قومی زبان

شوق جب بھی بندگی کا رہنما ہوتا نہیں

شوق جب بھی بندگی کا رہنما ہوتا نہیں زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں کیا سمجھ آئیں گی تم کو عشق کی باریکیاں دل تمہارا جب تلک درد آشنا ہوتا نہیں روح و تن کا عشق یہ قائم رہے گا دائمی ختم بعد مرگ بھی یہ سلسلہ ہوتا نہیں کون ہے جو جرم کرنے کو ہے شب کا منتظر روشنی میں دن کی یارو کیا ...

مزید پڑھیے

برق نے جب بھی آنکھ کھولی ہے

برق نے جب بھی آنکھ کھولی ہے آشیانوں نے خاک رولی ہے یاد کا کیا ہے آ گئی پھر سے آنکھ کا کیا ہے پھر سے رو لی ہے تم بچھا لو مصلیٔ چاہت میں نے دہلیز دل کی دھو لی ہے دل کی باتوں کو دل سمجھتا ہے دل کی بولی عجیب بولی ہے پردہ اٹھتے ہی میری نظروں سے کائنات یقین ڈولی ہے مسکرائے نہ چاند ...

مزید پڑھیے

مجھے تم سے محبت ہے

خدا کہتا ہے بندوں سے مجھے تم سے محبت ہے تمہاری شہ رگ سے بھی میں زیادہ پاس رہتا ہوں تمہیں میں کیسے سمجھاؤں مجھے تم سے محبت ہے میں دوں تم کو مثال ایسی جسے تم سن کے برجستہ کہو آمنا صدقنا سنو ہے کون سی ہستی جو تم کو جاں سے پیاری ہے کہ جس کی زیست کا پل پل تمہیں پہ واری واری ہے دعا ...

مزید پڑھیے

مکڑی

اگر مکڑی دکھائی دے تو ڈرتی ہے مری بیٹی بڑا ہی خوف کھاتی ہے تقاضا مجھ سے کرتی ہے کہ اس کو مار ڈالوں میں مگر کچھ سوچ کر یارو اٹھا لیتا ہوں میں اس کو اور باہر چھوڑ آتا ہوں یہی مکڑی تھی کہ جس نے وہ غار ثور میں جالا تھا کچھ ایسے بنا ڈالا کہ دشمن بھی پہنچ کر واں نہیں ان تک پہنچ پائے بڑا ...

مزید پڑھیے

عجب ہے کھیل کیرم کا

سفید اور سیاہ گوٹوں کے حسیں اک دائرے اندر بہت ہی سرخ رنگت کی حسیں اک گوٹ ہوتی ہے کہ جس کو رانی کہتے ہیں ہر اک کھیلنے والے کی بس اک ہی تمنا ہے اسی کیرم کے کونوں میں جو چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں انہیں آباد کرنا ہے کنیزوں سے اور رانی سے کھلاڑی چال چلتا ہے اسٹرایکر کی مدد سے آمد و رفت ان ...

مزید پڑھیے

رخ پہ اپنے نقاب رہنے دے

رخ پہ اپنے نقاب رہنے دے درمیاں اک حجاب رہنے دے سعی پیہم کی سسکیوں پہ نہ جا شوق میں پیچ و تاب رہنے دے دل کا آئینہ ہے جواب ترا ہے بھی تو لا جواب رہنے دے جرم میرے کہاں تری رحمت یہ حساب و کتاب رہنے دے پھر کہیں کھو کے رہ نہ جائے خلیلؔ اذن چنگ و رباب رہنے دے

مزید پڑھیے

زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہے

زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہے رات گئے تنہائی جس دم شور مچانے لگ جاتی ہے عشق دماغ کی چکر بازی حسن سراسر دید کا دھوکہ دل کو یہ سب کہتے کہتے عمر ٹھکانے لگ جاتی ہے اس شرمیلی سی لڑکی سے جب بھی دل کی حالت پوچھی سیدھی بات نہیں کرتی ہے نظم سنانے لگ جاتی ہے رات کو محرم راز ...

مزید پڑھیے

آرزوئیں نہ چھین خواب نہ چھین

آرزوئیں نہ چھین خواب نہ چھین میرا سامان اضطراب نہ چھین سر سے امید کا سحاب نہ چھین میں کہ صحرا میں ہوں سراب نہ چھین ہجر بے چینی بے بسی گریہ یہ محبت کا ہے نصاب نہ چھین زخم دل کی نہ چارہ سازی کر میرے سینے کا ماہتاب نہ چھین تاکنے دے حسین چہروں کو یار مجھ سے مرا شباب نہ چھین ختم ...

مزید پڑھیے

وحشت فراق خوف ترا دھیان الامان

وحشت فراق خوف ترا دھیان الامان کتنی بلائیں ہیں مری مہمان الامان آنکھوں کو خیرہ کر گیا اک جلوۂ شریر اور دل کو کھا گئی تری مسکان الامان اک سلسلہ جڑا تھا کہ پھر آنکھ کھل گئی کس درجہ ہو گیا مرا نقصان الامان اے حسن دل فریب ذرا دیر کو فریب کرنے لگا ہے ہجر پریشان الامان اے عشق ...

مزید پڑھیے

کر برا تو بھلا نہیں ہوتا

کر برا تو بھلا نہیں ہوتا کر بھلا تو برا نہیں ہوتا اک وہی لاپتہ نہیں ہوتا جس کو اپنا پتا نہیں ہوتا سب نشانے اگر صحیح ہوتے تیر کوئی خطا نہیں ہوتا کون عاشق ہے کون ہے معشوق پیار میں فیصلہ نہیں ہوتا کوئی ایسی جگہ ہی دکھلاؤ جس جگہ پر خدا نہیں ہوتا کوچۂ یار جو نہ جاتا ہو راستہ راستہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3821 سے 6203