قومی زبان

سوچتا ہوں سدا میں زمیں پر اگر کچھ کبھی بانٹتا

سوچتا ہوں سدا میں زمیں پر اگر کچھ کبھی بانٹتا تو اندھیروں کے نزدیک جاتا انہیں روشنی بانٹتا تیرے ہوتے ہوئے ہم تجھے ڈھونڈتے پھر رہے تھے عزیز کاش تو ہر گھڑی ہر جگہ ہم سے موجودگی بانٹتا خالقا مجھ کو معلوم ہوتا اگر آخری موڑ ہے میں بچھڑتے ہوئے سارے کردار کو زندگی بانٹتا وقت نے ...

مزید پڑھیے

تصورات میں وہ زوم کر رہا تھا مجھے

تصورات میں وہ زوم کر رہا تھا مجھے بہت شدید توجہ کا سامنا تھا مجھے چمک رہا تھا میں سورج کے مثل اس لئے دوست کہیں پہ جا کے اندھیرے میں ڈوبنا تھا مجھے مجھے وہاں سے اداسی بلا رہی تھی آج جہاں سے شام و سحر کوئی دیکھتا تھا مجھے پھر اس کو جا کے بتانا پڑا غلط ہے یہ سمجھنے والے نے کیا کیا ...

مزید پڑھیے

جس طرف دیکھیے بازار اداسی کا ہے

جس طرف دیکھیے بازار اداسی کا ہے شہر میں کون خریدار اداسی کا ہے اب تو آنکھوں میں بھی آنسو نہیں آتے میرے یہ الگ روپ مرے یار اداسی کا ہے روح بیچاری پریشاں ہے کہاں جائے اب اس قدر جسم پہ اب بار اداسی کا ہے اپنے ہونے کا گماں تک نہیں ہوتا مجھ کو جانے یہ کون سا معیار اداسی کا ہے اب یہ ...

مزید پڑھیے

یہ قصۂ مختصر نہیں ہے

یہ قصۂ مختصر نہیں ہے تفصیل طلب مگر نہیں ہے تم اپنے دیے جلائے رکھو امکان سحر اگر نہیں ہے تو میرے دل میں جھانکتا ہے تیری اتنی نظر نہیں ہے جو لوگ دکھائی دے رہے ہیں کاندھوں پہ کسی کے سر نہیں ہے اب یوں ہی دیکھتا ہوں رستہ منزل پیش نظر نہیں ہے یہ سوچ کے کی دعا مؤخر دیوار میں کوئی ...

مزید پڑھیے

یہ رنگ بے رنگ سارے منظر ہیں ایک جیسے

یہ رنگ بے رنگ سارے منظر ہیں ایک جیسے یہ پھول سارے یہ سارے نشتر ہیں ایک جیسے یہ اول اول تمام بکھرے ہوئے مناظر نظر جما لو تو آخر آخر ہیں ایک جیسے مری نگاہوں سے ہو کے جاتا ہے ان کا پانی یہ سارے دریا سبھی سمندر ہیں ایک جیسے میں کال جس کو ملاؤں جا کر ملے اسی کو یہ کیا کہ دنیا کے سارے ...

مزید پڑھیے

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں

کوئی میرا امام تھا ہی نہیں میں کسی کا غلام تھا ہی نہیں تم کہاں سے یہ بت اٹھا لائے اس کہانی میں رام تھا ہی نہیں جس قدر شور آب و گل تھا یہاں اس قدر اہتمام تھا ہی نہیں اس لیے سادھ لی تھی چپ میں نے اس سے بہتر کلام تھا ہی نہیں ہم نے اس وقت بھی محبت کی جب محبت کا نام تھا ہی نہیں تو ...

مزید پڑھیے

زخم اب تک وہی سینے میں لیے پھرتا ہوں

زخم اب تک وہی سینے میں لیے پھرتا ہوں کوفے والوں کو مدینے میں لیے پھرتا ہوں جانے کب کس کی ضرورت مجھے پڑ جائے کہاں آگ اور خاک سفینے میں لیے پھرتا ہوں ریت کی طرح پھسلتے ہیں مری آنکھوں سے خواب ایسے بھی خزینے میں لیے پھرتا ہوں ایک ناکام محبت مرا سرمایہ ہے اور کیا خاک دفینے میں لیے ...

مزید پڑھیے

احتیاطاً اسے چھوا نہیں ہے

احتیاطاً اسے چھوا نہیں ہے آدمی ہے کوئی خدا نہیں ہے دشت میں آتے جاتے رہتے ہیں یہ ہمارے لیے نیا نہیں ہے تم سمجھتے ہو ناخدا خود کو تم پہ دریا ابھی کھلا نہیں ہے جس کا حل سوچنے میں وقت لگے وہ محبت ہے مسئلہ نہیں ہے باغ پر شعر کہنے والوں کا ایک مصرع ہرا بھرا نہیں ہے ریت ہی ریت ہے تہہ ...

مزید پڑھیے

آخر اک دن سب کو مرنا ہوتا ہے

آخر اک دن سب کو مرنا ہوتا ہے یعنی مصرع پورا کرنا ہوتا ہے میں دریا کی گہرائی تک جاتا ہوں میں نے کون سا پار اترنا ہوتا ہے اپنے آنسو آپ ہی رونا ہوتے ہیں اپنا گھاؤ آپ ہی بھرنا ہوتا ہے اس صحرا کو پنچھی پوجنے آتے ہیں جس صحرا کے دل میں جھرنا ہوتا ہے ہم تو زمیں پر رینگنے والے کیڑے ...

مزید پڑھیے

کوئی مجنوں کوئی فرہاد بنا پھرتا ہے

کوئی مجنوں کوئی فرہاد بنا پھرتا ہے عشق میں ہر کوئی استاد بنا پھرتا ہے جس سے تعبیر کی اک اینٹ اٹھائی نہ گئی خواب کے شہر کی بنیاد بنا پھرتا ہے پہلے کچھ لوگ پرندوں کے شکاری تھے یہاں اب تو ہر آدمی صیاد بنا پھرتا ہے دھوپ میں اتنی سہولت بھی غنیمت ہے مجھے ایک سایہ مرا ہم زاد بنا پھرتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3776 سے 6203