قومی زبان

تو وجہ زندگی ہے جواز حیات ہے

تو وجہ زندگی ہے جواز حیات ہے وہ مجھ سے کہہ رہی تھی ابھی کل کی بات ہے پہلے پہل تو ہم ترے دل میں مقیم تھے پہلے کی بات اور تھی اب اور بات ہے وہ کائنات بھی ہے ترے حسن کی اسیر اس کائنات سے جو پرے کائنات ہے وہ آ ملا ہے وقت کی دیوار پھاند کر یہ عشق ہے اور عشق در ممکنات ہے کہتا تھا جس کو ...

مزید پڑھیے

کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہے

کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہے عشق میرے لیے نیا نہیں ہے تجھ کو ہر بات کا پتہ نہیں ہے تو مرا عشق ہے خدا نہیں ہے یوں نشانے نہ تاک تاک کے مار ایک ہی دل ہے دوسرا نہیں ہے یہ جو ہم روز لفظ بنتے ہیں مسئلہ ہے یہ مشغلہ نہیں ہے توڑتا ہے حدود کون و مکاں درد کا کوئی دائرہ نہیں ہے دو کنارے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہر راحت جاں لمحے سے افتاد کی ضد ہے

ہر راحت جاں لمحے سے افتاد کی ضد ہے بیداد زمانہ بھی کسی داد کی ضد ہے ہر خیر کسی شر سے بقا یاب ہوئی ہے یہ حسن تعادل بھی تو اضداد کی ضد ہے اب آنکھیں بھلا کس طرح تقسیم کرے ماں دیواریں کھڑی کرنا تو اولاد کی ضد ہے گریہ نہیں معقول بیاد کس رفتہ لیکن یہ تماشا دل ناشاد کی ضد ہے میں راستہ ...

مزید پڑھیے

نشاط نو کی طلب ہے نہ تازہ غم کا جگر

نشاط نو کی طلب ہے نہ تازہ غم کا جگر سکوں گرفتہ کو کیسے ہو زیر و بم کا جگر اگرچہ تشنہ نگاہی مثال صحرا ہے نہیں ہے دست دعا کو ترے کرم کا جگر جگر کو عشق نے فولاد کر دیا ہے جب نہیں رہا ہے ستم کار کو ستم کا جگر ہے اضطراب جگر لہر لہر پر بھاری کہاں ہے بحر کو اس طرح پیچ و خم کا جگر یہ کام ...

مزید پڑھیے

لے چلے ہو تو کہیں دور ہی لے جانا مجھے

لے چلے ہو تو کہیں دور ہی لے جانا مجھے مت کسی بسری ہوئی یاد سے ٹکرانا مجھے میں تو اس میں بھی بہت خوش ہوں ترا نام تو ہے ایک جرعہ بھی ترے نام کا مے خانہ مجھے آج دانستہ تغافل سے ہوں ہارا ہوا میں کل تلک عمر کی سچائی تھی افسانہ مجھے تو نے بھی مان لیا لوگوں کا پھیلایا سچ تو نے بھی جاتے ...

مزید پڑھیے

پہلے تو آتی تھیں عیدیں بھی تمہارے آئے

پہلے تو آتی تھیں عیدیں بھی تمہارے آئے خیریت اب کے تم آئے تو اکیلے آئے تیری بے ساختہ حیرانی کہاں ہے اے دوست ہم تو آتش کہیں ایندھن کے عوض دے آئے اب تو رہزن ہی کوئی روکے تو معلوم پڑے رہنما کیسے اجاڑوں میں ہمیں لے آئے ہم تو یک رنگ اجالے سے ہی مسحور رہے روشنی تجھ میں یہ ست رنگ کہاں ...

مزید پڑھیے

ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں

ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں حوصلہ ٹوٹا تو احباب کی چیخیں نکلیں وحشتیں ایسی المناک نتائج میں ملیں جن کے امکان پہ اسباب کی چیخیں نکلیں اس سے فرعون کے اخلاق نے مانگی ہے پناہ اس سے شداد کے آداب کی چیخیں نکلیں ڈوبنے والے نے کس عشق سے تن پیش کیا شدت وصل سے گرداب کی چیخیں ...

مزید پڑھیے

کھڑکی کھولو کچھ تو یہاں بھی تازہ نرم ہوا آئے

کھڑکی کھولو کچھ تو یہاں بھی تازہ نرم ہوا آئے منظر صحن‌ چمن کا ابھرے بوئے درد ربا آئے بے جاں فن میں جان سی آئے زخم تمنا تازہ ہو یاد میں رنگ حنا کا لہکے رقص میں باد صبا آئے ماہ گزیدہ رات ہے ساکت جیسے کوئی آئینہ اوس کے سبزے پر گرنے کی سناٹے میں صدا آئے فضل خزاں کے سوکھے پتے ہانپ ...

مزید پڑھیے

ان دیکھی اور بھولی بھالی دنیا ہے

ان دیکھی اور بھولی بھالی دنیا ہے اس کھڑکی کے پار انوکھی دنیا ہے آپ کا استحقاق تھا راہ بدل لینا سب کا اپنا جیون اپنی دنیا ہے چاند ستارے جگنو پھول کتابیں خواب اک لڑکی کی کتنی پیاری دنیا ہے دل کی بات بتا کر مجرم بن بیٹھے استغفار خدایا کیسی دنیا ہے عشق نگر میں کوئی پہلا پیر ...

مزید پڑھیے

فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہے

فضول ناز اٹھانے سے بات بگڑی ہے کسی کو دل میں بسانے سے بات بگڑی ہے تھا واجبی سا تعلق تو بات اچھی تھی تعلقات بڑھانے سے بات بگڑی ہے ہم اختلاف کو آپس میں طے نہ کر پائے کسی کو بیچ بلانے سے بات بگڑی ہے محبتوں میں تکلف بھی ہے سم قاتل قدم سنبھل کے اٹھانے سے بات بگڑی ہے تمہارے ساتھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3823 سے 6203