قومی زبان

میں ترا ہی آئنہ ہوں اور بس

میں ترا ہی آئنہ ہوں اور بس تجھ کو دیکھا چاہتا ہوں اور بس کیوں سمجھتے ہو مجھے منزل نما ٹیڑھا‌ میڑھا راستا ہوں اور بس ہے ابھی محدود میری آگہی میں تو اتنا جانتا ہوں اور بس کوئی تو کھولے مری پیچیدگی میں کسی کا زائچہ ہوں اور بس اب کسی ترمیم کا مت سوچنا میں مکمل فیصلہ ہوں اور ...

مزید پڑھیے

ہوا کی چال چل جائے گا تو بھی

ہوا کی چال چل جائے گا تو بھی خبر کیا تھی بدل جائے گا تو بھی کہاں ٹھہری ہے خواہش کوئی دل میں مرے دل سے نکل جائے گا تو بھی مخاطب ہوں جمال یار تجھ سے مثال ماہ ڈھل جائے گا تو بھی بس اپنے تجربے کی روشنی میں میں سمجھا تھا سنبھل جائے گا تو بھی ہنسے تو لاکھ میری طفلگی پر کھلونوں سے بہل ...

مزید پڑھیے

دل کے لٹنے پہ کیا کرے کوئی

دل کے لٹنے پہ کیا کرے کوئی کس سے جا کر پتہ کرے کوئی سوچتا ہوں کہ کس بھروسے پر جان تم پر فدا کرے کوئی یعنی عمر خضر تو حاصل ہو چند سانسوں کا کیا کرے کوئی ایک ہی تو صدائے مجنوں ہے میرے دکھ کی دوا کرے کوئی اس پہ لازم اسی کا ہو جانا جس کو کچھ بھی عطا کرے کوئی کوئی رستہ نکل ہی آتا ...

مزید پڑھیے

میں جینا چاہتا ہوں مگر

میں جینا چاہتا ہوں مگر کیڑے مکوڑوں اور بے مایہ مخلوقات کی طرح رینگ رینگ کر نہیں! میں جینا چاہتا ہوں مگر اپنے باطن میں کلبلاتے شر پر ظاہری اخلاق کی ردا ڈال کر نہیں میں جینا چاہتا ہوں مگر ایسے نہیں کہ میرے وجود کے اندر بغض ہوس اور ریا کاری کی بارودی سرنگیں بچھی ہوں اور ہر لحظہ ہر ...

مزید پڑھیے

خود فریبی

چلو اچھا ہوا کہ میرے خواب کی یہ پھیلی دور تک دیوار تو ٹوٹی کہ اس میں ان گنت شبہات کے خود ساختہ بے کار سے پودے نکل آئیں دراڑیں بھی عداوت کی کئی گہری ابھر آئیں مگر اک بات تھی پھر بھی کبھی میں جب حقیقت کی چمکتی چلچلاتی دھوپ سے بیزار ہوتا اور جھلستا تو اس کے سائے میں گھڑی بھر کو پناہ ...

مزید پڑھیے

خود شناسی

میں اندھیرے کی پھیلی ہوئی کھائیوں میں جو گم ہو گیا ہوں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مجھ میں ضیا بار کرنوں کا فقدان ہے یا روشنی کی تمازت کو سہنے کا حامل نہیں ہوں حقیقت تو یہ ہے جسے روشنی کا تم منبع سمجھ کر ازل سے طواف مکرر میں مصروف ہو وہ تمہارے ہی اندر کی سمٹی ہوئی تاریکیوں کے سوا کچھ ...

مزید پڑھیے

واہمہ

ذرا دیکھو مری آنکھوں کے آنگن میں کہیں کچھ خواب کے منظر امیدوں کی ہری بیلیں تمناؤں کی روپہلی چمکتی دھوپ تو پھیلی نہیں ہے یا کہیں کوئی یہ بنجر سا خرابہ ہے جہاں شبہات کے آسیب بستے ہیں!

مزید پڑھیے

انتباہ

اے میرے بیٹو! میں سوچتی ہوں کہ قدموں سے میں اپنے تن کے حیات آگیں لہو کے چشمے بہا رہی ہوں تمہارے سارے نزار جسموں نحیف ذہنوں کی مردنی کو مٹا رہی ہوں ازل سے اپنے ضعیف چہرے کی آڑی ترچھی سی جھریوں کی لکیر میں تو اداس آنکھوں ملول پلکوں سے ٹپکے قطرے ملا رہی ہوں حسین خوابوں کے بوڑھے ...

مزید پڑھیے

تیری یادیں بھی نہیں غم بھی نہیں تو بھی نہیں

تیری یادیں بھی نہیں غم بھی نہیں تو بھی نہیں کتنی ویران ہے یہ آنکھ کہ آنسو بھی نہیں میرے دل کو مرے احساس کو چھو جاتی تھی بھیگے بھیگے ترے بالوں کی وہ خوشبو بھی نہیں ہائے وہ پہلے پہل تیری جدائی کی گھڑی اب تو پینے کی کوئی چاہ کوئی خو بھی نہیں جو غم دہر کی راہوں کو حسیں تر کر دے بہکے ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ پھیلتی جاتی ہے رات

لمحہ لمحہ پھیلتی جاتی ہے رات قطرہ قطرہ زہر ٹپکاتی ہے رات مسکرا کر ساتھ ہو لیتا ہے دن جب بھی تنہا چھوڑ کر جاتی ہے رات تیری قربت کی ملائم دھوپ کو ساتھ بستر پر بھی لے آتی ہے رات قبل اس کے لوٹ کر آؤں میں گھر جسم سے اس کے لپٹ جاتی ہے رات دن کھڑا ہے ہاتھ میں خنجر لئے جاتے جاتے یہ بتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 340 سے 6203