وہ ہوئے ایسے مہرباں مجھ پر
وہ ہوئے ایسے مہرباں مجھ پر بار ہونے لگا جہاں مجھ پر کتنی شفاف زندگانی تھی اب تو چھانے لگا دھواں مجھ پر اس نے آ کر نہ کچھ صفائی دی قصے ہوتے رہے بیاں مجھ پر گل کے مانند یہ سراپا تھا جانے کب آ گئی خزاں مجھ پر میرے دم سے چمن میں رنگت تھی رشک کرتی تھیں تتلیاں مجھ پر میں جہاں سے ...