتا ہے دھواں اور وہ قحط جنوں ہے کہ کوئی چاک گریباں آتا ہے نظر بھی تو گزرتا ہے گماں اور یہ سنگ زنی میرے لیے بارش گل ہے تھک جاؤ تو کچھ سنگ بدست دگراں اور سورج کو یہ غم ہے کہ سمندر بھی ہے پایاب یا رب مرے قلزم میں کوئی سیل ...

مزید پڑھیے

یہ بات تو نہیں ہے کہ میں کم سواد تھا

یہ بات تو نہیں ہے کہ میں کم سواد تھا ٹوٹا ہوں اس بنا پہ کہ میں کج نہاد تھا الزام اپنی موت کا موسم پہ کیوں دھروں میرے بدن میں میرے لہو کا فساد تھا اب میں بھی جل کے راکھ ہوں میرے جہاز بھی کل میرا نام طارق ابن زیاد تھا ایماں بھی لاج رکھ نہ سکا میرے جھوٹ کی اپنے خدا پہ کتنا مجھے ...

مزید پڑھیے

آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا

آنکھ کی قسمت ہے اب بہتا سمندر دیکھنا اور پھر اک ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا شام ہو جائے تو دن کا غم منانے کے لیے ایک شعلہ سا منور اپنے اندر دیکھنا روشنی میں اپنی شخصیت پہ جب بھی سوچنا اپنے قد کو اپنے سائے سے بھی کم تر دیکھنا سنگ منزل استعارہ سنگ مرقد کا نہ ہو اپنے زندہ جسم کو ...

مزید پڑھیے

میں جو کچھ سوچتا ہوں اب تمہیں بھی سوچنا ہوگا

میں جو کچھ سوچتا ہوں اب تمہیں بھی سوچنا ہوگا جو ہوگا زندگی کا ڈھب تمہیں بھی سوچنا ہوگا ابھی تو آنکھ اوجھل ہے مگر خورشید کے ہاتھوں کھینچے گی جب ردائے شب تمہیں بھی سوچنا ہوگا مقدر میں تمہارے کیوں نہیں لکھا بجز میرے صلیب و دار کا منصب تمہیں بھی سوچنا ہوگا یہ کیسا قافلہ ہے جس میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3849 سے 6203