قومی زبان

کیا سر تحریر ہے اور کیا پس تحریر دیکھ

کیا سر تحریر ہے اور کیا پس تحریر دیکھ یعنی ہر اک تخریب کے پردے میں اک تصویر دیکھ تھی ہر اک تخریب کے پردے میں اک تعمیر دیکھ غور سے ماضی میں اپنے حال کی تصویر دیکھ کون پابند وفا ہے کون ہے ننگ وفا شمع کی آغوش میں پروانے کی تقدیر دیکھ بن گیا ہے آج کی تہذیب کا یہ آئنہ ہر بدی کی نیکیوں ...

مزید پڑھیے

خدا را آ کے مری لو خبر کہاں ہو تم

خدا را آ کے مری لو خبر کہاں ہو تم مرے حبیب مرے چارہ گر کہاں ہو تم نہ راستوں کی خبر اور نہ منزلوں کا پتہ کہاں میں جاؤں مرے راہ بر کہاں ہو تم اے باغ دل کے ملنسار باغبان ضعیف درخت دینے لگے ہیں ثمر کہاں ہو تم سنائی دیتی ہے ہر پل مجھے تری آواز دکھائی کیوں نہیں دیتے مگر، کہاں ہو ...

مزید پڑھیے

درد حد سے سوا دیا تو نے

درد حد سے سوا دیا تو نے میرا رتبہ بڑھا دیا تو نے درد و غم ہی سہی خوشی نہ سہی مجھ کو جو کچھ دیا دیا تو نے راحت افزا لگا مجھے ہر غم درد ایسا جگا دیا تو نے نام دے کر غم محبت کا کیوں فسانہ بنا دیا تو نے دل میں آیا تو اس طرح آیا دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے جس کی حسرت کلیم رکھتے تھے مجھ ...

مزید پڑھیے

چپ رہوں کیسے میں برباد جہاں ہونے تک

چپ رہوں کیسے میں برباد جہاں ہونے تک راز کو راز ہی رکھنا ہے بیاں ہونے تک کیا خبر تھی تری محفل میں یہ حالت ہوگی تو اٹھا دے گا مجھے درد عیاں ہونے تک خوش نصیبی یہ مری ہے کہ وہ گھر آئے ہیں شمع تو ساتھ نبھا وقت اذاں ہونے تک کوئی خاموش صدا دور بلاتی ہے مجھے کاش میں زندہ رہوں درد بیاں ...

مزید پڑھیے

خون تمنا رنگ لایا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

خون تمنا رنگ لایا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے تنہائی میں وہ رویا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے سب کے چہرے پر چہرہ تھا میں کس کو اپنا کہتا کوئی مجھے بھی ڈھونڈ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے جس نے میرا گھر لٹنے میں چوروں کی اگوائی کی وہ میرا ہی ہمسایہ ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے محفل ہے انگشت بدنداں ...

مزید پڑھیے

رو بہ رو ہیں وہ دیکھتا کیا ہے

رو بہ رو ہیں وہ دیکھتا کیا ہے حال دل کہہ دے سوچتا کیا ہے ہے وفا دل میں یا جفا کیا ہے صاف کہئے کہ ماجرا کیا ہے ان کو بھولے ہوئے زمانہ ہوا پھر یہ پہلو میں درد سا کیا ہے ہیں بھکاری سبھی ترے در کے شاہ کیا چیز ہے گدا کیا ہے میری رسوائی جہاں کے سوا تیری شہرت میں اور کیا کیا ہے آبرو ...

مزید پڑھیے

تمہاری جستجو کی ہے وہاں تک

تمہاری جستجو کی ہے وہاں تک نہیں پہنچے جہاں وہم و گماں تک جو رشتے تھے ہمارے درمیاں تک وہ لے آئے ہمیں اب امتحاں تک محبت میں مقام آیا ہے کیسا عیاں ہونے کو ہے راز نہاں تک نہیں ملتا ترا ثانی کہیں بھی نظر پہنچی ہے اپنی کہکشاں تک پلٹ کر جب کبھی دیکھا تو سمجھا کہاں سے آ گئے ہیں ہم کہاں ...

مزید پڑھیے

محبت درد دیتی ہے

میں ہمیشہ سوچتی تھی آنسو اور درد ہمیں نفرتوں سے ہی ملتے ہیں اگر نفرتیں نہ ہوں تو یہ آنسو بھی نہ ہوں اور درد بھی نہ ہو مگر جب اس کی محبت کا چاہت کا اور اعتبار کا موسم بیتا تب آنکھیں کھلیں احساس ہوا کہ درد صرف نفرتوں میں ہی نہیں ہوتا محبت بھی انسان کو سراپا درد بنا دیتی ہے محبت درد ...

مزید پڑھیے

وہ لمحہ کیسا ہوتا ہے

جو بار آور نہیں ہوتا وہ لمحہ کیسا ہوتا ہے جو رنگ و خوشبوؤں کے آبگینے توڑ دیتا ہے جو یادوں کی کھلی آنکھوں کو اپنے سرد ہاتھوں کے اثر سے موند دیتا ہے جو دن کی روشنی میں شب کی آمیزش سے ایسی ساعتیں تخلیق کرتا ہے جو آسودہ ہی ہوتی ہیں نہ افسردہ ہی ہوتی ہیں کبھی ہنستی کبھی بے طرح روتی ...

مزید پڑھیے

تمہارے پھول تازہ ہیں

تمہارے پھول تازہ ہیں مری سب انگلیوں پر اگ رہے ہیں اور یہ شاخیں یہ میری انگلیاں کیسی ہری ہیں ان کی شریانوں میں بہتا رنگ پھولوں کے لبوں سے بہہ رہا ہے قطرہ قطرہ ایک بے موسم کہانی کہہ رہا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 335 سے 6203