کرم کے اس دور امتحاں سے وہ دور مشق ستم ہی اچھا
کرم کے اس دور امتحاں سے وہ دور مشق ستم ہی اچھا نہ زندگی کی خوشی ہی اچھی نہ بے ثباتی کا غم ہی اچھا تلاش کی سعئ رائیگاں پر نظر تو آتے ہیں غرق حیرت سخن طرازیٔ رہنما سے سکوت نقش قدم ہی اچھا ضیائے نور یقیں ہے رہبر حیات کی تیرہ وادیوں میں بجھا کے دیکھیں بجھانے والے چراغ طاق حرم ہی ...