قومی زبان

ہر طرف تیرا آئنہ دیکھا

ہر طرف تیرا آئنہ دیکھا حسن قدرت کا بے بہا دیکھا اپنی آنکھوں میں وہ نظر آیا ہم نے جب جب بھی آئنہ دیکھا میرے احساس میں نہاں ہے تو خواب میں تجھ کو جا بجا دیکھا تھک گئی ہوں اکیلے چل چل کر دل ہوا خوش جو قافلہ دیکھا منتظر ہوں تری زمانے سے اک دیا بن کے راستہ دیکھا عشق کی انتہا پہ آ کر ...

مزید پڑھیے

آج کا اخبار

دروازے پہ کھٹ سے ہوئی اک آواز اور میں چونک گئی ضرور ہوگا آج کا اخبار دروازہ کھول کر دیکھا میرا اندازہ سہی نہیں تھا وہاں اخبار پڑا نہیں تھا وہاں تھا آگ کا ایک گولا اس میں لپٹی تھیں چند مسلی ہوئی معصوم کلیاں کچھ گندی تنگ گلیاں بھوک کا سوز اور کچھ ذخیرہ‌ اندوز بے روزگاری کا ...

مزید پڑھیے

دیر و حرم میں دشت و بیابان و باغ میں

دیر و حرم میں دشت و بیابان و باغ میں ڈھونڈو نہ مجھ کو میں ہوں خود اپنے سراغ میں ہاں اے اسیرو خیر سے ہو کس سراغ میں کھلتے ہیں اب تو پھول ہوا بست باغ میں اس برف زار میں بھی جلاتی ہی جاتی ہے وہ اک شبیہ جو ہے نہاں دل کے داغ میں رہتا ہے اب زمین پہ وہ آسماں پسند ہاں وہ خجل تھا جس سے خدا ...

مزید پڑھیے

میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤں

میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤں مزاج پوچھ کے دار و رسن کا ٹل جاؤں وہ اور ہوں گے جو ہیں آج قید بے سمتی وہی ہے سمت میں جس سمت کو نکل جاؤں فریب کھا کے جنوں عقل کے کھلونوں سے خدا وہ وقت نہ لائے کہ میں بہل جاؤں مرا وجود ہے مومی کہیں نہ ہو ایسا کسی کی یاد کی گرمی سے میں پگھل جاؤں جو ...

مزید پڑھیے

دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوں

دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوں میں بھی حسین ہی کی طرح کربلا میں ہوں ٹکتے نہیں کہیں بھی قدم آرزوؤں کے پھینکا ہے جب سے تیری زمیں نے خلا میں ہوں آواز کب سے دیتا تھا حرماں نصیب دل اب آئی ہے تو غرق نشاط بلا میں ہوں کیا فرض ہے کہ عیسیٰ و مریم دکھائی دے مصلوب درد چیخے کہ میں ابتلا ...

مزید پڑھیے

منزلوں کا میں پتا بھی دوں گا

منزلوں کا میں پتا بھی دوں گا خود کو رستے سے ہٹا بھی دوں گا اتنا احسان فراموش نہیں بے وفائی کا صلہ بھی دوں گا اپنی حسرت تو وہ پوری کر لے دشمن جاں کو دعا بھی دوں گا پہلے دروازے پہ دستک دے لوں پھر یہ دیوار گرا بھی دوں گا زندگی جرم تو عائد کر دے بے گناہی کو سزا بھی دوں گا قتل بھی ...

مزید پڑھیے

وہ نہیں ملتا مجھے اس کا گلا اپنی جگہ

وہ نہیں ملتا مجھے اس کا گلا اپنی جگہ اس کے میرے درمیاں کا فاصلہ اپنی جگہ زندگی کے اس سفر میں سیکڑوں چہرے ملے دل کشی ان کی الگ پیکر ترا اپنی جگہ تجھ سے مل کر آنے والے کل سے نفرت مول لی اب کبھی تجھ سے نہ بچھڑوں یہ دعا اپنی جگہ اک مسلسل دوڑ میں ہیں منزلیں اور فاصلے پیڑ تو اپنی جگہ ...

مزید پڑھیے

وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں

وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں قدم قدم سفر میں اب کوئی بھی لب دعا نہیں ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو ...

مزید پڑھیے

تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا

تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر یوں بھی ...

مزید پڑھیے

بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہے

بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہے فنا نصیب ہر اک سلسلہ اداسی ہے بچھڑ نہ جائے کہیں تو سفر اندھیروں میں ترے بغیر ہر اک راستا اداسی ہے بتا رہا ہے جو رستہ زمیں دشاؤں کو ہمارے گھر کا وہ روشن دیا اداسی ہے اداس لمحوں نے کچھ اور کر دیا ہے اداس ترے بغیر تو ساری فضا اداسی ہے کہیں ضرور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3805 سے 6203