شوق جب بھی بندگی کا رہنما ہوتا نہیں
شوق جب بھی بندگی کا رہنما ہوتا نہیں زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں کیا سمجھ آئیں گی تم کو عشق کی باریکیاں دل تمہارا جب تلک درد آشنا ہوتا نہیں روح و تن کا عشق یہ قائم رہے گا دائمی ختم بعد مرگ بھی یہ سلسلہ ہوتا نہیں کون ہے جو جرم کرنے کو ہے شب کا منتظر روشنی میں دن کی یارو کیا ...