قومی زبان

آنکھوں کو کچھ خواب دکھا کر مانیں گے

آنکھوں کو کچھ خواب دکھا کر مانیں گے آپ ہمارے ہوش اڑا کر مانیں گے لگتا ہے یہ پانی بیچنے والے لوگ ہر بستی میں آگ لگا کر مانیں گے تجھ کو چھونے کی چاہت میں دیوانے شاید اپنے ہاتھ جلا کر مانیں گے طے تو یہ تھا پچھلی باتیں بھولنی ہیں آپ مگر سب یاد دلا کر مانیں گے گھر کا جھگڑا گر باہر ...

مزید پڑھیے

تمہارے کام اگر آئے مسکرانے میں

تمہارے کام اگر آئے مسکرانے میں تو کوئی حرج نہیں میرے ٹوٹ جانے میں فروخت ہو گئی ہر شے جو دل مکان میں تھی میں اتنا خرچ ہوا ہوں اسے کمانے میں میں اپنی جان سے جاؤں گا ہے یہ سچ لیکن اسے بھی زخم تو آئیں گے آزمانے میں وہ ایک لفظ محبت نہ بن سکا مجھ سے ہزار بار مٹا ہوں جسے بنانے ...

مزید پڑھیے

زمیں بنائی گئی آسماں بنایا گیا

زمیں بنائی گئی آسماں بنایا گیا برائے عشق یہ سارا جہاں بنایا گیا تمہاری نا کو ہی آخر میں ہاں بنایا گیا یقیں کے چاک پے رکھ کر گماں بنایا گیا تم اس کے پاس ہو جس کو تمہاری چاہ نہ تھی کہاں پہ پیاس تھی دریا کہاں بنایا گیا ہمارے ساتھ کوئی دو قدم بھی چل نہ سکا کسی کے واسطے اک کارواں ...

مزید پڑھیے

اسے اجالے کا خطرہ ستاتا رہتا ہے

اسے اجالے کا خطرہ ستاتا رہتا ہے پکڑ پکڑ کے وہ جگنو بجھاتا رہتا ہے دعائیں دیتا ہے کوئی نہ بھیک مانگے یہاں مگر وہ چاک پہ کاسے بناتا رہتا ہے ہوا پہ زور تو چلتا نہیں ہے جگنو کا مگر چراغ کی ہمت بڑھاتا رہتا ہے وہ شخص جس کو ابھی تیرنا نہیں آتا وہ ڈوبنے کے فوائد گناتا رہتا ہے خموشیوں ...

مزید پڑھیے

کچھ اس پہ سوچنا تھا مشورہ بھی کرنا تھا

کچھ اس پہ سوچنا تھا مشورہ بھی کرنا تھا معاملے پہ ابھی تبصرہ بھی کرنا تھا اسے بھی کہنا تھا اپنا خیال رکھنے کو بچھڑتے وقت مجھے حوصلہ بھی کرنا تھا کسی کے نام کے دن بھی بچا کے رکھنے تھے اور ایک زندگی سا سلسلہ بھی کرنا تھا وہ واقعات بھی دل سے مجھے بھلانے تھے کہیں کہیں پہ رقم سانحہ ...

مزید پڑھیے

جب ایک خوف سا مرنے کا سر پہ بیٹھ گیا

جب ایک خوف سا مرنے کا سر پہ بیٹھ گیا عجیب سایہ نحوست کا گھر پہ بیٹھ گیا یہی کہانی تھی بس اپنی بادشاہت کی فقیر ایک اٹھا ایک در پہ بیٹھ گیا کہیں تو شہر میں ان بن کسی کے ساتھ ہوئی جو دنیا چھوڑ کے ساری وہ گھر پہ بیٹھ گیا تکلفات میں کچھ تو لحاظ باقی تھا ذرا سی ڈھیل بھی کیا دی وہ سر پہ ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ ٹوٹی جو سیہ رات بتانے کی نہیں

مجھ پہ ٹوٹی جو سیہ رات بتانے کی نہیں یعنی یہ گردش حالات بتانے کی نہیں ہاں مرا حال بھی بالکل ہے تمہارے جیسا مان لو بات کہ ہر بات بتانے کی نہیں دل کی رگ رگ میں گھلی جائے حلاوت جس کی ہائے وہ درد کی سوغات بتانے کی نہیں دھوپ کے شہر میں میرے بھی کئی دن گزرے سر پہ برسی تھی جو برسات ...

مزید پڑھیے

قطار جگنوؤں کی روشنی لٹاتی رہی

قطار جگنوؤں کی روشنی لٹاتی رہی میں رنگ گوندھ کے تتلی کے پر بناتی رہی رکھا تھا سوئی کی ٹک ٹک پہ اک دھڑکتا دل یہی تماشہ گھڑی ہاتھ کی دکھاتی رہی میں چاندنی کی سہیلی وہ چاند بھائی مرا تمام دن یہی آواز کان کھاتی رہی گھسا پٹا کہیں کچھ انتظار روتا رہا ہوا کو دیکھو کھڑی سیٹیاں بجاتی ...

مزید پڑھیے

سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوں

سخن میں ڈوب کر افکار کے اندر سے نکلی ہوں بڑی مشکل سے میں کردار کے اندر سے نکلی ہوں یہ کیسی تان میں بھر کر اتارا خود کو نغمے میں ڈھلی سر میں نہ میں جھنکار کے اندر سے نکلی ہوں مری مرضی بھی شامل جب ہوئی ہے اس کی مرضی میں میں ضد کو توڑ کر انکار کے اندر سے نکلی ہوں کہیں بنیاد میں شامل ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تو

ڈھونڈھتا حق کو در بدر ہے تو وائے اپنے سے بے خبر ہے تو شان حق آشکار ہے تن سے موجد‌ کلّ خیر و شر ہے تو ایک میں کیا وجود جملہ ظہور کل میں خود آپ با اثر ہے تو قدرت کاملہ کو غور تو کر بحر یکتائی کا گہر ہے تو میٹ اپنی خودی خدا کو پا نفع حاصل ہو کیا اگر ہے تو مقتدر آپ ہر سبب کا ہے اس لئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 358 سے 6203