قومی زبان

یوں ترے شہر سے ہم یار چلے آتے ہیں

یوں ترے شہر سے ہم یار چلے آتے ہیں جیسے کعبے سے گنہ گار چلے آتے ہیں عشق میں قیس نے صحراؤں کو چھانا ہوگا ہم وہ مجنوں ہیں جو بازار چلے آتے ہیں رات بھر تم بھی اداسی کا سبب بنتے ہو دن نکلتا ہے تو اخبار چلے آتے ہیں یہ ترے شہر کی رسوائی نہیں تو کیا ہے ہم ترے شہر سے بیمار چلے آتے ہیں وہ ...

مزید پڑھیے

مجھے وہ غم ہے کہ ساری زمین رونے لگے

مجھے وہ غم ہے کہ ساری زمین رونے لگے جو اشک پونچھ دوں تو آستین رونے لگے تمہیں پتہ ہے میں ایسی جگہ بھی ہنس آیا جہاں پہ ضبط کے سب ماہرین رونے لگے مداری جانتا تھا آخری تماشا ہے سو کھیل ایسا کیا ناظرین رونے لگے ترے لبوں پہ اداسی تھی ایک لمحے کو تری ہنسی کے سبھی شائقین رونے لگے کچھ ...

مزید پڑھیے

دنیا اگر جلائے گی تو کیا جلوں گا میں

دنیا اگر جلائے گی تو کیا جلوں گا میں ہاں تم جلا رہے ہو تو اچھا جلوں گا میں اشکوں کی وہ کمی کہ بدن خشک ہو چکا اس بار جل اٹھوں گا تو سارا جلوں گا میں تم جل نہیں سکے تو ہوائیں ہی روک لو کب تک ان آندھیوں میں اکیلا جلوں گا میں ہوں اشک بار مجھ کو ابھی مت جلائیے ہوگا دھواں زیادہ جو گیلا ...

مزید پڑھیے

ہوں آنکھیں ایک خواب پہ قربان کرکے خوش

ہوں آنکھیں ایک خواب پہ قربان کرکے خوش اور جسم نذر آتش وجدان کرکے خوش یہ تم بھی جانتے ہو کہ ہارا نہیں ہوں میں ہو جاؤ اپنی جیت کا اعلان کرکے خوش میں اس کو بھولنے کے ارادے سے ہوں دکھی ہوتا ہے کون جنگ کا اعلان کرکے خوش سب لطف لے رہے ہیں اداسی کا شہر میں ہیں لوگ اپنے سوگ کا سامان ...

مزید پڑھیے

اس کے ہاتھوں میں وہ تاثیر مسیحائی تھی

اس کے ہاتھوں میں وہ تاثیر مسیحائی تھی سوکھتے پیڑ سے بھی شاخ نکل آئی تھی زندگی بھر وہ اداسی کے لیے کافی ہے ایک تصویر جو ہنستے ہوئے کھنچوائی تھی کل تو مرنے میں سہولت بھی بہت تھی مجھ کو ہجر تھا رات تھی برسات تھی تنہائی تھی مر گیا پیاس سے وہ شخص بھی اب حیرت ہے جس کی دریاؤں سے برسوں ...

مزید پڑھیے

بنا ہوا تھا کہیں آب دان کاغذ پر

بنا ہوا تھا کہیں آب دان کاغذ پر تھی اتنی پیاس کہ رکھ دی زبان کاغذ پر کرایے دار کی آنکھوں میں آ گئے آنسو بنائے بیٹھے تھے بچے مکان کاغذ پر تمہارے خط میں نظر آئی اتنی خاموشی کہ مجھ کو رکھنے پڑے اپنے کان کاغذ پر تمام عمر گزاری ہے دھوپ میں شاید بنا رہا ہے کوئی سائبان کاغذ پر اٹھا ...

مزید پڑھیے

بڑے سلیقے سے اب ہم کو جھوٹ بولنا ہے

بڑے سلیقے سے اب ہم کو جھوٹ بولنا ہے مرے نہ کوئی فقط اتنا زہر گھولنا ہے رکھی ہوئی ہے تری یاد دل کے پلڑے میں اب اس ترازو میں اک عشق اور تولنا ہے میں اس لئے بھی زمانے میں سب کو پیارا ہوں مجھے پتا ہے کہاں کتنا جھوٹ بولنا ہے ہمارے دیش میں انصاف کی جو دیوی ہے اب آستھا سے اسے زندگی کو ...

مزید پڑھیے

مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تھا

مری چیخوں سے کمرہ بھر گیا تھا کوئی کل رات مجھ میں مر گیا تھا بہت مشکل ہے اس کا لوٹ آنا وہ پوری بات کب سن کر گیا تھا مجھے پہچانتا بھی ہے کوئی اب میں بس یہ دیکھنے ہی گھر گیا تھا زمانہ جس کو دریا کہہ رہا ہے ہماری آنکھ سے بہہ کر گیا تھا کئی صدیوں سے سوکھا پڑ رہا ہے یہاں اک شخص پیاسا ...

مزید پڑھیے

سب کو ہی اس در پر تالا دکھتا تھا

سب کو ہی اس در پر تالا دکھتا تھا مجھ کو کوئی دوڑ کے آتا دکھتا تھا کرتے تھے وہ دعائیں اندھے ہونے کی پیاسوں کو زنداں سے دریا دکھتا تھا وہ تھا ایک کنیز کے کمرے کا درپن اس میں دیکھنے والا روتا دکھتا تھا میں نے ان آنکھوں میں دنیا دیکھی تھی اور دنیا کو جانے کیا کیا دکھتا تھا اڑتا ...

مزید پڑھیے

خیال اندر ہی اندر مر گیا ہے

خیال اندر ہی اندر مر گیا ہے ترا غم مجھ کو پاگل کر گیا ہے خوشی آنکھوں میں آنسو کھینچتی ہے سمجھ لو دل دکھوں سے بھر گیا ہے طلب اس کو نہ ہوگی بھوک کی اب مری جانب سے لقمہ تر گیا ہے تباہی میں گئیں دیواریں گھر کی نہ کھڑکی ہی نہ کوئی در گیا ہے پڑی ہے گہرے دکھ کی ضرب دل پر مکمل جس سے درد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 357 سے 6203