یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہے
یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہے وہ جس نے آنا نہیں انتظار اس کا ہے رکی ہوں زخم کے رقبے میں اپنی مرضی سے یہ جانتی ہوں کہ قرب و جوار اس کا ہے کسی خسارے کے سودے میں ہاتھ آیا تھا سو ایک قیمتی شے میں شمار اس کا ہے فقط فراق تو اتنا نشہ نہیں رکھتا میں لڑکھڑائی ہوں جس سے خمار اس کا ...