قومی زبان

دور دور تک سناٹا ہے کوئی نہیں ہے پاس

دور دور تک سناٹا ہے کوئی نہیں ہے پاس آ جا دریا ہونٹ سے لگ جا پی لے میری پیاس عشق کے پہلے پہلے وار سے وہ بھی ٹوٹ گئی اک جوگی کا پیار نہ آیا اس لڑکی کو راس روزانہ پوشاکیں بدلوں اور خوشبوئیں بھی میرے جسم سے اترے نا میری مٹی کی باس سارے دریا پھوٹ پڑیں گے اک دوجے کے بیچ اک دن آ کر مل ...

مزید پڑھیے

تری آواز میں بھی کوئی آوازہ نہیں ہوتا

تری آواز میں بھی کوئی آوازہ نہیں ہوتا تری باتوں سے اب تو کوئی اندازہ نہیں ہوتا کبھی بیٹھک تری دوپہر میں آباد رہتی تھی کھلا اب شام کو بھی گھر کا دروازہ نہیں ہوتا کبھی وہ اک اشارے سے سمجھ جاتا تھا ساری بات جتن کرنے سے بھی اب اس کو اندازہ نہیں ہوتا بہت ہی بن سنور کر آج کل گھر سے ...

مزید پڑھیے

مری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گا

مری آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ کون دے گا سمندر کو سمندر میں سہارا کون دے گا مرے چہرے کو چہرہ کب عنایت کر رہے ہو تمہیں میرے سوا چہرہ تمہارا کون دے گا مرے دریا نے اپنے ہی کنارے کاٹ ڈالے بپھرتے پانیوں کو اب سہارا کون دے گا بدن میں ایک صحرا جل رہا ہے بجھ رہا ہے مرے دریاؤں کو پہلا ...

مزید پڑھیے

جو ملا کرتی تھی مجھ کو لکڑیوں کی ٹال پر

جو ملا کرتی تھی مجھ کو لکڑیوں کی ٹال پر ایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پر آنکھ میں سائے کی خواہش پیٹ میں روٹی کی بھوک پھر بھی کیسی تازگی تھی پھول جیسے گال پر اس کو دیکھا تو اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا جیسے اک زخمی سی تتلی ایک ٹوٹی ڈال پر جانے کیسے اس کو میری پیاس کی پہنچی خبر لائی ...

مزید پڑھیے

اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہر

اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہر سارے منظر ٹوٹ گئے اور کام نہ آیا شہر بے گھر ہونا بے گھر رہنا سب اچھا ٹھہرا گھر کے اندر گھر نہیں پایا شہر میں پایا شہر سات سمندر پار بھی آنکھیں میرے ساتھ نہ آئیں چاروں جانب خواب ہیں میرے اور پرایا شہر کالے شہر کو روشن رکھا شہر کے لوگوں ...

مزید پڑھیے

ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئے

ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئے جس طرح شہری پرندوں سے شجر چھینے گئے تتلیوں نے کاغذی پھولوں پہ ڈیرا کر لیا راستے میں جگنوؤں کے بال و پر چھینے گئے اس قدر بڑھنے لگے ہیں گھر سے گھر کے فاصلے دوستوں سے شام کے پیدل سفر چھینے گئے کالے سورج کی ضیا سے شہر اندھا ہو گیا خون میں ...

مزید پڑھیے

طنز کے پتھر مسلسل ہم پہ برساتے رہے

طنز کے پتھر مسلسل ہم پہ برساتے رہے کچھ کرم احباب اپنے یوں بھی فرماتے رہے عشق کا الزام تنہا کیوں رہے میرے ہی سر دم بہ دم تم بھی تو میری راہ میں آتے رہے شور میں آواز ان کی کوئی بھی سنتا نہ تھا بھیڑ میں کتنے گداگر ہاتھ پھیلاتے رہے آپ نے شاید ہمارا حوصلہ دیکھا نہیں زخم کھا کر ...

مزید پڑھیے

میرے ہونے کا تماشا نہیں ہونے دیتا

میرے ہونے کا تماشا نہیں ہونے دیتا ظرف دھیما مرا لہجہ نہیں ہونے دیتا جھیل کی طرح مجھے قید کیا ہے اس نے میرے جذبات کو دریا نہیں ہونے دیتا استعانت وہ بہرحال کیا کرتا ہے میرا مالک مجھے رسوا نہیں ہونے دیتا میری عادت ہے کہ پوشیدہ مدد کرتا ہوں اپنے ہمسائے کو رسوا نہیں ہونے دیتا نت ...

مزید پڑھیے

قیامت کی تڑپ غم انتہا کا

قیامت کی تڑپ غم انتہا کا صلہ ہم کو ملا ہے یہ وفا کا بھرم ٹوٹا نہیں میری انا کا ابھی تک فضل ہے اظہر خدا کا ہمیں پھر خوف کیا روز جزا کا وسیلہ ہے محمد مصطفیٰ کا سنبھل کر کیجئے گا گفتگو بھی مخالف آج کل ہے رخ ہوا کا مزہ آنے لگا ہے درد دل میں اثر شاید ہے یہ میری دعا کا کوئی خائف نہ اس ...

مزید پڑھیے

نظم

میرے ان کاکل برہم کی حکایت مت پوچھ آہ اس نالۂ پیہم کی حقیقت مت پوچھ دیکھ لے چشم بصیرت سے زمانے کا نظام مجھ سے اے دوست مرے غم کی صداقت مت پوچھ لب رنگیں کا وہ اعجاز کہاں سے لاؤں ساز خاموش میں آواز کہاں سے لاؤں داستان دل برباد سناؤں کیسے مجھ پہ گزری ہے جو افتاد سناؤں کیسے آتش غم سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3804 سے 6203