آہٹ
تیرا احساس ہے کہ صحن خموشی میں ابھرتی ہوئی آہٹ کوئی
تیرا احساس ہے کہ صحن خموشی میں ابھرتی ہوئی آہٹ کوئی
جب بھی دھرتی کا کوئی حصہ تمہیں چپ سا دکھائی دے تو اس کی خامشی کو بے حسی کو نام مت دو سرد گہری خامشی کا کرب سمجھو اس کے سینے میں دبے لاوے کی زندہ دھڑکنوں کا عکس ممکن ہے تمہیں خود اپنے آدرشوں میں رہ رہ کر نظر آئے
صبح سورج کی کرن کوچہ کوچہ تری امید میں بھٹکاتی ہے شام ہوتے ہی اندھیروں میں بکھر جاتی ہے ٹوٹتی آس کی مانند ترے درد کی لو رات بھر آنکھوں میں رہ رہ کے ابھر آتی ہے صبح سے پہلے دھلی آنکھوں میں بجھ کے رہ جاتی ہے گرم سانسوں کی طرح تجھ سے ملنے کی خلش آج بھی میری رگ و پے میں سلگتی ہے ...
ہوائے صبح نمو دشمن چمن کیسے شکار رشک و رقابت گل و سمن کیسے حصار شام و سحر اور ضبط اہل نفس نظام جبر میں بے بس یہ مرد و زن کیسے نہ کوئی بات ہوئی اور نہ کوئی دل ہی دکھا بجھے بجھے سے یہ شرکائے انجمن کیسے نہ کوئی ہاتھ اٹھا اور نہ کوئی زیر ہوا تو پھر بتاؤ کہ یہ چاک پیرہن کیسے کھلے تو ...
خود پہ الزام کیوں دھرو بابا زندگی موت ہے مرو بابا ریت خوابوں کی ہو کہ درد کے پھول اپنی جھولی میں کچھ بھرو بابا خوف کی دھند گھیر لے گی تمہیں کیا ضروری ہے تم ڈرو بابا جنگ جب ان سے لازمی ٹھہرے ان سے پھر جنگ ہی کرو بابا
جاگے ضمیر ذہن کھلے تازگی ملے چھوٹے گہن کہ مجھ کو مری روشنی ملے کیوں ضبط و احتیاط میں گزرے تمام عمر اس منتشر دماغ کو بس برہمی ملے ہر اجنبی سے شہر میں ڈھونڈو خلوص دل ہر آشنائے شہر سے بے گانگی ملے جہلائے بد زبان بنیں رہبران قوم علمائے خوش کلام کو بس گم رہی ملے اے جذبۂ سپردگی ...
خون کی ایک ندی اور بہے گی شاید جنگ جاری ہے تو جاری ہی رہے گی شاید حاکم وقت سے بیزار یہ جاگی مخلوق جبر و بیداد کو اب کے نہ سہے گی شاید بڑھ کے اس دھند سے ٹکراتی ہوئی تیز ہوا تیرے ملنے کی کوئی بات کہے گی شاید
کوئی بادل تپش غم سے پگھلتا ہی نہیں اور دل ہے کہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں سب یہاں بیٹھے ہیں ٹھٹھرے ہوئے جموں کو لئے دھوپ کی کھوج میں اب کوئی نکلتا ہی نہیں صرف اک میں ہوں جو ہر روز نیا لگتا ہوں ورنہ اس شہر میں تو کوئی بدلتا ہی نہیں
درد اس کا ابھر رہا ہوگا سارا نشہ اتر رہا ہوگا بند آنکھوں کی سرد جھیلوں میں عکس اس کا سنور رہا ہوگا رات سے صلح ہو رہی ہوگی اس کا احساس مر رہا ہوگا
فکر بالیدہ کی ندرت سے نکھرتے ہیں خیال اور اگر ذہن رسا ہو تو سنورتے ہیں خیال عقل کب کرتی ہے فرسودہ خیالوں کو قبول فکر بیدار اگر ہو تو ابھرتے ہیں خیال جدت فکر سے افکار کو ملتی ہے نمو حسن کردار کی راہوں سے گزرتے ہیں خیال ذہن خالق ہے خیالات کا تسلیم مگر ذہن پر صورت الہام اترتے ہیں ...