قومی زبان

قرار ہوتے ہوئے بے قرار یعنی میں

قرار ہوتے ہوئے بے قرار یعنی میں تمہارے ہجر کا اک سوگوار یعنی میں وطن سے دور وطن کا مقیم یعنی تو وطن میں رہ کے غریب الدیار یعنی میں سراپا کبر و سراپا غرور یعنی تو ترے غرور پہ ہر دم نثار یعنی میں وفا و مہر و محبت کا نام یعنی تو وفا و مہر و محبت شعار یعنی میں ہر اک عمل سے مرے بے ...

مزید پڑھیے

اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتے

اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتے ہم آہ تو بھرتے ہیں دہائی نہیں دیتے کچھ درد ہیں ایسے کہ جو چہرے سے عیاں ہیں کچھ زخم ہیں ایسے جو دکھائی نہیں دیتے وہ راستے جچتے ہی نہیں اہل دلاں کو وہ راستے جو آبلہ پائی نہیں دیتے یادوں کی ہے اک بزم سجی خانۂ دل میں اس بزم میں غیروں کو رسائی نہیں ...

مزید پڑھیے

ویسے تو انسان خدا کا خاص خلیفہ بنتا ہے

ویسے تو انسان خدا کا خاص خلیفہ بنتا ہے لیکن جو حالات ہیں اس کے ان پر رونا بنتا ہے ہم بھی تیرے ساتھ کھڑے ہیں سبز رتوں کے منظر میں پھول اور کانٹے ساتھ رہیں تو پھر باغیچہ بنتا ہے کتنی تہذیبیں مٹتی ہیں پھر بنتی ہے اک تہذیب کتنی نسلوں کی محنت سے ایک رویہ بنتا ہے میں کہتا ہوں قریہ ...

مزید پڑھیے

وحشت ہے بے زاری ہے

وحشت ہے بے زاری ہے شام بھی کتنی بھاری ہے باہر اک سناٹا ہے اندر آہ و زاری ہے لکھ دیتا ہوں حال دل کہنے میں دشواری ہے درد مصیبت بے چینی اپنی سب سے یاری ہے سینہ چرتا جاتا ہے خواہش ہے یا آری ہے میرے دل کے کمرے میں یادوں کی الماری ہے پریم نگر کا ہر بندہ جذبوں کا بیوپاری ہے آپ محبت ...

مزید پڑھیے

دونوں آنکھوں میں بھر لیا جائے

دونوں آنکھوں میں بھر لیا جائے حسن محفوظ کر لیا جائے زندگی سے کلام کرنے کو اذن نور سحر لیا جائے ہم سے پاداش میں محبت کی جان لی جائے سر لیا جائے بے خطا ہے تو پھر بھی ڈر اے دوست بے خطا ہی نہ دھر لیا جائے شہر امید کتنا دل کش ہے آؤ کچھ دن ٹھہر لیا جائے کیسا سرسبز ہے تمہارا ساتھ اس ...

مزید پڑھیے

جب ایک شخص اپنا ٹھکانہ بدل گیا

جب ایک شخص اپنا ٹھکانہ بدل گیا پھر اس کے ساتھ سارا زمانہ بدل گیا بدلی نگاہ ناز کسی خوش جمال نے بدلا رخ کمان نشانہ بدل گیا بارش میں تیز دھوپ نکل آئی چار سو موسم تھا وہ جو خوب سہانا بدل گیا وہ شخص بے ثبات کا مطلب بتائے گا وہ شخص جس کا دوست پرانا بدل گیا ہجرت کے ساتھ ساتھ معیشت ...

مزید پڑھیے

گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھی

گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھی تمہاری یاد کی جلوہ گری تھی فضا میں گنگناہٹ تھی عجب سی ہوا پتوں سے باتیں کر رہی تھی غزل جیسا سراپا تھا کسی کا کوئی صورت مکمل شاعری تھی ترے الفاظ نشتر بن گئے تھے محبت انتہا پر آ گئی تھی سنا ہے بعد میرے کچھ دنوں تک وہ مٹی پر لکیریں کھینچتی تھی وہ گاہے ...

مزید پڑھیے

بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے

بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے تونگرو ادھر آؤ فقیر موج میں ہے جسے بھی چاہیے خیرات نور لے جائے بھڑک رہا ہے الاؤ فقیر موج میں ہے خرید لے نہ تمہاری یہ کائنات تمام اسے بتانا نہ بھاؤ فقیر موج میں ہے گرا ہوا تو نہیں ہے زمیں کو تھامے ہے زمین سے نہ اٹھاؤ فقیر موج میں ہے بس اک طریقہ ...

مزید پڑھیے

تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کے

تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کے آج ذرا کھل کھیلنے والے ہیں انداز گھٹاؤں کے کمرہ بند کیا اور سارے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے آنکھیں ڈھیلی چھوڑیں رستے کھول دیے دریاؤں کے دوگانہ آزار ہے صاحب ہم جیسوں کی قسمت میں ہم محتاج رویوں کے اور ہم مجبور اناؤں کے دیکھ لے کتنے کشٹ اٹھا کر ...

مزید پڑھیے

فیض عہد جدید تنہائی

فیض عہد جدید تنہائی سہہ رہا ہوں شدید تنہائی بڑھتا جاتا ہے حلقۂ احباب بڑھ رہی ہے مزید تنہائی ہے جہاں تک بھی سوچ سناٹا ہے جہاں تک بھی دید تنہائی بیٹھ کر دوستوں کی محفل میں کر رہا ہوں کشید تنہائی پاس حبل الورید کے ہے خدا زیر حبل الورید تنہائی گھر سے گھبرا کے باہر آیا تھا گھر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3822 سے 6203