قومی زبان

وہ ہوئے ایسے مہرباں مجھ پر

وہ ہوئے ایسے مہرباں مجھ پر بار ہونے لگا جہاں مجھ پر کتنی شفاف زندگانی تھی اب تو چھانے لگا دھواں مجھ پر اس نے آ کر نہ کچھ صفائی دی قصے ہوتے رہے بیاں مجھ پر گل کے مانند یہ سراپا تھا جانے کب آ گئی خزاں مجھ پر میرے دم سے چمن میں رنگت تھی رشک کرتی تھیں تتلیاں مجھ پر میں جہاں سے ...

مزید پڑھیے

میری آواز کو نہ قید کرو

میری آواز کو نہ قید کرو عزم پرواز کو نہ قید کرو ہے روش میری زخم دل لکھنا میرے انداز کو نہ قید کرو کسی انجام بد کے خدشے میں حسن آغاز کو نہ قید کرو تم نظر کو چرا کے یوں مجھ سے اک حسیں راز کو نہ قید کرو ہے مقید یہ ذات رسموں میں دل جانباز کو نہ قید کرو

مزید پڑھیے

رات آنکھوں میں خواب آئے تھے

رات آنکھوں میں خواب آئے تھے مسکراتے جناب آئے تھے جس میں مرقوم تھا وفا کا سبق پھر وہ لے کر کتاب آئے تھے ان کے ہونٹوں نے جب غزل چھیڑی میرے رخ پر گلاب آئے تھے پھول کھلنے لگے تھے صحرا میں سامنے پھر سراب آئے تھے میرے حصہ میں ہر خوشی آئی غم بھی کچھ بے حساب آئے تھے میرے ارمان بہہ ...

مزید پڑھیے

بے حال دل کا حال کروں تو غزل کہوں

بے حال دل کا حال کروں تو غزل کہوں جینے کا پھر ملال کروں تو غزل کہوں دل تو مثال سنگ ہے ٹوٹے گا کیا بھلا خستہ جگر کا حال کروں تو غزل کہوں یہ رنگ چار روزہ ہے رعنائی چار روز جو حسن لا زوال کروں تو غزل کہوں ہے لطف اس میانہ روی میں بھلا کہاں کچھ امر با کمال کروں تو غزل کہوں موسم نہ سرد ...

مزید پڑھیے

زندگی میں ضبط پیدا کر دیا

زندگی میں ضبط پیدا کر دیا اس کے غم نے دیکھیے کیا کر دیا عقل و دل نے گو چھپایا راز کو آنسوؤں نے پھر بھی رسوا کر دیا اس کی آہٹ تھی یا میرا وہم تھا دل میں جس نے حشر برپا کر دیا جب چلی تھی ساتھ میں اک آس تھی راستے نے مجھ کو تنہا کر دیا کس کی نظریں پھر مسیحا بن گئیں کس نے میرے دل کو ...

مزید پڑھیے

کوئی تو بات ہوگی تمہاری نگاہ میں

کوئی تو بات ہوگی تمہاری نگاہ میں دل جو نہ رہ سکا تھا ہماری پناہ میں تم سے تو یوں ہوا نہیں سرزد کوئی قصور ہوگی کوئی کمی ہی ہماری نباہ میں ہم کیوں کریں تمہاری وفا سے کوئی گلہ جب خود ہی کھو گئے تھے زمانے کی چاہ میں تم نے دیا تھا ساتھ مگر ہم نہ چل سکے ہم کو نجات کب ملی کانٹوں سے راہ ...

مزید پڑھیے

نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی

نہ کی جفاؤں میں اس نے کوئی کسر پھر بھی لگے ہوئے تھے امیدوں کو میری پر پھر بھی تمہاری یاد سے وابستہ ہے حیات مری کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی تم اپنے گرد فصیلیں بنا کے بیٹھے ہو ہوا تو ہوگا مری یاد کا گزر پھر بھی چراغ آنکھوں کے ویران ہوتے جاتے ہیں تمہاری راہ سے اٹھتی نہیں ...

مزید پڑھیے

کہئے کن لفظوں میں اشکوں کی کہانی لکھوں

کہئے کن لفظوں میں اشکوں کی کہانی لکھوں معترض آپ لہو پر ہیں تو پانی لکھوں ان کو اپنا سا لگے اور ہو قصہ میرا دل کی خواہش ہے کہ اک ایسی کہانی لکھوں داغ جتنے بھی ہیں گل زار تمنا میں میرے پھول کی طرح انہیں تیری نشانی لکھوں لاکھ افسانے تراشے ہیں نئے دنیا نے میں تو جب جب بھی لکھوں بات ...

مزید پڑھیے

پاس ہوتے ہوئے جدا کیوں ہے

پاس ہوتے ہوئے جدا کیوں ہے اس قدر ہم سے وہ خفا کیوں ہے توبہ کر لی جب اس نے پینے سے جانب مے کدہ گیا کیوں ہے نکہت گل چمن میں ہے موجود جانے آوارہ پھر صبا کیوں ہے مجھ پہ جور و ستم ہی اچھے تھے مہرباں اب وہ بے وفا کیوں ہے ہیں سبھی پر تمہارے مہر و کرم مجھ پہ لیکن ستم روا کیوں ہے زلف ...

مزید پڑھیے

بتاؤں میں تمہیں آنکھوں میں آنسو یا لہو کیا ہے

بتاؤں میں تمہیں آنکھوں میں آنسو یا لہو کیا ہے کبھی اے کاش تم پوچھو کہ میری آرزو کیا ہے میں تیری آہٹیں پاتا ہوں کلیوں کے چٹکنے میں گلستاں میں بجز جلووں کے تیرے رنگ و بو کیا ہے اسی کو درد کہتا ہے اسی کو درد کا درماں نہیں یہ عشق تو اے دل بتا پھر جستجو کیا ہے صفائی پیش کرتے ہو جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 334 سے 6203