قومی زبان

جانے والوں کے لیے تو اور کیا لے جائے گا

جانے والوں کے لیے تو اور کیا لے جائے گا دیکھ لے دنیا جہاں تک راستہ لے جائے گا خواہش گفتار رہ جائے گی پھر زیر زباں اذن تو دے دے گا لیکن حوصلہ لے جائے گا گونج بن کر لوٹ جائے گی مری فریاد بھی شب کا سناٹا کہاں میری صدا لے جائے گا دل سے مٹ جائے گا اک دن دیکھنے ملنے کا شوق جتنے منظر ہیں ...

مزید پڑھیے

شام سے تنہا کھڑا ہوں یاس کا پیکر ہوں میں

شام سے تنہا کھڑا ہوں یاس کا پیکر ہوں میں اجنبی ہوں اور فصیل شہر سے باہر ہوں میں تو تو آیا ہے یہاں پر قہقہوں کے واسطے دیکھنے والے بڑا غمگین سا منظر ہوں میں میں بچا لوں گا تجھے دنیا کے سرد و گرم سے ڈھانپ لے مجھ سے بدن اپنا تری چادر ہوں میں اب تو ملتے ہیں ہوا سے بھی در و دیوار ...

مزید پڑھیے

اس طرح سوئی ہیں آنکھیں جاگتے سپنوں کے ساتھ

اس طرح سوئی ہیں آنکھیں جاگتے سپنوں کے ساتھ خواہشیں لپٹی ہوں جیسے بند دروازوں کے ساتھ رات بھر ہوتا رہا ہے اس کے آنے کا گماں ایسے ٹکراتی رہی ٹھنڈی ہوا پردوں کے ساتھ ایک لمحے کا تعلق عمر بھر کا روگ ہے دوڑتے پھرتے رہو گے بھاگتے لمحوں کے ساتھ میں اسے آواز دے کر بھی بلا سکتا نہ ...

مزید پڑھیے

ایک مختلف کہانی

جولی کتنی بھولی تھی جب اس نے اظہار کیا تھا اپنے اندر کی خواہش کا اس چھوٹے سے شہر کے سارے لوگوں نے اس پر تھوکا تھا چرچ کے فادر نے اس کو انجیل مقدس کے ورقوں سے پڑھ کے سنایا عورت نسل انسانی کی خاطر دنیا میں آئی ہے اس کے اندر کی خواہش تو ایک گنہ ہے یہ تو کافی سال پرانا قصہ ہے اب جولی تو ...

مزید پڑھیے

ظہور پیکری صحرا میں ہے صرف اک نشاں میرا

ظہور پیکری صحرا میں ہے صرف اک نشاں میرا غبار کارواں ہوں دور نکلا کارواں میرا رسائی مرگ شوق افتادگی ننگ تن آسانی بلا کی کشمکش ہے اور غبار ناتواں میرا مجھے گھبرا کے دوش ہستی جاوید پر پھینکا کوئی دم بھی نہ اٹھا موت سے بار گراں میرا مرے ساز نفس کی خامشی پر روح کہتی ہے نہ آئی مجھ ...

مزید پڑھیے

بھیگی بھیگی گھٹائیں اٹھیں دھیمی دھیمی پھواریں آئیں

بھیگی بھیگی گھٹائیں اٹھیں دھیمی دھیمی پھواریں آئیں رفتہ رفتہ تمنا جاگی چپکے چپکے بہاریں آئیں ذکر و فکر میں کچھ دن جھولے ہوش نہیں اب ہیں وہ جھکولے آگے رم جھم رم جھم بوندیں اور پیچھے بوچھاریں آئیں عالم‌ شوق سے ان کا قیدی طوق و سلاسل پہنے آیا کانپے عرش کے پائے جب زنجیروں کی ...

مزید پڑھیے

جلووں سے نہ آنکھ جھپکتی ہے جلووں کو نہ آنکھ ترستی ہے

جلووں سے نہ آنکھ جھپکتی ہے جلووں کو نہ آنکھ ترستی ہے ہم نے وہ پیالہ پی ہی لیا جس میں نہ خمار نہ مستی ہے کچھ لمحے ہیں جن لمحوں میں احساس اسے چھو لیتا ہے عالم سے ادھر جو عالم ہے ہستی سے ادھر جو ہستی ہے ہے روح کی حالت کندن کی جتنا ہی تپے گی نکھرے گی غم ایک کسوٹی ہے جس پر یہ فطرت ہم کو ...

مزید پڑھیے

مرے نقوش ترے ذہن سے مٹا دے گا

مرے نقوش ترے ذہن سے مٹا دے گا مرا سفر ہی مرے فاصلے بڑھا دے گا اندھیری رات ہے اس تند خو سے مت کہنا وہ روشنی کے لیے اپنا گھر جلا دے گا میں اس کا سب سے ہوں پیارا مگر بچھڑتے ہی وہ سب کو یاد کرے گا مجھے بھلا دے گا بنا ہوا ہوں میں مجرم بغیر جرم کئے اب اور کیا مرا منصف مجھے سزا دے ...

مزید پڑھیے

ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہے

ابھی تو دل میں ہے جو کچھ بیان کرنا ہے یہ بعد میں سہی کس بات سے مکرنا ہے تو میرے ساتھ کہاں تک چلے گا میرے غزال میں راستہ ہوں مجھے شہر سے گزرنا ہے کنار آب میں کب تک گنوں گا لہروں کو ہے شام سر پہ مجھے پار بھی اترنا ہے ابھی تو میں نے ہواؤں میں رنگ بھرنے ہیں ابھی تو میں نے افق در افق ...

مزید پڑھیے

ہاتھ لہراتا رہا وہ بیٹھ کر کھڑکی کے ساتھ

ہاتھ لہراتا رہا وہ بیٹھ کر کھڑکی کے ساتھ میں اکیلا دور تک بھاگا گیا گاڑی کے ساتھ ہو گیا ہے یہ مکاں خالی صداؤں سے مگر ذہن اب تک گونجتا ہے ریل کی سیٹی کے ساتھ مدتیں جس کو لگی تھیں میرے پاس آتے ہوئے ہو گیا مجھ سے جدا وہ کس قدر تیزی کے ساتھ کوئی بادل میرے تپتے جسم پر برسا نہیں جل رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3809 سے 6203