قومی زبان

یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہے

یہ کمرہ اور یہ گرد و غبار اس کا ہے وہ جس نے آنا نہیں انتظار اس کا ہے رکی ہوں زخم کے رقبے میں اپنی مرضی سے یہ جانتی ہوں کہ قرب و جوار اس کا ہے کسی خسارے کے سودے میں ہاتھ آیا تھا سو ایک قیمتی شے میں شمار اس کا ہے فقط فراق تو اتنا نشہ نہیں رکھتا میں لڑکھڑائی ہوں جس سے خمار اس کا ...

مزید پڑھیے

جنہیں نگاہ اٹھانے میں بھی زمانے لگے

جنہیں نگاہ اٹھانے میں بھی زمانے لگے وہ جا بجا مری تصویر کیوں سجانے لگے ہوا ہے طے وہ سفر ایک جست میں مجھ سے کہ جس پہ پاؤں بھی دھرتے تجھے زمانے لگے ترے بدن کی طبیعت سے واقفیت ہے میں جان جاؤں اگر مجھ سے تو چھپانے لگے خدا کرے کہ کہیں تجھ کو تیری فطرت سا کوئی ملے کبھی پھر میری یاد ...

مزید پڑھیے

اک دل میں تھا اک سامنے دریا اسے کہنا

اک دل میں تھا اک سامنے دریا اسے کہنا ممکن تھا کہاں پار اترنا اسے کہنا ہجراں کے سمندر میں ہیولیٰ تھا کسی کا امکاں کے بھنور سے کوئی ابھرا اسے کہنا اک حرف کی کرچی مرے سینے میں چھپی تھی پہروں تھا کوئی ٹوٹ کے رویا اسے کہنا مدت ہوئی خورشید گہن سے نہیں نکلا ایسا کہیں تارا کوئی ٹوٹا ...

مزید پڑھیے

وہ زخم پھر سے ہرا ہے نشاں نہ تھا جس کا

وہ زخم پھر سے ہرا ہے نشاں نہ تھا جس کا ہوئی ہے رات وہ بارش گماں نہ تھا جس کا ہوائیں خود اسے ساحل پہ لا کے چھوڑ گئیں وہ ایک ناؤ کوئی بادباں نہ تھا جس کا کشید کرتا رہا ہجرتوں سے درد کی مے کوئی تو تھا کہ کہیں ہم زباں نہ تھا جس کا اسی کے دم سے تھی رونق تمام بستی میں کہ خندہ لب تھا مگر ...

مزید پڑھیے

درد کی لہر تھی گزر بھی گئی

درد کی لہر تھی گزر بھی گئی اس کے ہم راہ چشم تر بھی گئی اک تعلق سا تھا سو ختم ہوا بات تھی ذہن سے اتر بھی گئی ہم ابھی سوچ ہی میں بیٹھے ہیں اور وہ آنکھ کام کر بھی گئی ہجر سے کم نہ تھی وصال کی رت آئی بے چین سی گزر بھی گئی ضبط کا حوصلہ بہت تھا مگر اس نے پوچھا تو آنکھ بھر بھی گئی

مزید پڑھیے

شام کو اس نے میری خاطر سجنا چھوڑ دیا

شام کو اس نے میری خاطر سجنا چھوڑ دیا میں نے بھی دفتر سے جلدی آنا چھوڑ دیا کب تک اس کے ہجر میں آنکھیں روتیں آخر کو دریا نے بھی اپنے رخ پر بہنا چھوڑ دیا پہلے پہلے ہم نے کہنا سننا چھوڑا تھا ہوتے ہوتے ہم نے باتیں کرنا چھوڑ دیا اس نے خواب میں آنے کی امید بندھائی ہے ہجر کی شب کو میں نے ...

مزید پڑھیے

تعلق اس سے اگرچہ مرا خراب رہا

تعلق اس سے اگرچہ مرا خراب رہا قسم سفر کی وہی ایک ہم رکاب رہا سمجھ سکا نہ اسے میں قصور میرا ہے کہ میرے سامنے تو وہ کھلی کتاب رہا میں ایک لفظ بھی لیکن نہ پڑھ سکا اس کو اگرچہ وہ بھی مرا شامل نصاب رہا میں معرفت کے ہوں اب اس مقام پر کہ جہاں کیا گناہ بھی تو خدشۂ ثواب رہا حقیقتوں سے ...

مزید پڑھیے

کوئی اچھی خبر آتی نہیں ہے

کوئی اچھی خبر آتی نہیں ہے شب غم کی سحر آتی نہیں ہے وہ مست راحت خواب سحر ہیں جنہیں یاد سفر آتی نہیں ہے کہیں پر تو یقیناً ہے خرابی بظاہر جو نظر آتی نہیں ہے میں سب کی خیر مانگوں اس یقیں سے دعا تو لوٹ کر آتی نہیں ہے یشبؔ کو دل سے ہجرت راس ہے اب کسی صورت وہ گھر آتی نہیں ہے

مزید پڑھیے

دہشت گرد بناتے ہو

بینائی بھی اپنی میری خواب بھی میرے اپنے ہیں بینائی بھی سچی میری خواب بھی میرے سچے ہیں ان دونوں کی لذت سچی اور اذیت بھی سچی مجھ کو یہ معلوم تو ہے کہ تم میرے اور مجھ جیسے لاکھوں لوگوں کے خوابوں سے نفرت کرتے رہتے ہو اور اس کی تعبیر کے بدلے بھوک افلاس غریبی اور محرومی کے دروازے وا ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی نہیں ہے پاس مرے اب سوائے یاد

کچھ بھی نہیں ہے پاس مرے اب سوائے یاد شعلہ سا جل رہا ہے در دل متاع یاد تنہائیوں میں بھی کبھی تنہا نہیں ہوں میں آ بیٹھتی ہے پاس مرے بن بلائے یاد شب بھر میں لطف لیتا رہا ہوں اسی طرح ساری ہی رات چلتی رہی ہے ہوائے یاد ایسے بچھڑ کہ دل میں کوئی بات رہ نہ جائے کیا جانئے کہ پھر کبھی آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 329 سے 6203