قومی زبان

بھاری بستہ

چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی چپل میری نیکر کی جیبوں میں ہوتی تھی بستہ کندھے پر پھینکے تختی لہراتا بھاگ نکلتا تھا پھر یہ گھوڑے شوڑے میرے آگے بچے ہوتے تھے پر میرے بچے علم کی ڈگڈگی جاہل کے ہاتھ آ جائے تو بستے بھارتی ہو جاتے ہیں اتنے بھاری ہو جاتے ہیں چھٹی کی گھنٹی سے گھٹنے بج اٹھتے ...

مزید پڑھیے

سانس بھر ہوا

میں ایک ہی سانس میں بہت سی زندگیاں جی لیتا ہوں کھلتی کلی سے گزرتا جھونکا فتح مند کھلاڑی کا اڑتا پسینہ وصل کی لذت سے مغلوب عورت کی کراہ سر شام دیا بجھاتے نوجوان شاعر کی پھونک بارش میں گرتی کچی چھت کا بوجھل غبار مرنے والے کے سینے سے نکلی آخری آہ میں ایک ہی سانس میں بہت سی موتیں مر ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی پیڑ نکل آتا ہے

بیٹھے بیٹھے رستے نکل آتے ہیں چلتے چلتے گم جاتے ہیں پھر کوئی پیڑ نکل آتا ہے جس کے نیچے بیٹھ کے ہم گم رستے دہراتے ہیں لمحہ بھر سستاتے ہیں بیٹھے بیٹھے رستے نکل آتے ہیں

مزید پڑھیے

روشنی میں کھوئی گئی روشنی

میں نے اسے نہیں دیکھا جب تک اس نے سارے چراغ گل نہیں کر دیے اندھیرے میں مجھے چاروں طرف وہی نظر آئی ڈراؤنے جنگل میں رستہ بناتے جگنوؤں کی طرح ہو سکتا ہے میں حادثاتی طور پر روشنی میں آ جاؤں لیکن اب وہ جان چکی ہے چراغ جلتے ہی مجھے جگنو نظر آنا بند ہو جاتے ہیں

مزید پڑھیے

ہرکولیس اور پاٹے خاں کی سرکس

یہ بے ہنگم بے ڈھب دنیا ہر متناسب سوچ کو پوجا کے پرشاد سے فربہ کر دیتی ہے یا تنگی کی چکی سے وہ خوراک کھلاتی ہے سوچ کی آنکھیں دھنس جاتی ہیں کان لٹک جاتے ہیں کسی سڈول خیال کو محبوبہ نہیں ملتی حاسد بھول بھلیاں اسے جواں ہونے سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں ہرکولیس اور پاٹے‌ خاں کی سرکس سے ...

مزید پڑھیے

کھڈیوں پر بنے لوگ

لوگ مرتے ہیں تھری پیس سوٹ میں تنگ ہوتی وردی میں ٹخنے تقسیم کرتی شلواروں گھٹی تمنا یا وصل کے سیال سے چپکتے زیر جاموں میں انسان انہیں دکھتا ہے آخری رسومات کے دوران یا جب اسے وصل کے غار سے دھکیلا جاتا ہے کھڈیوں پر بنے لوگ عمر بھر ایک دوسرے کو انسان کی باتیں سناتے ہیں

مزید پڑھیے

میدان

خیال شیطان کی آنت کی طرح عمودی دوری کے میدان میں کھڑا ہے دوستوں کے حج کا زمانہ ان کے گرد طواف کرتا رہتا ہے بہتے پانی میں ہاتھ ڈبو کر تمہیں چھو لیتا ہوں شیشم کے پیڑ پہ فاختہ بولتی رہتی ہے میرے پاس صرف میرا راستہ ہے جس سے میں انجان ہوں دھوپ کے کھیل میں سایوں سے نہیں الجھنا چاہئے

مزید پڑھیے

بات ہم جب بھی صاف کرتے ہیں

بات ہم جب بھی صاف کرتے ہیں لوگ کیوں اختلاف کرتے ہیں قابل احترام ہیں وہ لوگ دشمنوں کو معاف کرتے ہیں بولتے جب ہیں پھول سے لہجے پتھروں میں شگاف کرتے ہیں رشک آتا ہے ایسے چہروں پر جن کا شیشے طواف کرتے ہیں حوصلہ خوب ہے چراغوں کو جنگ ہوا کے خلاف کرتے ہیں میں نے بخشی ہے زندگی فن ...

مزید پڑھیے

کہو مآل آرزو ہو کیا اگر گھٹے نہ دم

کہو مآل آرزو ہو کیا اگر گھٹے نہ دم کہ اپنے اختیار میں نہ عرض غم نہ ضبط غم ترا کہیں پتہ نہیں اٹھیں تو کس طرف قدم ادھر بڑھوں تو بت کدہ ادھر چلوں تو ہے حرم ملے تھے شیخ و برہمن فریب ہیں تری قسم اسے ہی دھن خدا خدا اسے لگن صنم صنم ہزار کاوشوں پہ بھی ہے زندگی رہین غم نفس نفس نظر نظر روش ...

مزید پڑھیے

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا ایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا اشک غم تھم گئے یاد آتے ہی ان کی صورت جب چڑھا چاند تو پھر نور ستاروں میں نہ تھا مرنے جینے کو نہ سمجھے تو خطا کس کی ہے کون سا حکم ہے جو ان کے اشاروں میں نہ تھا ہر قدم خاک سے دامن کو بچایا تم نے پھر یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3845 سے 6203