قومی زبان

فحاشی پر سزا اور جرمانہ

رفیق چوہدری کے افسانوں کا مجموعہ’’محبتوں کے چراغ‘‘ شائع ہوا ۔ اس پر دیباچہ ابراہیم جلیس نے لکھا تھا ۔ مصنف اور دیباچہ نگار دونوں کو پاکستان سرکار نے فحاشی کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔ مقدمہ چلا اور دونوں کو تین ماہ قید اور تین ہزار جرمانہ کی سزا سنائی گئی ۔ اس واقعہ کے بعد ...

مزید پڑھیے

صحافت اور ادب کا رشتہ

ایک محفل میں مشہور صحافی احمد علی اور ان کی اہلیہ ہاجرہ مسرور( جو بہت مشہور ادیبہ ہیں)، ابراہیم جلیس اور بہت سے ادیب جمع تھے ۔ اچانک ایک صاحب نے ابراہیم جلیس سے سوال کیا : ’’صاحب یہ بتائیے کہ صحافت اور ادب میں کیا رشتہ ہے ؟‘‘ اس پر جلیس مسکرائے اور احمد علی اور ان کی اہلیہ کی طرف ...

مزید پڑھیے

سب سے بڑا جھوٹا

ابراہیم جلیس کو جھوٹ بولنے کی بہت عادت تھی ۔ ایک دن حمید اختر نے جلیس سے کہا۔ ’’میں نے زندگی میں بڑے بڑے جھوٹے آدمی دیکھے ہیں مگر تم سے بڑا کوئی نہیں ملا۔ تمہاری نظر میں کوئی ہے کیا جو اس میدان میں تم سے آگے ہو ؟‘‘ ’’ہاں ہے ۔‘‘ جلیس نے جواب دیا۔ حمید نے ...

مزید پڑھیے

میں کب رہین ریگ بیابان یاس تھا

میں کب رہین ریگ بیابان یاس تھا صد خیمۂ بہار مرے آس پاس تھا توڑا ہے بارہا مجھے دل کی شکست نے چہرہ مگر ذرا بھی نہ میرا اداس تھا صحرائے جاں کی دھوپ میں تھیں وحشتیں بہت لیکن نہ میرا عزم کہیں بدحواس تھا یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا میں نے ہر ...

مزید پڑھیے

دیکھا تو کوئی اور تھا سوچا تو کوئی اور

دیکھا تو کوئی اور تھا سوچا تو کوئی اور جب آ کے ملا اور تھا چاہا تو کوئی اور اس شخص کے چہرے میں کئی رنگ چھپے تھے چپ تھا تو کوئی اور تھا بولا تو کوئی اور دو چار قدم پر ہی بدلتے ہوئے دیکھا ٹھہرا تو کوئی اور تھا گزرا تو کوئی اور تم جان کے بھی اس کو نہ پہچان سکو گے انجانے میں وہ اور ہے ...

مزید پڑھیے

انا نے ٹوٹ کے کچھ فیصلہ کیا ہی نہیں

انا نے ٹوٹ کے کچھ فیصلہ کیا ہی نہیں بیان اپنا کبھی مدعا کیا ہی نہیں ہر ایک شخص کو انسان ہی رکھا ہم نے کہ آدمی کو نظر میں خدا کیا ہی نہیں بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں کئی دشاؤں سے گزرا ہے کاروان حیات ٹھہر کے دل کو کہیں مبتلا کیا ہی ...

مزید پڑھیے

اس کی اک دنیا ہوں میں اور میری اک دنیا ہے وہ

اس کی اک دنیا ہوں میں اور میری اک دنیا ہے وہ دشت میں تنہا ہوں میں اور شہر میں تنہا ہے وہ میں بھی کیسا آئنہ ہوں آئنہ در آئنہ دور تک چہرہ بہ چہرہ بس نظر آتا ہے وہ اس کی خوش بو سے مہک کر پھول بن جاتا ہے دل موسم گل کی طرح آتا ہے وہ جاتا ہے وہ زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر اس سفر میں ...

مزید پڑھیے

سائبان

میں خزاں میں گرفتار ہوں دیکھو خوابیدہ موجوں خریدار روحوں امڈتے سمٹتے زمانوں سے ارض و سما کی سیاہی کا دامن نچوڑا ہے لیکن ہواؤں کے وہم و گماں میں نہیں کون سی خاک سے قطرۂ آب تابندہ موتی کی آغوش لیتا ہے خواہش سے باہر نہ آؤں مری ابتدا انتہا آج سمندر کی سلوٹ میں تابندگی ہے سمندر کو ...

مزید پڑھیے

دھند

روشن روشن روشن آنکھیں یوں مرکوز ہوئی ہیں جیسے میں ہی میں ہوں مجھ میں لا تعداد فسانے اور معانی ہیں میں صد ہا اسرار چھپائے پھرتا ہوں میں خوش قسمت ہوں میرے ساتھ جہان رنگ و رعنائی ہے اور دریچہ بند نہاں خانوں سے روح یزداں کی خوشبو اٹھتی ہے میرا سر و مشام معطر کرتی ہے اور مری تقدیر ...

مزید پڑھیے

چومتا پانی، پانی پانی

پھٹتے ارادے یقین مصیبت پاؤں دھلائے چشمہ کہ ہونٹ شبیہ لعاب میسر رات انوکھا سانحہ ہو جائے گا میلے کنول کے پھول ڈبوتا لپٹ لپٹ کر چومتا پانی، پانی پانی ندامت سے مغلوب خرابی: مد و جزر موجود طبیعت کا تخریب تماشہ مراجعت آنکھوں سے اوجھل چھوتی بہاتی بے ترتیب عذاب ہے ہری بھری بے چارگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3803 سے 6203