قومی زبان

شانتی

تمہارے آنگن میں روشنی ہو ہمارے گھر میں بھی زندگی ہو تمہارے بچے بھی مسکرائیں ہمارے بچے بھی رو نہ پائیں تمہیں بھی لب کھولنے کا حق ہو ہمیں بھی کچھ بولنے کا حق ہو تمہاری جنتا بھی پر سکوں ہو ہمیں بھی اک امن کا جنوں ہو تمہیں بھی چاہت کی جستجو ہو ہمیں بھی انسانیت کی خو ہو چلو اک ایسی ...

مزید پڑھیے

وطن

ترے کسان کے سینے میں حسرتوں کا ہجوم تری فضاؤں میں ہر بیٹی ماں بہن مغموم ترے غریب کی آنکھوں میں سیل اشک رواں تو اک وطن ہے کہ اجڑے ہوئے وطن کا نشاں کھنچی ہوئیں ترے ماتھے پہ اس قدر شکنیں کھڑی ہوئیں ترے سینے پہ اتنی دیواریں بہا ہے کتنا لہو آج تیرے دامن پر خزاں یہ کس نے بچھائی ہے تیرے ...

مزید پڑھیے

راہزن ہوں کہ رہنما ہوں میں

راہزن ہوں کہ رہنما ہوں میں کون جانے کہ اصل کیا ہوں میں وہ جو عبرت کا اک نشاں ٹھہرے باغ والوں کو جانتا ہوں میں مجھ سے خلق خدا لرزتی ہے کس نوعیت کا پارسا ہوں میں سادگی کو بھی جس پہ رشک آئے اس تکلف کی انتہا ہوں میں کس نے دیکھا یہ دیکھنا میرا دل کی آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں بھیڑیے ...

مزید پڑھیے

کس قدر خوش تھا کبھی یاروں کے بیچ

کس قدر خوش تھا کبھی یاروں کے بیچ اب ترستا ہوں میں خرکاروں کے بیچ کچھ خبر بھی ہے مری کٹیا تجھے گھر گئی ہے کتنے زرداروں کے بیچ دیکھ کر دشمن مرا رونے لگا کھلکھلایا میں جو انگاروں کے بیچ کیا کرے گا سر پکڑنے کے سوا اک مسیحا اتنے بیماروں کے بیچ جانے کیوں دیوار ٹیڑھی ہو گئی اور وہ ...

مزید پڑھیے

ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگ

ویسے تو بے شمار ہیں قامت کشیدہ لوگ گنتی ہوئی تو رہ گئے بس چیدہ چیدہ لوگ دستار کے حصول کا کوئی تو ہو جواز کس زعم میں ہیں مبتلا یہ سر بریدہ لوگ اے کاش اپنی موت ہی مرتے تو تھا مزا جاں سے گزر گئے ہیں جو مردم گزیدہ لوگ کوئی تو پشتی بان ہے ان کا یہیں کہیں کب بیٹھتے ہیں چین سے دامن ...

مزید پڑھیے

کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہے

کیوں تیرگی پہ تم کو گماں چاندنی کا ہے آخر یہ رنگ روپ کہاں چاندنی کا ہے ظلمت کا اشتہار بنے پھر رہے ہیں ہم سوچو اگر تو یہ بھی زیاں چاندنی کا ہے یہ روشنی کا شہر ہے کیسا کہ اب یہاں دیکھا جسے بھی نوحہ کناں چاندنی کا ہے اس شہر بے چراغ سے آؤ نکل چلیں وہ اس لئے کہ شور یہاں چاندنی کا ...

مزید پڑھیے

سمجھے ہیں مثل کاہ مجھے مارتے ہیں لوگ

سمجھے ہیں مثل کاہ مجھے مارتے ہیں لوگ کتنے ہیں کم نگاہ مجھے مارتے ہیں لوگ اتنا بھی احتجاج گوارا نہیں انہیں بھرتا ہوں جب بھی آہ مجھے مارتے ہیں لوگ مانا کہ تیرے عدل کا ڈنکا ہے چار سو لیکن اے کج کلاہ مجھے مارتے ہیں لوگ طے ہے کہ پھر گرا دیا جاوں گا چاہ میں پہلے برون چاہ مجھے مارتے ...

مزید پڑھیے

جھوٹ کے پاؤں

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے صرف پاؤں ہی نہیں کوئی بھی عضو نہیں ہوتا سوائے زبان کے جو بڑی ڈھٹائی بے شرمی اور بے حیائی سے چلتی ہے ایوان بالا کے اندر اور باہر منچوں میں یا ٹی وی کے مذاکروں اخبار کی سرخیوں اور انٹرویوؤں میں تاکہ معصوم امن پسند سادہ لوح انسانوں کو ورغلا کر ہلاکت میں ڈال ...

مزید پڑھیے

اس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کو

اس طرح مرجھا گئے کچھ پھول چہرے رات کو دھوپ آنگن میں اتر آئی ہو جیسے رات کو عمر بھر سورج بھی جن کی دید سے قاصر رہے ان حیا داروں کے اٹھتے ہیں جنازے رات کو زیست کا سرمایہ ہے یادیں انہی لمحات کی ماؤں سے جب لوریاں سنتے تھے بچے رات کو بن گئے ہیں رہزنوں کے واسطے جائے اماں اور مسافر کے ...

مزید پڑھیے

یہ نظارہ نہ دیکھا تھا فراز بام سے پہلے

یہ نظارہ نہ دیکھا تھا فراز بام سے پہلے نکلتا ہے کوئی سورج غروب شام سے پہلے اسی کے نام کر ڈالے ہیں میں نے رت جگے اپنے کسی کا نام لیتا ہے جو میرے نام سے پہلے تمہارے آتشیں لہجے سے ہم خائف نہیں لیکن ہماری بات تو سن لو ذرا آرام سے پہلے سکوت شہر خاموشاں بھی جس پر رشک فرمائے کچھ ایسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 339 سے 6203