قومی زبان

زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہا

زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہا تیرے در سے ہاتھ آیا بس یہی کرم تنہا دھڑکنیں سناتی ہیں لا مکاں کے افسانے کتنی داستانوں کو سن رہے ہیں ہم تنہا منزلیں بلاتی ہیں جستجو مچلتی ہے تیرگی کا عالم ہے اور ہر قدم تنہا یہ بھی چھین لے آ کر گردش جہاں مجھ سے چند آرزوئیں ہیں اور میرا دم ...

مزید پڑھیے

وہ ہنس پڑا جنوں یہ مچلنے لگی حیات

وہ ہنس پڑا جنوں یہ مچلنے لگی حیات ہاں ہاں یہی ادا یہی انداز التفات وہ مسکرا رہے ہیں دھندھلکوں کی اوٹ سے یوں آزما رہی ہے مجھے تلخیٔ حیات آئے ہیں وہ جنوں میں پشیمانیاں لئے کیا کیا فریب دیتا ہے حسن تصورات بخشی ہے کس نے میرے جنوں کو یہ آگہی سمجھا رہا ہے کون مجھے رمز کائنات کیا ...

مزید پڑھیے

تلاطم

دل آج بہت گھبراتا ہے دل آج بہت گھبراتا ہے طوفان و تلاطم کے پالے گرداب سنبھالے ہیں مجھ کو اک راحت جاں ہمدم کی طرح کچھ خواب سنبھالے ہیں مجھ کو یوں میرے غموں کے سنجیدہ آداب سنبھالے ہیں مجھ کو اور میری تباہی پر خنداں احباب سنبھالے ہیں مجھ کو ہر زخم جگر سمجھاتا ہے دل آج بہت گھبراتا ...

مزید پڑھیے

خرد کو خانۂ دل کا نگہباں کر دیا ہم نے

خرد کو خانۂ دل کا نگہباں کر دیا ہم نے یہ گھر آباد ہوتا اس کو ویراں کر دیا ہم نے چھپوگے کیا دگر رنگ شبستاں کر دیا ہم نے کہ اپنے گھر کو پھونکا اور چراغاں کر دیا ہم نے گھٹے جاتے تھے تم مینائے قلب اہل خلوت میں تمہیں جام کف صحرا نشیناں کر دیا ہم نے انیس خواج گاں تم تھے جلیس خواجگاں تم ...

مزید پڑھیے

یہ نہیں ہے کہ مجھے تیری نظر یاد نہیں

یہ نہیں ہے کہ مجھے تیری نظر یاد نہیں اس نے کیا مجھ سے کہا تھا یہ مگر یاد نہیں بے نیازی یہ نہیں گم شدگی ہے اے دوست کہ مجھے ربط قدیم در و سر یاد نہیں وہی شور ارنی اور وہی بے باکیٔ شوق کہ محبت کو اگر اور مگر یاد نہیں دل خود کام ہے آسودۂ عیش منزل اسے دل سوزیٔ یاران سفر یاد نہیں ہائے ...

مزید پڑھیے

نہیں سہی مرے نالوں میں کچھ اثر نہ سہی

نہیں سہی مرے نالوں میں کچھ اثر نہ سہی نظر کچھ آپ کی بے چین ہے ادھر نہ سہی ہم الجھنوں میں پڑے عقل نارسا لے کر وہ عیش بے خبری خوب تھا خبر نہ سہی ادا فروشیٔ بازار طور اور حضور خبر یہی تو ہے مشہور معتبر نہ سہی فدا ہو تاب بصارت مری بصیرت پر نظر نے چن تو لیا طاقت نظر نہ سہی پکارتے ہیں ...

مزید پڑھیے

گھپ اندھیرا ہے کیا قیامت ہے

گھپ اندھیرا ہے کیا قیامت ہے اک تبسم کی پھر ضرورت ہے سر کو سینے پہ رکھ کے سن لیجے آپ سے دل کو کچھ شکایت ہے ناصحوں سے ہے مے کشی کا فروغ شوق پروردۂ ملامت ہے دل کی دھڑکن جو ہے مدار حیات اک ذرا تیز ہو تو آفت ہے آگ پانی سے بھاپ اٹھتی رہی ہم سمجھتے رہے محبت ہے دہر میں ہم کمال صنعت ...

مزید پڑھیے

گھپ اندھیرا ہے کیا قیامت ہے

گھپ اندھیرا ہے کیا قیامت ہے اک تبسم کی پھر ضرورت ہے سر کو سینے پہ رکھ کہ سن لیجے آپ سے دل کو کچھ شکایت ہے ناصحوں سے ہے مے کشی کا فروغ شوق پروردۂ ملامت ہے دل کی دھڑکن جو ہے مدار حیات اک ذرا تیز ہو تو آفت ہے آگ پانی سے بھاپ اٹھتی رہی ہم سمجھتے رہے محبت ہے دہر میں ہم کمال صنعت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3807 سے 6203