قومی زبان

اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھا

اک بے پناہ رات کا تنہا جواب تھا چھوٹا سا اک دیا جو سر احتساب تھا رستہ مرا تضاد کی تصویر ہو گیا دریا بھی بہہ رہا تھا جہاں پر سراب تھا وہ وقت بھی عجیب تھا حیران کر گیا واضح تھا زندگی کی طرح اور خواب تھا پہلے پڑاؤ سے ہی اسے لوٹنا پڑا لمبی مسافتوں سے جسے اجتناب تھا پھر بے نمو زمین ...

مزید پڑھیے

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے

دولت درد سمیٹو کہ بکھرنے کو ہے رات کا آخری لمحہ بھی گزرنے کو ہے خشت در خشت عقیدت نے بنایا جس کو ابر آزار اسی گھر پہ ٹھہرنے کو ہے کشت برباد سے تجدید وفا کر دیکھو اب تو دریاؤں کا پانی بھی اترنے کو ہے اپنی آنکھوں میں وہی عکس لیے پھرتے ہیں جیسے آئینۂ مقسوم سنورنے کو ہے جو ڈبوئے گی ...

مزید پڑھیے

پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی

پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہوتا کوئی شخص خود کو یہ بات بتانے میں بہت دیر لگی ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی آگ ہی آگ تھی اور لوگ بہت چاروں طرف اپنا تو دھیان ہی آنے میں بہت دیر ...

مزید پڑھیے

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو

ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو مری یکسوئی کو آمدۂ زنجیر کرو سب خد و خال مرے دھند ہوئے جاتے ہیں صبح کے رنگ سے آؤ مجھے تصویر کرو جیتنا میرے لیے کرب ہوا جاتا ہے مرے پندار کو توڑو مجھے تسخیر کرو اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہے مرے اندر جو کھنڈر ہے اسے تعمیر کرو اب مری آنکھ سے لے ...

مزید پڑھیے

عطائے ابر سے انکار کرنا چاہیئے تھا

عطائے ابر سے انکار کرنا چاہیئے تھا میں صحرا تھی مجھے اقرار کرنا چاہیئے تھا لہو کی آنچ دینی چاہیئے تھی فیصلے کو اسے پھر نقش بر دیوار کرنا چاہیئے تھا اگر لفظ و بیاں ساکت کھڑے تھے دوسری سمت ہمیں کو رنج کا اظہار کرنا چاہیئے تھا اگر اتنی مقدم تھی ضرورت روشنی کی تو پھر سائے سے اپنے ...

مزید پڑھیے

سانحہ قسمتوں کے دریچوں میں لپکے گا چھپ جائے گا بات ٹل جائے گی

سانحہ قسمتوں کے دریچوں میں لپکے گا چھپ جائے گا بات ٹل جائے گی سب مسافر گھروں کو پلٹ جائیں گے غم کی وحشت خوشی میں بدل جائے گی ہم ستاروں کی مانند ٹوٹیں گے اور آسماں پر لکیریں بنا جائیں گے موت کا رقص کرتی ہوئی ایک ساعت رکے گی کہیں پھر سنبھل جائے گی سارے بکھرے ہوئے لفظ کوئی اٹھا ...

مزید پڑھیے

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہے

افق تک میرا صحرا کھل رہا ہے کہیں دریا سے دریا مل رہا ہے لباس ابر نے بھی رنگ بدلا زمیں کا پیرہن بھی سل رہا ہے اسی تخلیق کی آسودگی میں بہت بے چین میرا دل رہا ہے کسی کے نرم لہجے کا قرینہ مری آواز میں شامل رہا ہے میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں جو میری بات کا حاصل رہا ہے کسی کے دل کی ...

مزید پڑھیے

کبھی ایسا بھی کرنا

کبھی ایسا بھی کرنا شام کی دہلیز پر پل بھر کو رکنا ڈوبتے سورج کا منظر دیکھنا اور سوچنا کہ شام کی گہری اداسی کا سبب کیا ہے مسافر جب تھکا ہارا سر منزل کبھی تنہا اترتا ہے تو کیا محسوس کرتا ہے

مزید پڑھیے

مذہب انسانیت

ہندو مسلم سکھ عیسائی سب مل کر اک گیت لکھیں گے گیت کی دھن پر عہد کریں گے ساری نفرت بھول کے ہم اک ہو جائیں گے اک دوجے کے دکھڑوں میں ہم کھو جائیں گے تم بھی انساں ہم بھی انساں پیار ہی ہے ہم سب کا ایماں نیا مذہب تشکیل کریں گے اب نہ کوئی بت ہم پوجیں گے جگ میں انساں راج رہے گا یکجہتی کا تاج ...

مزید پڑھیے

نوحہ

زیست اور موت کی سرد و ویران سی دو قیامت نما سرحدیں اور پہلو میں ان سرحدوں کے وہ دھندلی سی بجھتی ہوئی اک لکیر جس کی دہلیز پر آخری سانس لیتے ہوئے روٹھ کر ہم سے کوئی جو اس مختصر فاصلے سے گزر جائے گا لوٹ کر وہ نہیں آئے گا سرد راتوں میں ہم اس کو آواز دیں تو جواباً ہمیں گونج کی صورت اپنی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 338 سے 6203