سوچتا ہوں سدا میں زمیں پر اگر کچھ کبھی بانٹتا
سوچتا ہوں سدا میں زمیں پر اگر کچھ کبھی بانٹتا تو اندھیروں کے نزدیک جاتا انہیں روشنی بانٹتا تیرے ہوتے ہوئے ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے تھے عزیز کاش تو ہر گھڑی ہر جگہ ہم سے موجودگی بانٹتا خالقا مجھ کو معلوم ہوتا اگر آخری موڑ ہے میں بچھڑتے ہوئے سارے کردار کو زندگی بانٹتا وقت نے ...