قومی زبان

چرانے کو چرا لایا میں جلوے روئے روشن سے

چرانے کو چرا لایا میں جلوے روئے روشن سے مگر اب بجلیاں لپٹی ہوئی ہیں دل کے دامن سے تنوع کچھ تو ہو اے بلبل کم ذوق ماتم کیا اگر تعمیر صحرا ہو گئی تخریب گلشن سے مجھے کچھ تجربے ہر رنگ کے جھولی میں رکھ چلنا مسافر ہوں غرض کیا ہے مجھے صحرا و گلشن سے مجھے ہر کارواں سے چھوٹنا اس بدگمانی ...

مزید پڑھیے

اب حالت دل نہ پوچھ کیا ہے

اب حالت دل نہ پوچھ کیا ہے شعلہ تھا بھڑک کے بجھ گیا ہے انسان کو دل ملا مگر کیا اندھے کے ہاتھ میں دیا ہے تاثیر نے یہ کہا ہے ہم سے نالہ نغمے کی انتہا ہے تیری دنیا کو ہم سنواریں یہ ایک عجیب ماجرا ہے جو دور سے آ رہی ہے رضویؔ پہچانی ہوئی سی یہ صدا ہے

مزید پڑھیے

زباں سے دل کا فسانہ ادا کیا نہ گیا

زباں سے دل کا فسانہ ادا کیا نہ گیا یہ ترجماں تو بنی تھی مگر بنا نہ گیا ہم ان کے وعدۂ فردا کو لے کے بیٹھے ہیں کہ جن سے آج کا وعدہ وفا کیا نہ گیا امانتاً مرے سینے میں وہ فسانہ ہے جو دل کی آنکھ سے دیکھا گیا سنا نہ گیا دم آخیر وہ دینے لگے حیات دگر پھر ایک عمر کا احسان تھا لیا نہ ...

مزید پڑھیے

اوچھی تھی نظر ہی جب تو بھلا ارمان تماشا کیا کرتے

اوچھی تھی نظر ہی جب تو بھلا ارمان تماشا کیا کرتے ذرے کے جگر تک جا نہ سکے ہم ہمت صحرا کیا کرتے رات اس نے نقاب الٹی جو ذرا سب بند تعین ٹوٹ گئے وہ وہ نہ رہا ہم ہم نہ رہے اے شوق تماشا کیا کرتے بے کیف ہمارا جینا تھا بے مے کا ساغر پینا تھا اس دل میں تمنا ہی نہ اگی ہم ترک تمنا کیا کرتے تم ...

مزید پڑھیے

اک اخگر جمال فروزاں بہ شکل دل (ردیف .. ے)

اک اخگر جمال فروزاں بہ شکل دل پھینکا ادھر بھی حسن تجلی نثار نے افسردگی بھی حسن ہے تابندگی بھی حسن ہم کو خزاں نے تم کو سنوارا بہار نے اس دل کو شوق دید میں تڑپا کے کر دیا کیا استوار وعدۂ نا استوار نے جلوے کی بھیک دے کے وہ ہٹنے لگے تھے خود دامن پکڑ لیا نگہ اعتبار نے گیسو غبار راہ ...

مزید پڑھیے

تمام عمر سفر کا ثمر ملے گا مجھے

تمام عمر سفر کا ثمر ملے گا مجھے پس افق ہی کہیں اب تو گھر ملے گا مجھے یہ کس لیے میں خلا در خلا بھٹکتا ہوں وہ کون ہے جو مرا چاند پر ملے گا مجھے ملا نہ جس کے لیے گھر کا نرم گرم سکون یہیں کہیں وہ سر رہ گزر ملے گا مجھے عذاب یہ ہے کہ تنہا کٹے گی عمر تمام سفر کے بعد کوئی ہم سفر ملے گا ...

مزید پڑھیے

ہے جستجو اگر اس کو ادھر بھی آئے گا

ہے جستجو اگر اس کو ادھر بھی آئے گا نکل پڑا ہے تو پھر میرے گھر بھی آئے گا تمام عمر کٹے گی یوں ہی سرابوں میں وہ سامنے بھی نہ ہوگا نظر بھی آئے گا جو غم ہوا ہے نئے شہر کے مکانوں میں وہ دیکھنے کو کبھی یہ کھنڈر بھی آئے گا رچی ہے میرے بدن میں تمام دن کی تھکن ابھی تو رات کا لمبا سفر بھی ...

مزید پڑھیے

سزا ہی دی ہے دعاؤں میں بھی اثر دے کر

سزا ہی دی ہے دعاؤں میں بھی اثر دے کر زبان لے گیا میری مجھے نظر دے کر خود اپنے دل سے مٹا دی ہے خواہش پرواز اڑا دیا ہے مگر اس کو اپنے پر دے کر نکل پڑے ہیں سبھی اب پناہ گاہوں سے گزر گئی ہے سیہ شب غم سحر دے کر اسے میں اپنی صفائی میں کیا بھلا کہتا وہ پوچھتا تھا جو مہلت بھی مختصر دے ...

مزید پڑھیے

یوں ہے تری تلاش پہ اب تک یقیں مجھے

یوں ہے تری تلاش پہ اب تک یقیں مجھے جیسے تو مل ہی جائے گا پھر سے کہیں مجھے میں نے تو جو بھی دل میں تھا چہرے پہ لکھ لیا تو ہے کہ ایک بار بھی پڑھتا نہیں مجھے ڈھلتے ہی شام ٹوٹ پڑا سر پہ آسماں پھر میرا بوجھ لے گیا زیر زمیں مجھے تعبیر جاگتی ہوئی آنکھوں کو کیا ملے اک خواب بھی تو شب نے ...

مزید پڑھیے

گرے ہیں لفظ ورق پہ لہو لہو ہو کر

گرے ہیں لفظ ورق پہ لہو لہو ہو کر محاذ زیست سے لوٹا ہوں سرخ رو ہو کر اسی کی دید کو اب رات دن تڑپتے ہیں کہ جس سے بات نہ کی ہم نے دو بدو ہو کر بجھا چراغ ہے دل کا وگرنہ کیسے مجھے نظر نہ آئے گا وہ میرے چار سو ہو کر ہم اپنے آپ ہی مجرم ہیں اپنے منصف بھی خود اعتراف کریں اپنے روبرو ہو کر اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3808 سے 6203